Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

MPCC Urdu News 13 June 2020

IMG_20190630_195052.JPG

’نسرگ‘ طوفان سے متاثرہ افراد کی راحت رسانی کے لیے

امدادی کاموں میں تیزی لائی جائے: وزیرمحصول بالاصاحب تھورات

علی باغ: گزشتہ ۳ جون کو آئے نسرگ سمندری طوفان سے رائے گڑھ ضلع کے مروڈ، شریوردھن وعلی باغ تعلقہ میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔ ان مقامات پر بہت سے مکانات کے منہدم ہونے کے ساتھ ساتھ درختوںوبجلی کے کھمبے بھی زمین بوس ہوئے ہیں باغات کو شدیدنقصان پہونچا ہے۔ اس طوفان سے متاثرہ لوگوں کو راحت پہونچانے کے لیے حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے امداد کی تقسیم میں تیزی لائی جائے۔ یہ ہدایت آج یہاں ریاست کے وزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے دیئے ہیں۔ وہ طوفان سے ہونے والے نقصانات کا معائنہ کرنے کے لیے آج متاثرہ مقامات کے دورے پر تھے اور مروڈ تعلقہ کے کاشید میں پراکرتی ریسارٹ میں جائزہ میٹنگ سے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر بالاصاحب تھورات نے کہا کہ اس طوفان کی آمدکے انتباہ آتے ہی وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے نے انتظامیہ کو تیار رہنے کا حکم دیدیا تھا۔ اس لیے انتظامیہ تیار تھی۔ جبکہ وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے ، ممبرپارلیمنٹ شردپوار ودیگر وزراءنے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور نقصانات کا جائزہ لیا ۔ اس دورے میں ان کے ساتھ ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی ودیگر عوامی نمائندے بھی شریک تھے۔ متاثرین کی امداد کے لیے اس سے قبل حکومت کا جو پیمانہ تھا ، اسے حکومت نے تبدیل کرتے ہوئے مزید اضافوں کے ساتھ امداد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے کے مطابق جن کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں انہیں ایک لاکھ 50ہزار روپئے، کپڑے ودیگر گھریلوسازوسامان کے لیے مزید 10ہزار روپئے اس طرح کل ایک لاکھ 60ہزار روپئے کا فوری طور پر مدد کیا جارہا ہے۔اس سے قبل قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو فی ہیکٹر 18ہزار روپے دیئے جارہے تھے، جو حکومت نے بڑھا کر 50 ہزار روپے فی ہیکٹر کردیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ کوکن میں زرعی زمینوں کی پیمائش گونٹھے میں کی جاتی ہے، اس لیے فی گونٹھہ کے لیے زیادہ سے زیادہ مدد دینے کے لیے وزیراعلیٰ سے بات چیت کی جائے گی۔ حکومتی امداد کی تقسیم میں تیزی لانے کے لیے انتظامیہ کوشش کررہی ہے۔ متاثرین کو ریلیف فراہم کی جارہی ہے۔ اس امدادی کام میں عوامی نمائندے جو مشورہ دیں گے، ان پر غور کرتے ہوئے انہیں حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔طوفان سے ہونے والے نقصانات کی زیادہ سے زیادہ امداد فراہم کرنے کے لیے مرکزی حکومت سے مزید فنڈ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔