مہاراشٹر انقلاب کی سرزمین ہے، دوبارہ انقلاب لاکر تاریخ رقم کیجئے: ایچ کے پاٹل

اقتدار کے ڈھونگ کرنے والے، سونگ رچانے والے نریندرمودی ’ڈھونگ جی وی‘ ہیں: ناناپٹولے

ناناپٹولے کی قیادت میں ریاست میں کانگریس کا سنہرا دور آئے گا: بالاصاحب تھورات

اگست کرانتی میدان سے مہاراشٹر کانگریس کا ’مودی سرکار چلے جاؤ‘ کا نعرہ، ہزاروں لوگوں کی شرکت

ممبئی: کئی دنوں سے ہورہی تیاریوں کے بعد آج بالآخر کانگریس کے نو منتخب ریاستی صدر ناناپٹولے نے اپنے عہدے کا چارج لے لیا۔ دوپہر میں تلک بھون دادر میں سابق ریاستی صدر بالاصاحب تھورات سے روایتی طور پر چارج حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اگست کرانتی میدان میں باضابطہ طورپر اپنا عہدہ سنبھال لیا۔ اس موقع پر منعقدہ پروگرام میں ریاستی کانگریس کے نگراں ایچ کے پاٹل کے علاوہ کانگریس کے سابق وزرائے اعلیٰ، ریاستی کانگریس کے تمام اہم لیڈران، کانگریس کے ریاستی وزراء، ریاستی کانگریس کے مختلف شعبے وکیڈر کے سربراہان وکارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے جبکہ کانگریسی کارکنان نے اس موقع پر بھرپور جوش وجذبے کا مظاہرہ کیا۔

اگست کرانتی میدان میں اپنے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد اسی تاریخی تیج پال ہال میں جہاں کانگریس کا قیام ہوا تھا اور جہاں سے بابائے قوم مہاتماگاندھی نے انگریزو بھارت چھوڑو کا نعرہ دیا تھا، ناناپٹولے نے کانگریسی لیڈران کی ایک اہم میٹنگ منعقد کی جس میں مرکزی حکومت کے خلاف ’مودی سرکار چلے جاؤ‘ کی قرارداد منظور کی گئی۔ ایچ کے پاٹل، ناناپٹولے، بالاصاحب تھورات، سوشیل کمار شندے، اشوک چوہان وپرتھوی راج چوہان کے دستخط سے جاری قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ”مرکز کی مودی حکومت مسلسل جمہوریت، آئین و پارلیمانی روایت کو ٹھوکروں پررکھتے ہوئے آمرانہ طریقے سے کام کررہی ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد سے مودی حکومت ملک کی عوام کے بجائے کچھ چنندہ سرمایہ داروں کے مفاد کے لیے کام کررہی ہے۔بغیر کسی منصوبہ بندی کے نوٹ بندی وجی ایس ٹی کے نافذ کرنے کے فیصلے سمیت بغیر کسی تیار کے لاک ڈاؤن جیسے فیصلوں کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے اور کروڑوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ کسان مخالف تین زرعی قوانین بناکر مرکزی کی بی جے پی حکومت نے ملک کے کسانوں کو تباہ کرنا شروع کردیا ہے۔ ملک کے لیے اناج اگانے والا کسان تین ماہ سے دہلی کی سرحدوں پر اپنے حقوق وانصاف کے لیے کڑاکے کی سردی سے لڑ رہا ہے، ابھی تک تقریباً ۲سو کسانوں کی موت ہوچکی ہے۔ ان کسانوں کو خالصتانی، نکسل وادی وآتنک وادی قرار دیا گیا۔ ۶ سالوں میں مودی حکومت نے تمام طبقات پر ظلم کررہی ہے۔ اس ظالم حکومت کو اقتدار میں رہنے کا اخلاقی حق نہیں رہ گیا ہے اس لیے اس میٹنگ میں متفقہ طور پر’مودی سرکار چلے جاؤ‘ کی قرارداد منظور کی جارہی ہے“۔

اگست کرانتی میدان میں اپنا عہدہ سنبھالنے سے قبل ناناپٹولے نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف گرگام چوپاٹی سے ٹریکٹر ریلی نکالی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس ریلی مقبولیت کا یہ عالم رہا کہ گرگام چوپاٹی سے لے کر اگست کرانتی میدان تک کی گھٹنوں تک ٹرافک جام رہا۔ اس ریلی میں ناناپٹولے خود ٹریکٹر چلاتے ہوئے اگست کرانتی میدان پہونچے۔ یہاں پر منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر کانگریس کے نگراں ایچ کے پاٹل نے کہا کہ ناناپٹولے کی شناخت ایک ایماندار ومحنتی کسان لیڈر کی ہے۔ کانگریس کی صدر محترمہ سونیا گاندھی وراہل گاندھی نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں ریاستی صدر کی ذمہ داری سونپی ہے اور مجھے یقین ہے کہ ناناپٹولے اس اعتماد پر کھرے اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں عوام مخالف، ملک مخالف وکسان مخالف مودی حکومت ہے جس کی وجہ سے گزشتہ ۶ سالوں سے ملک میں سیاسی وسماجی تانابانا بگڑا ہوا ہے۔ مودی کے دور میں کسانوں پر ظلم ہورہا ہے اور سرمایہ داروں کے کام کیا جارہا ہے۔ اس حکومت کو اقتدار میں رہنے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر ملک کو راہ دکھانے والی ریاست ہے۔ اس ریاست نے تاریخیں رقم کی ہیں۔ جس تیج پال ہال میں یہ میٹنگ منعقد ہورہی ہے اسی تیج پال ہال نے ملک میں آزادی کی تاریخ رقم کی ہے۔ آج اسی ہال سے ایک بار پھر ایک نعرہ دیا جارہا ہے جو ’مودی سرکار چلے جاؤ‘ کا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مہاراشٹر ایک بار پھر آزادی کی اپنی تاریخ دہرائے گا۔

اس موقع پر ناناپٹولے نے کہا کہ ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے لے کر ڈاکٹر منموہن سنگھ تک کی حکومت نے ملک میں بڑے بڑے پروجیکٹ وادارے تعمیر کیے۔ ملک میں ہرطرف ترقی کی گنگابہادی لیکن کانگریس حکومت کے قائم کردہ ایئر انڈیا، بھیل، ایل آئی سی و ریلوے جیسے اہم پروجیکٹ وادارے مودی حکومت فروخت کررہی ہے۔ ممبئی کا چتھرپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس وکوکن ریلوے کو بھی مودی حکومت فروخت کرنا چاہتی ہے۔ ملک کو بیچنے کے لیے مودی کو عوام نے اقتدار نہیں سونپا تھا۔ اب اس کے بعد ہم مودی حکومت کو مہاراشٹر کی ایک بھی سرکاری املاک فروخت نہیں کرنے دیں گے۔ ناناپٹولے نے مزید کہا کہ گزشتہ ۶ سالوں سے مودی حکومت آمرانہ طریقے سے کام کررہی ہے۔ کسان مشکلات کے شکار ہیں اور ان مشکلات کے خلاف آواز اٹھانے والے کسانوں پر ظلم کیا جارہا ہے لیکن نریندرمودی کو اس کی ذرا بھی فکر نہیں ہے۔ اس لیے اس مودی، بی جے پی وآرایس ایس کی اس ظالم حکومت کو ہمیں اقتدار سے بے دخل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے احتجاج کرنے والے کسانوں کو آندولن جیوی کہہ کر توہین کی ہے جبکہ اقتدار کے لیے ڈھونگ کرنے والے، سوانگ رچانے والے مودی ڈھونگ جی وی ہیں۔

اس پروگرام میں ناناپٹولے کے علاوہ نومنتخب کارگزار صدر شیواجی راؤ موگھے، نومنتخب کارگزار صدر عارف نسیم خان، نومنتخب کارگزار صدر چندرکانت ہنڈورے، بسوراج پاٹل، ایم ایل اے پرنیتی شندے، ایم ایل اے کنال پاٹل نے بھی ریاستی کانگریس کے نگراں ایچ کے پاٹل، سابق ریاستی صدر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات، ملک کے سابق ویزرداخلہ سوشیل کمار شندے، سابق ویزراعلیٰ پرتھوی راج چوہان، وزیرتعمیرات وسابق وزیراعلیٰ اشوک چوہان کی موجودگی میں اپنے عہدوں کا چارج لیا۔ جبکہ مذکورہ لیڈران کے علاوہ اس موقع پر وزیرتوانائی ڈاکٹر نتن راؤت، خواتین واطفال بہبود کی وزیر یشومتی ٹھاکور، وزیربرائے طبی تعلیم امیت دیشمکھ، بازآبادکاری کے وزیر وجیے ویڈیٹی وار، مویشی پالن کے وزیر سنیل کیدرا، وزیرتعلیم ورشا گائیکواڑ، وزیرٹیکسٹائیل اسلم شیخ، وزیرزراعت ویشووجیت کدم، جموں وکشمیر کے نگراں رجنی تائی پاٹل، ممبرپارلیمنٹ سریش دھانورکر، ممبئی کانگریس کے صدر بھائی جگتاپ، ودھان پریشد کے سابق چیئرمین مانک راؤ ٹھاکرے، آل انڈیا کانگریس کے سکریٹری ومہاراشٹر کے کوانچارج آشیش دووا، سونل پٹیل، بی ایم سندیپ، وامشی ریڈی، خواتین شعبے کی صدر سندھیا تائی سوالاکھے، یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر ستیہ جیت تانمبے، سیوادل کے صدر ولاس اوتاڈے، کسان کانگریس کے قومی نائب صدر شیام پانڈے، ممبئی کانگریس کے سابق صدر ایکناتھ گائیکواڑ، سابق وزیر باباصدیقی، ریاستی نائب صدر موہن جوشی وکانگریس کے دیگر عہدیداران وکارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے۔

z