کانگریسی حکومت کے ذریعے مسلمانوں کو دیئے گئے ریزرویشن کو فڈنویس حکومت نے ناکام کردیا تھا

ممبئی:ایم آئی ایم کے ذریعے مسلم ریزرویشن کی بحالی کے مطالبے پر ایک جانب جہاں ریاست کی سیاست گرماگئی ہے تو وہیں کانگریس کے کارگزار صدر وسابق وزیر نسیم خان نے ایم آئی ایم پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے بی جے پی کے اشارے پر مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انہو ں نے کہا ہے کہ جوایم آئی ایم آج مسلم ریزرویشن کے مطالبے پر ریلیاں کررہی ہے وہ دو سال قبل فڈنویس کے دورِ حکومت میں خاموش کیوں رہی جس نے مسلم ریزرویشن کو منسوخ کردیا تھا؟واضح رہے کہ گزشتہ کل چاندیولی حلقہئ اسمبلی میں ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی وممبرپارلیمنٹ امتیازجلیل نے ایک ریلی کا انعقاد کرتے ہوئے مسلم ریزرویشن کی بحالی اور وقف املاک کو مسلمانوں کے حوالے کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ نسیم خان اس پراپنے ردعمل کا اظہار کررہے تھے۔

نسیم خان نے کہا کہ کانگریس کی قیادت والی حکومت نے 2014میں مہاراشٹر میں پسماندگی کی بنیاد پر مسلمانوں کو 5فیصد ریزرویشن دیا تھا جسے ممبئی ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔ لیکن جب ریاست میں دیویندر فڈنویس کی حکومت آئی تو اس نے اسے لاگو نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی ابتداء سے ہی مسلم ریزرویشن کے حق میں تھی اور یہی وجہ تھی کہ اس کے دور میں مسلمانوں کو ریزرویشن دیا گیا۔فڈنویس کے دورِ حکومت میں کانگریس نے ہر اسمبلی اجلاس میں مسلم ریزرویشن کا معاملہ اٹھایا لیکن ایم آئی ایم کے ممبرانِ اسمبلی فڈنویس کے پورے دورِ حکومت میں خاموش تماشائی بنے رہے۔اس وقت اسمبلی میں ایم آئی ایم کے دو ممبرانِ اسمبلی تھے جن میں سے ایک امتیازجلیل بھی تھے اور یہ دونوں نے مسلم ریزرویشن کے مطالبے پر نہ یہ کہ کبھی کانگریس کا ساتھ نہیں دیا بلکہ یہ درپردہ بی جے پی کی حمایت بھی کرتے رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس مسلم ریزرویشن کی وجہ سے آج ایم آئی ایم کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہا ہے اس نے کبھی فڈنویس سے اس ضمن میں جواب تک کیوں طلب نہیں کیا؟

نسیم خان نے ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جس کانگریس سے آج وہ ریزرویشن کا مطالبہ کررہے ہیں اسی کانگریس نے ریزرویشن دیا تھااورجس بی جے پی کی شہہ پر وہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے خلاف بول رہے ہیں اسی بی جے پی نے ریزرویشن کوختم کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ریزرویشن کے لیے فڈنویس حکومت کے خلاف کانگریس پارٹی کی پانچ سالہ جدوجہد کے دوران ایم آئی ایم نے ریزرویشن کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اس کے برعکس، ایم آئی ایم کے دونوں ایم ایل ایز نے مسلسل فڈنویس حکومت کی حمایت کی، جس نے مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دیا۔ نسیم خان نے سوال کیا کہ ایم آئی ایم کو صرف الیکشن کے وقت ہی مسلم ریزرویشن کیوں یاد آتا ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور ایم آئی ایم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

نسیم خان نے مزید کہاکہ ایم آئی ایم کی کوشش رہی ہے کہ وہ مسلم قیادت کو نقصان پہنچائے اوراس کے لئے وہ فرقہ پرستوں کی آلہئ کار بنی ہوئی ہے۔ میرے حلقہئ اسمبلی میں ایم آئی ایم نے 12سوووٹ لے کر اگر وہ یہ سوچتی ہے کہ اس نے ایک فرقہ پرست پارٹی کے امیدوار کو کامیاب کرادیا تو یہ کریڈیٹ اسے مبارک ہو۔ لیکن امتیازجلیل نے بھرے اجلاس میں یہ اعتراف کرکے اس بات کو علانیہ طور پر تسلیم کرلیا کہ ایم آئی ایم کی کوشش ہمیشہ مسلمانوں اور اس کی قیادت کو نقصان پہنچانا ہی رہا ہے۔ واضح رہے کہ چاندیولی کی ریلی میں امتیازجلیل نے فخریہ اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ایم آئی ایم نے نسیم خان کو ہرادیا۔ نسیم خان نے کہا کہ مسلمانوں کے ریزرویشن کے لئے آج ایم آئی ایم کی نیندکھلی ہے جبکہ موجودہ حکومت میں بھی میں نے مسلسل مسلمانوں کے ریزرویشن کی بحالی کا مطالبہ جاری رکھا۔ میں نے وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے کو دومرتبہ مکتوب لکھ کر مسلم ریزرویشن کی راہ میں حائل تمام قانونی دشواریوں کو دور کرکے جلدازجلد ریرزویشن بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ نسیم خان نے کہا گوکہ ریاست میں مہاوکاس اگھاڑی حکومت کانگریس کی حمایت سے جاری ہے لیکن جب بات مسلمانوں کی فلاح وبہبود کی ہوگی تو کانگریس کسی بھی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ نسیم خان نے کہا کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن اورریاست بھر میں ہونے والے نگر پنچایت انتخابات سے قبل اویسی مسلمانوں کی ترقی اور ریزرویشن کی بات کرکے اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسد الدین اویسی اور ان کی ایم آئی ایم پارٹی نے اب تک مسلمانوں کے لیے کیا کیا ہے؟۔ نسیم خان نے کہا کہ کہ مہاراشٹر کے مسلمان ذہین اور سمجھدار ہیں اوروہ ایم آئی ایم کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں،وہ ایم آئی ایم لیڈروں کے بہکاوے میں کبھی نہیں آئے گا۔