آرے میں میٹرو کارشیڈقائم کرنے کا بی جے پی حکومت کا فیصلہ

14

ممبئی کے لوگوں کی صحت سے کھلواڑ کرنے والا ہے: ناناپٹولے

کس کے فائدہ پہنچانے کے لیے شہریوں کی زیدگیوں سے کھیلا جارہا ہے، کانگریس کا سوال

ممبئی:بی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومت نے ایکناتھ شندے کے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لینے کے بعد اپنی پہلی کابینہ میں یہ اعلان کرکے ممبئی والوں کو زبردست جھٹکا دیا ہے کہ ممبئی میٹرو کار شیڈ آرے میں ہوگا۔ماحولیات کے تحفظ کے پیشِ نظر آرے کا کارشیڈ کانجورمارگ میں تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی تھی لیکن دوبارہ آرے میں کار شیڈ پر اصرار کرنا ممبئی والوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ ہے۔یہ سخت تنقید مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدرناناپٹولے نے کی ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ماحولیات کا تحفظ کرنے والے اور ممبئی کے لوگ آرے میں میٹرو کار شیڈ کی تعمیر کے سخت مخالف ہیں۔ ممبئی کے لوگوں اور ماحولیات کو بچانے والے ہزاروں لوگوں نے آرے میں کارشیڈنگ کو روکنے کے لیے اس وقت کی فڈنویس حکومت کے خلاف زبردست تحریک چلائی تھی، لیکن پولیس فورس کا استعمال کرتے ہوئے فڈنویس حکومت نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی تھی اور راتوں رات ہزاروں درخت کاٹ ڈالے تھے۔اس کے بعد ریاست میں قائم ہونے والی مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے آرے میں کار شیڈ نہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ کار شیڈ کے لیے کانجور مارگ میں سیکڑوں ایکڑ اراضی پر غور کیا گیا تھا لیکن مرکزی حکومت اور اپوزیشن نے اس میں روکاٹ پیدا کردی۔

ناناپٹولے نے کہا کہ یہ جاننے کے باوجود کہ ممبئی کے لوگ آرے میں کار شیڈ کی مخالفت کریں گے، کار شیڈ پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے گئے اور بڑی تعداد میں درخت کاٹے گئے۔ ہم ترقیاتی کاموں کے خلاف نہیں ہیں، ہم ممبئی میٹرو پروجیکٹ کے خلاف نہیں ہیں۔ میٹرو پروجیکٹ قائم کرنے کا فیصلہ سب سے پہلے کانگریس کی قیادت والی حکومت نے کیا تھا۔ کانگریس پارٹی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی اور نہ ہی اس کی مخالفت کرتی ہے۔ ترقی ہونی چاہئے لیکن اسی کے ساتھ ماحولیات کا تحفظ بھی یقینی ہونا چاہئے اور وہ عوام کے مفاد کا بھی خاص خیال رکھا جانا چاہئے۔ پٹولے نے کہا کہ اگر آرے میں کار شیڈ تعمیر کرنے پر پر اصرار ہے تو عوام کو سمجھنا چاہئے کہ یہ کس کے مفاد کی حفاظت کے لیے ہورہا ہے۔