ممبئی: مراٹھا برادری کے ریزرویشن کو منسوخ کرنے کا سپریم کورٹ کا آج فیصلہ ناقابلِ یقین اورافسوسناک ہے۔ جس گائیکواڑ کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر فڈنویس حکومت نے قانون سازی کی تھی وہ رپورٹ سپریم کورٹ نے مسترد کردیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فڈنویس نے مراٹھا برادری سے جھوٹ بول کر انہیں دھوکہ دیا تھا۔ اسی کے ساتھ اس معاملے کی سماعت میں مودی سرکار کا کردار مشتبہ رہا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہکیا مودی سرکار چاہتی ہے کہ مراٹھا برادری کو ریزرویشن نہ ملے؟ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدرناناپٹولے نے کہی ہیں۔

ناناپٹولے نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے آئین میں جو 102ویں ترمیم کی ہے وہ مراٹھا ریزرویشن کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہے۔ مرکزی حکومت نے 14/اگست2018کو آئین میں 102ویں ترمیم کی تھی جبکہ گائیکواڑ سمیتی نے اپنی رپورٹ 15/نومبر2018کو ریاستی حکومت کو سونپا تھا۔ اس رپورٹ کی بنیادپر30نومبر2018کو ریاستی حکومت نے مراٹھاریزرویشن کا قانون بنایا تھا۔ مرکزی حکومت نے مذکورہ آئینی ترمیم کے بعد قصداً ریاستوں کو اس بات مبہم رکھا کہ ریاستوں کو ریزرویشن دینے کا حق ہے یا نہیں۔ جب پارلیمنٹ میں یہ قانون منظور کیا جارہا تھا تو کئی ممبرانِ پارلیمنٹ نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اس ترمیم سے ریاستوں کو ان کے ریزرویشن دینے کے حق سے محروم کردیا جائے گا۔ لیکن مرکزی وزیرقانون نے کہا تھا کہ ریاستوں کے حقوق ختم نہیں ہونگے۔ مگر سپریم کورٹ میں حکومت کے اٹارنی جنرل نے الگ ہی موقف اختیار کیا اور مرکزی حکومت کے اس قانون کو وہ سپریم کورٹ کو سمجھانے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ اس لیے اگر سپریم کورٹ کا یہ کہنا ہے کہ 102ویں آئینی ترمیم کی وجہ سے ریاستوں کا ریزرویشن دینے کا حق ختم ہوگیا ہے تو اب مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے کا اختیار مرکزی حکومت کی ہے۔ لہٰذا مرکزی حکومت مراٹھا برادری کو ریزرویشن دیے وگرنہ اس کے نہایت دور رس اثرات ہونگے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ گائیکواڑ کمیشن کا تقرر فڈنویس حکومت نے کیا تھا۔ کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر ریزرویشن کا قانون بھی مرکزی حکومت نے ہی بنایا تھا۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ وسپریم کورٹ میں نمائندگی کے لیے وکلاء کا تقرر بھی فڈنویس حکومت نے ہی کیا تھا۔ پھر جب مرکزی حکومت نے 102ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس معاملے میں رکاوٹ پیدا کردی ہے تو پھر فڈنویس اس کی ذمہ داری ریاستی حکومت کے سر کس طرح ڈال سکتے ہیں؟ سچائی یہ ہے کہ فڈنویس نے جھوٹ بول کر مراٹھا برادری کو دھوکہ دے رہے ہیں، انہیں لوگوں کوگمراہ کرنے کی یہ حرکت ترک کردینی چاہیے۔ پٹولے نے کہا کہ یہ صرف مراٹھا برادری کے ریزرویشن کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں ریزرویشن کے لیے جدوجہد کرنے والے سماجی تنظیموں پر بھی اس کا اثر ہوگا۔ مستقبل میں اس طرح کے مطالبات کے لیے مرکزی حکومت کے پاس جانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں رہے گا۔ اس فیصلے کی وجہ سے صرف مراٹھا ہی نہیں بلکہ دیگر برادریوں وطبقات کے بھی حقوق بھی پامال ہونگے۔ ناناپٹولے نے کہا کہ کانگریس کی ابتداء سے ہی یہ موقف ہے کہ مراٹھا برادری کو ریزرویشن ملے۔ ریاستی حکومت کو چاہیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے کے بعد مناسب قدم اٹھائے۔