فون ٹیپنگ کروانے والا رشمی شکلا کا ’بگ باس‘کون؟: اتل لونڈھے

غیرقانونی طریقے سے فون ٹیپ کرنے والی رشمی شکلا پرفوری کارروائی کی جائے

لوگوں کی جاسوسی کروانے کے گجرات ماڈل کو جڑسے اکھاڑ پھینکے کی ضرورت ہے

ممبئی:سینئر پولیس افسر رشمی شکلا کے خلاف غیر قانونی طور پر فون ٹیپ کرنے کا ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ رشمی شکلا کے خلاف اسی طرح کا یہ دوسرا مقدمہ ہے۔ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو بغیر کسی تاخیر کے اس کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کرنی چاہیے۔اس کے علاوہ جس نے رشمی شکلا کو فون ٹیپ کرنے کا حکم دیا وہ ’بگ باس‘ کون ہے؟ اس کی بھی تلاش کی جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کیا ہے۔

؎اس ضمن میں بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ رشمی شکلا کے خلاف پونے میں 2017-18 میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، بچو کڈو اور کچھ دیگر عہدیداروں کے فون غیر قانونی طور پر ٹیپ کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ 2019میں جب ریاست میں مہاوکاس اگھاڑی حکومت کی تشکیل کاعمل جاری تھا شیوسینا کے ایم پی سنجے راوت اور این سی پی لیڈر ایکناتھ کھڈسے کا فون دو ماہ تک ٹیپ کیا گیا تھا۔ممبئی کے قلابہ پولیس اسٹیشن میں رشمی شکلا کے خلاف اس معاملے میں مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ فون ٹیپنگ کا یہ معاملہ نہایت سنگین ہے اور اس بات کا انکشاف ہونا ضروری ہے کہ رشمی شکلا نے مزید کن کن لوگوں کے فون ٹپ کئے اور کس کے کہنے پر انہوں نے یہ غیرقانونی کام کیا۔ لونڈھے نے کہا کہ فون ٹیپنگ کیس کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے اس لئے اس معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے رشمی شکلا کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ کسی کا فون ٹیپ کرنا، شخصی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کسی شخص کی اس طرح جاسوسی کرنے کا گجرات ماڈل جموریت کے لئے نہایت خطرناک ہے۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس وقت کی حکومت کے آشیرواد کے بغیر رشمی شکلا ایسا کرنے کی ہمت ہرگز نہیں کرسکتی تھی۔ اگر اس پورے معاملے کی گہرائی سے چھان بین کی جائے تو لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ رشمی شکلا کا بگ باس کون ہے اور اس پورے معاملے کے اصل چہرے سامنے آ جائیں گے۔ لونڈھے نے کہا کہ لوگوں کی غیر قانونی نگرانی کے گجرات ماڈل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے اور حکومت کواس معاملے میں فوری کارروائی کرنی چاہیے۔