ارن دھتی رائے : میں بھی’اربن نکسل‘ہوں!

0 17
آج کے ہندوستان میں کسی اقلیتی گروپ میں ہونا ایک گناہ ہے۔ مار دیا جانا ایک جرم ہے۔ پیٹ پیٹ کر مار دیا جانا (لنچ کر دیا جانا) ایک جرم ہے۔ غریب ہونا جرم ہے۔ غریبوں کے حق میں کھڑا ہونے اور اس کی پیروی کرنے کا مطلب حکومت کا تختہ پلٹ کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔
(فوٹو : پی ٹی آئی)

(فوٹو : پی ٹی آئی)

30 اگست، 2018 کے اخباروں نے اس سوال کا فیصلہ کر دیا، جس پر ہم پچھلے کچھ وقتوں سے بحث کرتے آ رہے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے پہلے صفحے کی رپورٹ تھی’ کورٹ میں پولیس نے کہا :جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ حکومت کا تختہ پلٹ کرنے کی فسطائیت مخالف سازش میں شامل تھے۔’ہمیں اب تک یہ جان جانا چاہیے کہ ہمارا مقابلہ ایک ایسے نظام سے ہے، جس کو اس کی اپنی ہی پولیس فسطائی کہہ‌کر پکارتی ہے۔

آج کے ہندوستان میں کسی اقلیتی گروپ میں ہونا ایک گناہ ہے۔ مار دیا جانا ایک جرم ہے۔ پیٹ پیٹ کر مار دیا جانا (لنچ کر دیا جانا) ایک جرم ہے۔ غریب ہونا جرم ہے۔ غریبوں کے حق میں کھڑا ہونے اور اس کی پیروی کرنے کا مطلب حکومت کا تختہ پلٹ کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔

جب پولیس نے معروف کارکنوں، شعراء ، وکیلوں اور پادریوں کے گھروں میں ایک ہی وقت میں چھاپا مارا اور پانچ لوگوں کو، جن میں شہری حقوق کی حفاظت کے لئے کام کرنے والے ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ اور دو وکیل شامل تھے،مضحکہ خیز الزامات میں بےحد کم یا بغیر کسی پختہ دستاویز کے گرفتار کر لیا، تب حکومت کو یہ ضرور پتا ہوگا کہ وہ لوگوں کی ناراضگی کو دعوت دے رہی ہے۔

اس نے یہ قدم اٹھانے سے پہلے ہی ہمارے تمام رد عمل، جس میں یہ پریس کانفرنس اور ملک بھر میں ہوئے تمام مزاحمت شامل ہیں، کا اندازہ لگایا ہوگا۔ سوال ہے کہ پھر ایسا کیوں ہوا ہے؟حال ہی میں اصل رائےدہندگان اعداد و شمار کے ساتھ ہی لوک نیتی-سی ایس ڈی ایس-اے بی پی’موڈ آف دی نیشن’سروے نے بھی دکھایا ہے کہ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت تشویشناک طریقے سے (ان کے لئے) گھٹ رہی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک خطرناک وقت میں داخل ہو رہے ہیں۔آنے والے وقت میں مقبولیت میں اس کمی کی وجہوں سے ہمارا دھیان بھٹکانے اور پروان چڑھ رہی حزب مخالف یکجہتی کو توڑنے کی سخت اور مسلسل کوششیں کی جائیں‌گی۔

یہاں سے لےکر انتخابات تک ایک مسلسل سرکس ہماری آنکھوں کے سامنے کھیلا جائے‌گا-جن میں گرفتاریاں، قتل، لنچنگ، بم دھماکے، دوسروں کے بھیس میں جھوٹے حملے، فسادات اور قتل عام شامل ہو سکتے ہیں۔ہم نے انتخابات کے موسموں کے نزدیک آنے کے ساتھ تمام طرح کے تشدد کے شروع ہونے کے ساتھ جوڑنا سیکھ لیا ہے۔

‘پھوٹ ڈالو اور راج کرو ‘، میں’بھٹکاؤ اورحکومت کرو ‘ کی نئی حکمت عملی شامل ہو گئی ہے۔یہاں سے لےکر انتخابات تک، ہمیں یہ نہیں پتا ہے کہ کب اور کہاں سے کوئی آگ کا گولہ ہمارے اوپر گر جائے‌گا اور اس آگ کے گولے کی فطرت کیا ہوگی؟اس لئے،اس سے پہلے کہ میں وکیلوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے بارے میں کچھ بولوں، میں کچھ باتوں کو پھر سے دوہرانے کی اجازت چاہوں‌گی، جن سے ہمیں اپنا دھیان نہیں بھٹکنے دینا ہے، بھلےہی ہم پر آگ کی بارش ہی کیوں نہ ہو رہی ہو یا ہم عجیب و غریب واقعات کے درمیان ہی کیوں نہ گھر جائیں۔

اتنا سب کہہ دینے کے بعد میں حالیہ گرفتاریوں پر آتی ہوں۔ منگل کو جن پانچ لوگوں کو گرفتار کیا گیا-ویرنان گونسالوج، ارون فریرا، سدھا بھاردواج، وراورا راؤ اور گوتم نولکھا-ان میں سے کوئی بھی 31 دسمبر، 2017 کو ہوئے Elgaar Parishad rally میں یا اس کے اگلے دن ہوئی ریلی میں موجود نہیں تھا۔ یہاں تقریبا 300000 لوگ (جن میں زیادہ تر دلت تھے) بھیما کورےگاؤں جیت کی 200وین یوم پیدائش منانے کے لئے جمع ہوئے تھے (دلتوں نے جابرانہ پیشوا حکومت کو ہرانے کے لئے انگریزوں کے ساتھ مل‌کر لڑائی لڑی تھی۔ یہ ان کچھ جیتوں میں سے ہے، جس پر دلت فخر کر سکتے ہیں)۔

Elgaar Parishad rally کا انعقاد دو مشہور سبکدوش ججوں، جسٹس پی بی ساونت اور جسٹس کولسے پٹیل نے کیا تھا۔ اس کے اگلے دن ہوئی ریلی پر ہندتووادی شدت پسندوں نے حملہ کیا، جس سے کئی دنوں تک بدامنی بنی رہی۔ اس معاملے کے دو اہم ملزم ملند ایکبوٹے اور سمبھاجی بھڑے ہیں۔ یہ دونوں ابھی تک کھلے گھوم رہے ہیں۔ جون، 2018 میں ان کی حامیوں کے ذریعے کئے گئے ایک ایف آئی آر کے بعد پونے پولیس نے پانچ سماجی کاکرکنوں-رونا ولسن، سدھیر دھاولے، شوما سین، مہیش راوت اور وکیل سریندر گاڈلنگ کو گرفتار کر لیا۔

ان پر اس ریلی میں تشدد کی سازش رچنے کا الزام لگایا گیا ہے ساتھ ہی ان پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بھی قتل کی سازش رچنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ انسداد یو اے پی اے غیر قانونی سرگرمی (روک تھام) قانون کے تحت حراست میں ہیں۔ قسمت سے وہ ابھی تک زندہ ہیں، نہیں تو ان کا حشر بھی عشرت جہاں، سہراب الدّین اور کوثر بی جیسا ہو سکتا تھا، جن پر سالوں پہلے یہی الزام لگا تھا لیکن وہ مقدمہ لڑ پانے کے لئے زندہ نہیں رہ سکے۔

حکومتوں کے لئے، پھر چاہے وہ حکومت کانگریس قیادت والی یو پی اے کی ہو یا بی جے پی کی، آدیواسیوں پر حملے کو، اور اب بی جے پی کے معاملے میں دلتوں پر ان کے حملے کو ‘ ماؤوادیوں ‘ یا نکسلی پر حملے کے طور پر پیش کرنا اہم رہا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ مسلمانوں کے برعکس، انتخابی اعدادوشمار کے کھیل سے جن کا وجود پوری طرح سے مٹا دیا گیا ہے، تمام سیاسی جماعت آدیواسیوں اور دلتوں کو ممکنہ ووٹ بینک کی طرح دیکھتے ہیں۔

ایکٹوسٹوں کو گرفتار کرکے اور ان پر ‘ ماؤوادی ‘ کا لیبل لگاکر حکومت دلتوں کی امید کو دوسرا نام دےکر اس کی بے حرمتی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے-اس کے ساتھ ہی وہ ‘ دلت مسائل ‘ سے متعلق حساس دکھنے کا سوانگ بھی کرتی رہتی ہے۔آج جب ہم یہاں بات کر رہے ہیں، ملک بھر میں ہزاروں غریب، محروم لوگ اپنے گھروں، اپنی زمینوں اور اپنی وقار کے لئے لڑتے ہوئے جیلوں میں ہیں-ان لوگوں پر غدار وطن کا الزام لگا ہے اور اس سے بھی خراب ہے کہ وہ بنا سماعت کی بھیڑ بھرے جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔

ان دس لوگوں کی گرفتاری-جن میں تین وکیل اور سات مشہور ایکٹوسٹ شامل ہیں-کمزور لوگوں کی پوری آبادی کے لئے انصاف اور نمائندگی کی کسی بھی امید کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ کیونکہ یہ لوگ ان کمزور لوگوں کے نمائندے تھے۔ سالوں پہلے جب بستر میں چھدوا جڈوم نام سے نام نہاد گرام-محافظ کی ایک فوج کی تشکیل کی گئی تھی جس نے قہر برپاکرتے ہوئے لوگوں کا قتل کیا اور پورے کے پورے گاؤوں کو آگ میں جھونک دینے والی کاروائیوں کو انجام دیا، تب پی یو سی ایل (پیپلس یونین فار سول لبرٹیز)، چھتّیس گڑھ کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر بنائک سین نے متاثرین کی طرف سے آواز اٹھائی۔

جب بنائک سین کو گرفتار کر لیا گیا، تب اس علاقے میں سالوں سے کام کر رہیں، وکیل اور مزدور یونین کا رہنما سدھا بھاردواج نے ان کی جگہ لی۔ بستر میں نیم-فوجی دستوں کی کارروائیوں کے خلاف انتھک لڑائی لڑنے والے پروفیسر سائیں بابا بنائک سین کے حق میں کھڑے ہوئے۔ جب انہوں نے سائیں بابا کو گرفتار کر لیا تب رونا ولسن ان کے حق میں کھڑے ہوئے۔ سریندر گاڈلنگ سائیں بابا کے وکیل تھے۔ جب انہوں نے رونا ولسن اور سریندر گاڈلنگ کو گرفتار کر لیا، تب سدھا بھاردواج، گوتم نولکھا اور دیگر ان کے حق میں کھڑے ہوئے۔

اس طرح سے یہ سلسلہ چلتا رہا۔ کمزور لوگوں کو الگ تھلگ کیا جا رہا ہے اور ان کو خاموش کرایا جا رہا ہے۔ آواز اٹھانے والوں کو جیل بھیجا جا رہا ہے۔ ہے ایشور! اپنے ملک کو پھر سے پانے میں ہماری مدد کریں۔

بشکریہ وائر اُردو ڈاٹ کام