نئی دہلی 13 ستمبر(مسرت نیوز) دہلی کے جعفراباد میں واقع مدرسہ باب العلوم میں ایک افسوسناک واقعہ میں شرپسندوں نے گزشتہ رات تقریبا دوبجے سوئے ہوئے مدرسہ کے بچوں کو مٹی کا تیل پھینک کر زنمدہ جلانے کی کوشش کی جس میں ایک طالب میں اس آگ کی زد میں آگیا۔
جمعیتہ علمائے ہند کے ذرائع نے بتایا کہ شرپسندوں نے کھلی ہوئی کھڑکی سے بچوں کی طرف مٹی تیل چھڑک کر آگ لگادی تاکہ وہ اس کی زد میں آکر جل جائیں لیکن طلبہ کے جگ جانے کی وجہ سے کوئی بڑا سانحہ رونما نہیں ہوسکا۔ اس حادثے میں ایک طالب علم آگ کی زد میں آگیا تاہم زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ اسی درمیان سبھی طلبہ جگ گیے اور ہنگامہ کے دوران شر پسند بھا گنے میں کامیاب ہوگیے.
مدرسہ باب العلوم کے مہتمم مولانا داود امینی نے بتایا کہ ایف آئی آر درج ہوگئی ہے تاہم اب تک کسی کی شناخت یا گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے.انھوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی کیمرہ سے بچوں پر حملے کا عکس نظر آرہا ہے. انھوں نے بتایا کہ پہلی بار یہاں ایسا واقعہ رونما ہوا ہے۔
حادثے کی خبر سنتے ہی آج مدرسہ باب العلوم کئی سیاسی و مذہبی رہ نما پہنچے اور واقعہ کی سخت مذمت کی. ایم ایل اے حاجی اشراق نے باب العلوم پہنچ کر پورے حالات کی آگاہی حاصل کی اور کارروائی کے لیے افسران سے رابطہ کیا.
جمعیتہ علماء ہند کی طرف سے مولانا ضیاء اللہ قاسمی جمعیت علماء ہند اور مولانا عظیم اللہ قاسمی میڈیا انچارج جمعیت علماء ہند بھی باب العلوم پہنچے جہاں پہلے سے مولانا جاوید صدیقی قاسمی سیلم پور، قاری احرار الحق جوہر قاسمی وغیرہ موجود تھے. جمعیتہ علماء ہند کے وفد نے حاجی اشراق کے ساتھ بھی میٹنگ کی اور واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ خاطی افراد کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جایے۔ وفد نے مولانا داود قاسمی سے یک جہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ پورے واقعہ سے حضرت ناظم عمومی جمعیت علماء ہند مولانا محمود مدنی صاحب کو مطلع کیا جایے گا. واضح ہو کہ مولا مدنی ان دنوں دعوتی مقصد سے بیرون ملک کے دورہ پر ہیں۔
واضح رہے کہ مدارس کے طلبہ پر حملے ان دنوں بڑھ گئے ہیں۔ بسوں، ٹرینوں اور دیگر ،مقامات پر مدرسہ کے طالب علموں کو نشانہ بنانے کے بعد اب شرپسندوں اور فسطائی طاقتوں نے مدرسوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ اس سے قبل علی گڑھ میں سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کی اہلیہ سلمی انصاری کے قٖائم کردہ ماڈرن مدرسہ میں پانی کی ٹنکی میں زہر ملایا تھا جس کا بروقت پتہ چل جانے کی وجہ سے کوئی بڑا حادثہ رونما نہیں ہوسکا۔ اس طرح کے معاملے میں پولیس ، انتظامیہ اور حکومت کا رویہ مثبت نہیں رہا ہے اور ان کی ہمیشہ کوشش خاطیوں کو بچانے کی رہی ہے۔اس لئے شرپسندوں کے حوصلے اتنے بلند ہیں اور جب چاہتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں مسلمانوں اور مدرسہ کے بچوں پر حملہ کردیتے ہیں۔ ابھی حالیہ دنوں میں دہلی میں ایک مدرسہ کے بچہ کو کچھ لوگوں نے چوری کا الزام لگاکر پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا تھا۔ اگر وقت رہتے اس سمت میں مسلم لیڈروں نے توجہ نہیں دی تو آنے والا وقت مدارس کے لئے تباہ کن ہوسکتے ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں