ملزمین ھونراؤ باپ بیٹے کی گرفتاری کے لئے جمعرات سے عوامی احتجاج..

لاتور(محمدمسلم کبیر)اقلیتی طلباء کے تعلیمی میعار میں اضافے کے لئے پروفیسر اماکانت ہونراؤ کے سنگمیشور چیاریٹیبل ٹرسٹ کے تحت ریلائنس تریپورہ جونئیر سائنس کالج کو مرکزی حکومت نے”نیا سویرا”اسکیم کے تحت اقلیتی طلباء کے لئے جونئر کالج اور ایک ہاسٹل کی منظوری دی جس کا مقصد ان طلباء کو مفت میعاری تعلیم,طعام و قیام کے علاوہ دیگر سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ اقلیتی طلباء میں تعلیم سے رغبت حاصل ہو اور اعلی تعلیم حاصل کرنے میں پس وپیش نہ کریں.ریاست مہاراشٹر میں اس اسکیم کے تحت جاری  یہ واحد ادارہ ہے.اس ادارے میں ریاست مہاراشٹر کے دوردراز علاقوں سے اقلیتی طلباء یاس و امید کے سہارے اس کالج میں داخلہ لیتےہیں.لیکن اس کالج میں داخلے کے بعد مختلف مدوں کے تحت لاکھوں روپئے وصول کئے جاتے ہیں بلکہ اقلیتی طلباء و طالبات کے ساتھ زیادتی یئے جانے کے واقعات سامنے آرہے ہیں.حال ہی میں 17/ جولائی کو کولھاپور سے تعلق رکھنے والی نیلوفر مبارک بارگیر جو اس کالج میں بارھویں جماعت کی طالبہ تھی.اس کے ساتھ ادارے کے ذمہ دار اور ملازمین اور طلباء کے ہراسانی سے دل برداشتہ نہ ہوکر کالج کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر اقدام خودکشی کی اور قریبی اسپتال میں دوران علاج اس نے مالک حقیقی سے جاملی.اس واقعے کی اطلاع جب اہلیان لاتور کو ملی تو مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تریپورہ کالج کے ذمہ دار اماکانت ہونراؤ اور اس کے فرزند اونکار ہونراؤ کے علاوہ اس میں شامل ملازمین اور طالب علم کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا. نیلوفر بارگیر کے والد مبارک بارگیر نے شیواجی نگر پولس اسٹیشن میں ادارے کے ذمہ دار ہونراؤ باپ بیٹے کے خلاف تفصیلی شکایت معہ ثبوت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ جب تک ان باپ بیٹے اور دیگر ملزمین کی گرفتاری نہیں ہوتی تب تک نعش کو قبضے میں نہیں لیا جائیگا.تب پولس انتظامیہ نے باپ بیٹے کو فرار بتلا کر ملازمیں کو گرفتار کرکے نعش کو قبضے میں لینے کی درخواست کی تھی تبھی سماجی و سیاسی تنظیموں نے بھی پولس انتظامیہ پر یقین رکھ کر نیلوفر کی نعش کولھاپور لے جانے کے لئے مبارک بارگیر سے کہا تب کہیں جاکر نعش اٹھائی گئی.لیکن اس کے بعد پولس انتظامیہ نے اب تک مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے.حالانکہ اورنگ آباد ہائی کورٹ نے تریپورہ کالج کے پروفیسر اومکار ہونراؤ کی درخواست ضمانت برائے قبل از گرفتاری کو قطعا مسترد کردیا اور باپ اوماکانت ھونراؤ کو روزانہ پولس اسٹیشن میں حاضری دیتے رہنے کے احکامات دئے ہیں.اس عدالتی حکم کے باوجود لاتور پولس اس مجرم کو گرفتار کرنے سے کیونکر قاصر ہے اس پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے. 
لاتور پولس کی اس معاملے میں غیر سنجیدگی کے خلاف لاتور کے مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کا ایک اجلاس ڈاکٹر امبیڈکر پارک ٹاؤن ہال میں لابور شہر ضلع مجلس اتحادالمسلمین کے صدر افضل قریشی کی صدارت میں منعقد ہوا. اس اجلاس میں سماجی کارکن رگھوناتھ بنسوڑے نے کہا کہ تریپورہ کالج کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے اور کالج کو حکومت کی جانب ادا کئے جانے والی امداد اور اس کے مصارف کی تحقیقات کرنے سے انتظامیہ کیوں کترارہی ہے.کالج کے ذمہ دار ھونراؤ باپ بیٹے جو دن دہاڑے لاتور شہر میں گھوم رہے ہیں انھیں پولس مفرور کیوں قرار دے ہ دے رہی. عوامی جذبات کے ساتھ کھلواڑ تو ہو رہا ہے تاہم عدالت کی حکم عدولی کے ارتکاب جرم کے تحت حکومت کو ہی ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے اور ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلی جن کے پاس ریاست کے وزارت داخلہ کا قلمدان ہے ان کی اقلیتوں کے تعلق سے غیر سنجیدگی کی مذمت بھی کی گئی اور اعلان کیا گیا کہ جمعرات تک ان ملزمین کو گرفتار نہیں کیا جاتا ہے تو ضلع لاتور میں جابجا وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کے علامتی مجسمے نذر آتش کر کے عوامی احتجاجات کئے جائیں گے.
دریں اثناء اپنے ان مطالبات کے پیش نظر ایک محضرہ لاتور ضلع کلکٹر جی شریکانت کو بھی ان تنظیموں کی جانب سے دیا گیا. 

اپنی رائے یہاں لکھیں