شبیع الزماں (پونہ)

2014 میں مودی حکومت کے قیام کے بعد سنگھ بہت تیزی سے اپنے دیرینہ خواب ، ہندوستان کو ایک
Majoritarian Nation State
بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد اقلیتوں کو انگھوٹے کے نیچے دباکر کر رکھنا ہے ۔ اس کے لیے لازمی طور پر انھیں معاشی،سیاسی اور نفسیاتی طور پر کمزور کرنا ہے۔

ہندوستان میں مسلمانوں کی کثیر آبادی والی ریاستوں میں بالترتیب جموں کشمیر ،آسام ، ویسٹ بنگال ،کیرلہ اور اتر پردیش ہیں۔ یہ آبادی باقی ہندوستان میں پھیلی مسلمانوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔

ان تمام ریاستوں میں مسلمانوں کو اپنے زیر دست رکھنا سنگھ کا بنیادی ایجنڈا ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی دکھائی دے رہا ہے۔ کشمیر کی ابتر صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ آسام میں چالیس لاکھ لوگوں کا مستقبل غیر یقینی بنا دیا گیا ہے۔اتر پردیش میں یوگی مسلمانوں پر مسلسل اپنا دبدبہ بنائے ہوئے ہے۔ کشمیر ، آسام اور اتر پردیش میں سنگھ آسانی سے اپنے ٹارگٹ کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن ویسٹ بنگال اور کیرلہ میں اسکے پاس حکومت نہ ہونے کی وجہ سے مطلوبہ کامیابی نہیں مل پا رہی ہے۔

کیرلہ میں social fabric بھی مضبوط ہونے کے وجہ سے سنگھ ماحول کو polarizedکرنے میں کامیاب نہیں ہو پارہا ہے۔ کیرلہ کو مستقل طور بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے ملکی سطح پر تو کیرلہ کے بارے میں منفی رائے بنی ہے لیکن خود کیرلہ میں اس کا کچھ زیادہ اثر نہیں ہوا۔

سنگھ کو کیرلہ کے مسلمانوں اور عیسائیوں کو کمزور کرنے کے لیے کسی موقع کی تلاش تھی اور یہ موقع اسے سیلاب نے مہیا کر وادیا۔کیرلہ میں پچھلے سوسالوں کے درمیان میں سب سے زیادہ تباہی پھیلانے والاسیلاب آیا ہے ۔جس میں پانچ سو سے زائد لوگوں کی جانیں چلی گئی ۔1ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔

کیرلہ کو تعمیر نو کے لیے دو ہزار چھ سو کروڑ روپئے کی ضرورت ہے اور یہ پیسے تین ذرائع سے حاصل ہو سکتے ہیں
1-مرکزی حکومت کا تعاون
2-اندرون ہندوستان سے این جی اوز اور انفرادی امداد
3-بیرونی امداد

کیرلہ کی ریاستی حکومت نے مودی گورنمنٹ سے دوہزار کروڑ کی امداد چاہی جس کے جواب میں بھارت سرکار نے نہ چاہتے ہوئے بحالت مجبوری پانچ سو کروڑ دینے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان ہوتے ہی تنقیدیں شروع ہوگئی کہ جو حکومت بیرون ملکوں کو کروڑوں روپیے کے قرض دے رہی ہیں اور کروڑوں روپیہ مجسمے بنانے پر خرچ کر رہی ہے اپنے لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہے۔

تمام سیاسی و غیر سیاسی جماعتوں نےحکومت کی اس حرکت پر سخت تنقید کہ وہ ایسے مشکل حالات میں سیاست سے باز آئے لیکن حکومت سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ کرنے تیار نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں اور این جی اوز حکومت پر دباؤ بنا رہے ہیں کہ کیرلہ سیلاب کو national disaster قرار دیا جائے۔ لیکن مودی حکومت ٹس سے مس ہونے تیار نہیں کیونکہ قومی سانحہ قرار دیے جانے کی صورت میں اسے مزید فنڈ دینے ہونگے۔

دوسری فنڈ کی صورت یہ ہوسکتی تھی کہ ملک کی عوام بڑے پیمانے پر کیرلہ کی مدد کرے اور عوام یہ کام کر بھی رہی ہے لیکن سنگھ کو یہ بھی گوارا نہیں۔ سنگھ کوشش کر رہا کہ کس طرح یہ فنڈنگ رک جائے ۔ اس فنڈنگ کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیکر طرح طرح کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہے۔ جیسے ایک مسیج جو وہاٹس پر گردش کر رہا ہے کہ کیرلہ ریلیف فنڈ سے پانچ کروڑ روپیے پاکستان کو دیے جانے والے ہیں۔

بی جے پی سوشل میڈیا حیدرآباد کے انچارج سریش کوچاتل کی طرف سے یہ مسیج بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا کہ کیرلہ کو فنڈ کی ضرورت نہیں ہے یہاں ریلیف کا کافی سامان موجود ہے۔اگر ریلیف کے پیسہ دینا ہی چاہ رہے ہیں تو سیوا بھارتی کے اکاؤنٹ میں پیسہ ٹرانسفر کرے۔ واضح رہے کہ سیوا بھارتی سنگھ کی تنظیم ہے جو ریلیف کا کام کرتی ہے
یہ مسیج سب سے زیادہ سرکیولیٹ ہوا۔

سیوا بھارتی نے توفنڈ ہی اس نام سے جمع کیے کہ مسلمان اور عیسائی اپنے لوگوں کی مدد کے لیے فنڈ دے رہے ہیں اور ہندوؤں کی کوئی مدد نہیں کی جارہی ہیں ۔ حالانکہ بعض جگہ سیوا بھارتی نے متاثرین کو کمبل دینے سے صرف اس لیے منع کر دیا کیونکہ وہ مسلمان تھے۔

ہندو مہا سبھا کے قومی صدر نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے یہ بیان جاری کیا کہ مسلمانوں کی کوئی مدد نہ کی جائے یہ ہماری گاؤ ماتا کو کاٹتے ہیں اسی لیے یہ عذاب ان پر نازل ہوا ہے ان بے حس لوگوں کو عذاب کا مزہ چکھنے دیا جائے۔ انکی کوئی مدد نہ کرے۔

سڑی ہوئی سنگھی ذہنیت کے بیانات اس دوران جاری ہے کوئی کہہ رہا کیرلہ میں یہ آفت بیف کھانے کی وجہ سے آئی کوئی خواتین کو مندر میں داخلہ کو اسکا سبب بتا رہا ہے ۔ ان سب سے بڑھ کر ارنب گوسوامی نے کیرلہ کے لوگوں کے لیے بے شرم کا لفظ استعمال کر لیا۔لیکن بدنامی کے بعد اسکی بے جا توجیہات پیش کی جارہی ہے۔
اسی طرح عیسائیوں کے خلاف بھی پروپیگنڈہ مہم جاری ہیکہ مشینیریز ریلیف کے نام پر دھرم پریورتن کا کام کر رہی ہیں۔

بیرونی امداد کے سلسلہ میں بھی جب UAEسے سات سو کروڑ لینے کی بات آئی تو مودی حکومت نے بیرونی امداد لینے سے منع کر دیا۔
مودی حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کیرلہ بھی اسی ہندوستان کا حصہ ہے اور ہندوستان کو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والی ریاستوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ کیرلہ کی آبادی ہندوستانی آبادی کا 2.7فیصد ہے جبکہ ہندوستانی جی ڈی پی میں اسکا contribution اسکی ابادی سے کئی گنا زیادہ یعنی 4.7 فی صد ہے ۔ کیرلہ کی عوام اگر ہندوستانی حکومت کو ایک روپیہ دیتی ہے تو مرکزی حکومت سے اسے صرف 25پیسہ ہی واپس ملتا ہے۔ اگر حکومت کیرلہ کی مدد کرتی ہے تو یہ اس کا حق ہے نہ کہ کوئی بھیک ہے۔

کیرلہ کے اس سیلاب سے سنگھی ذہنیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اقلیتوں کے لیے اس کے ذہن میں کس درجہ نفرت ہے ۔ عام طور سے سنگھی یا بی جے پی والے مسلمانوں سے جڑےنفرت کے ایشوز اچھالتے ہیں یا مآب لنچنگ ،فسادات یا اسی طرح کے اقلیت مخالف اقدامات کرتے ہیں تو ان اقدامات کی حساسیت یہ کہہ کر کم کردی جاتی ہے کہ اس کا مقصد اصل ایشیوز سے توجہ ہٹانا ہے یا پھر یہ الیکشن میں کامیابی کے لیے حالات کو خراب کیا جا رہا ہے۔
اس طرح کی تاویلیوں سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ سنگھ مسلمانوں سے واقعی بہت زیادہ نفرت نہیں کرتا بلکہ یہ اس کی سیاسی مجبوری ہے۔
اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ الیکشن جیتنا یا ایشوز سے توجہ ہٹانا وقتی ضرورت اور ضمنی مقاصد تو ہو سکتے ہیں لیکن اصل مقصد نہیں بلکہ اصل مقصد اقلیت دشمنی ہے، مسلمانوں اور عیسائیوں سے نفرت اور تعصب ہے۔

اس سیلاب سے ایک اور بات واضح ہوگئی کہ سنگھ نے لوگوں کے ذہن اس درجہِ خراب کردیے کہ وہ مصیبت اور آفات کے وقت بھی نفرت پھیلانے سے باز نہیں آرہے ہیں اور یہ زہر ہندوستان میں کیا تباہی لائے گا خدا جانے۔ (سوشل میڈیا سے)