جماعت اسلامی ہند ناندیڑ کی جانب سے تربیتی و تنظیمی نشست کا نعقاد

ناندیڑ:11؍ ستمبر(عبدالرحمٰن ): ’’دین اسلام ایک تحریک ہے جس کا مقصد ہے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر رب کی غلامی میں دے دینا۔اسلام ایک ایسا صالح معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو،جس میں تمام انسانوں کو ان کے حقوق کی ضمانت حاصل ہو۔رسول اللہ ؐ نے مدینہ طیبہ میں ایک ایسے ہی معاشرہ کو قائم کیا تھا اور ایک ایسی ہی ریاست کی بنا ڈالی تھی۔آج بھی ہمیں رسول اللہ ؐ کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ایسے ہی معاشرہ کے قیام کے لئے جد و جہد کرنی ہوگی۔حضورؐ کی حیات مبارکہ جدوجہد اور سرگرمی سے لبریز ہے۔اقامت دین کے قیام کے لئے جد وجہد کرنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ ہر شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور اپنی بساط کے مطابق راہ خدا میں سرگرم ہوجائے۔جس شخص کا ایمان جتنا پختہ اور شعوری ہوگا وہ شخص اسی قدر راہ خدا میں سرگرم ہوگا۔آج کے دگرگوں ملکی و عالمی حالات میں تو اس بات کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں۔اسلام کے تئیں ہماری محبت اور دلچسپی کا مظاہرہ راہ خدا میں ہماری سرگرمی سے ہی ہوتا ہے۔ہمیں نہ صرف مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے وجود و بقاء کے لئے جدوجہد کرنی ہے بلکہ ان تمام طبقات کی نجات کے لئے بھی کاوشیں کرنی ہیں جو کمزور پاکر دبالئے گئے ہیں۔‘‘ ان خیالات کا ظہار جماعت اسلامی ہند ناندیڑ کی شوریٰ کے رکن جناب الطاف حسین نے کیا۔موصوف جماعت اسلامی ہند ناندیڑ کی جانب سے منعقدہ تربیتی و تنظیمی نشست میں وابستگان جماعت سے مخاطب تھے۔مذکورہ نشست کا انعقاد دفتر جماعت اسلامی ہند ناندیڑکے آڈیٹوریم ہال،نئی آبادی میں بعد نماز ظہر تا عصر عمل میں آیا۔اس اجتماع میں ناندیڑ شہر کے وابستگان جماعت مرد و خواتین نے شرکت کی۔سامعین میںمعزز امیدواررکن جماعت جناب عبدالرحمٰن ودیگر موجود تھے۔ قبل ازیں نشست کا آغاز مولوی عبدالغفار چودھری کی تذکیر بالقرآن سے ہوا۔مولوی صاحب نے سورۃ حدید کی آیت ۲۰ اور ۲۱ کی روشنی میں دلنشین انداز میں تذکیر پیش کی۔ان آیات کا ترجمہ ہے،’’خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرناہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے۔پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہوکہ وہ زرد ہوگئی۔پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے۔اس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں۔دوڑو اور یک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے،جو مہیا کی گئی ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں۔یہ اللہ کا فضل ہے ،جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے،اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘تذکیر کے بعد ’’شعوری ایمان کے مظاہر‘‘موضوع پر ایک اہم مذاکرہ ہوا۔اس مذاکرہ میں محترم سعیدشبیبی اور جناب الطاف حسین نے حصہ لیا۔سعید شبیبی صاحب نے ’معاشرت و معاملات‘عنوان پر خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ جو شخص اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا ،اللہ اس کے لئے راستہ پیدا کرے گا۔ورنہ وہ شخص اپنے لئے ایسی مشکلات کھڑی کرلے گا جن سے نکلنے کا کوئی راستہ وہ نہ پاسکے گا۔محترم نے اپنے خطاب میں جھوٹ،فریب دہی،ملاوٹ،ذخیرہ اندوزی،غاصبانہ قبضہ جیسے رذائل اخلاق پر تفصیلی روشنی ڈالی جو ایک دوسرے سے معاملات کرتے وقت فاسق لوگ اختیار کرتے ہیں۔محترم نے معاملات میں فضائل اخلاق اپنانے اور خدا سے ڈرتے رہنے کی نصیحت کی۔جناب الطاف حسین نے ’راہ خدا میں سرگرمی‘ پر سیر حاصل اور دلنشین گفتگو کی۔اس مذاکرہ کے بعد مہمان خصوصی نائب امیر حلقہ حافظ عزیز محی الدین صاحب سے امیر مقامی محمد عبدالجلیل صاحب نے انٹرویو کیا۔اس انٹرویو میں حافظ صاحب نے ملکی و عالمی امور میں جماعت کی پالیسی و پروگرام پر تفصیلی رہنمائی کی۔بالخصوص ملک کے موجودہ سیاسی حالات زیر گفتگو آئے۔مولانا نے کہا کہ عقائد ،عبادات، معاملات اور سیاست اسلام کا اٹوٹ حصہ ہیں ۔ایک مسلمان سیاست سے کنارہ کش ہوکر اور حالات کو باطل طاقتوںکے رحم و کرم پر چھوڑ کر خاموش تماشائی بنا نہیں رہ سکتا۔مولانا نے کہا کہ ۲۰۱۹ء کے پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں ہر مسلمان کو بالعموم اور وابستگان تحریک اسلامی کو بالخصوص اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔اپنے اور اپنے اعزاء و اقربا کے نام ووٹرلسٹ میں شامل کرنے سے لے کر مسلم اور غیر مسلم عوام کی ذہن سازی کا کام ہم سب کو کرنا ہوگا۔کیونکہ ملک میں اب کرو یا مرو کے حالات پیدا ہوچکے ہیں۔ان حالات کی تبدیلی کے لئے ہر فرد کو اپنی بساط بھر کوشش کرنی ہوگی۔نٹرویو کے بعد پروفیسر قاضی احتشام الدین نے ’نصب العین سے انحراف کی شکلیں‘عنوان پر فکر انگیز خطاب کیا۔پروفیسر صاحب نے مقصد اور نصب العین سے منحرف کرنے والے عوامل جیسے نفسانیت،خود پسندی،مزاج کی بے اعتدالی،انتہا پسندی،تنگ دلی،ضعف ارادہ وغیرہ پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔اس خطاب کے بعد جماعت اسلامی ہند کے نئے اراکین کی تجدید شہادت کا پروگرام رکھا گیا۔اس پروگرام میںنائب امیر حلقہ محترم حافظ عزیز محی الدین نے نئے رکان محسن خان،سید محسن،رضوان خان،شیخ داوود،نواب علی خان،شیخ حسین،محمد علی صاحب،مسعود چائوش،ساجد بلڈر،غلام صمدانی کے علاوہ چار خاتون راکین کے بشمول پندرہ نئے ارکان کو تجدید شہادت کروائی ۔اخیر میں نائب امیر حلقہ نے اختتامی خطاب کیا۔موصوف نے شرکاء کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں رواداری اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے قیام کے لئے جدوجہد کریں۔فرقہ پرستی کے خلاف غیر مسلم افراد کی ذہن سازی کریں۔ایسا کوئی کام نہ کریں اور نہ کرنے دیںجس سے فرقہ ورانہ منافرت پیدا ہو۔اپنے شہر و علاقہ کے حالات کو پر امن رکھنے کے لئے غیر مسلم شخصیات کے ساتھ مل جل کر کوشش کریں۔محترم سعید شبیبی کی دعا پر یہ تربیتی اجتماع و تنظیمی نشست اختتام کو پہنچی۔ واضح ہوکہ جماعت اسلامی ہند ملک عزیز میں پچھلے سات دہائیوں سے اقامت دین کے نصب العین کے حصول کے لئے سرگرم عمل ہے۔دعوت،اسلامی معاشرہ،امت کا تحفظ و ارتقاء،ملکی وعالمی مسائل،خدمت خلق اور تزکیہ و تربیت وغیرہ شعبوں کے تحت جماعت اپنی سرگرمیاں انجام دیتی ہے۔اپنے وابستگان کا تزکیہ و تربیت جماعت اسلامی ہندکی پالیسی کا اہم جز ہے ۔اپنے قیام کے روز اول سے ہی جماعت اسلامی شعبہ تربیت کے تحت اپنے وابستگان کی تربیت کی غرض سے مختلف سرگرمیاں انجام دیتی آرہی ہے۔اس سلسلہ میں ہفتہ واری ،ماہانہ و سہ ماہی اجتماعات،تزکیہ کیمپ،درس قرآن کے حلقے وغیرہ سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔مذکورہ تربیتی اجتماع وتنظیمی نشست بھی اسی سلسلہ میں منعقد کی گئی تھی۔