🌹 حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی آپ سے بیعت 🌹

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر مشہورہوتے ہی منافقین کی سازش سے مدینہ میں خلافت کافتنہ اُٹھ کھڑاہوا اور انصار نے سقیفہ بنی ساعدہ میں مجتمع ہوکر خلافت کی بحث چھیڑ دی، مہاجرین کو خبر ہوئی تو وہ بھی مجتمع ہوئے اور معاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو وقت پر اطلاع نہ ہوجاتی تو مہاجرین اور انصار جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھائی بھائی کی طرح رہتے تھے باہم دست وگریباں ہوجاتے اور اس طرح اسلام کا چراغ ہمیشہ کے لئے گل ہوجاتا ؛لیکن خدا کو توحید کی روشنی سے تمام عالم کو منور کرنا تھا، اس لئے اس نے آسمان اسلام پر ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ جیسے مہر وماہ پیداکردیئے تھے جنہوں نے اپنی عقل وسیاست کی روشنی سے افق اسلام کی ظلمت اور تاریکیوں کو کافور کردیا۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ،حضرت عمررضی اللہ عنہ کو ساتھ لئے ہوئے سقیفہ بنی ساعدہ پہنچے،انصارنے دعویٰ کیا کہ ایک امیر ہمارا ہو اور ایک تمہارا، ظاہر ہے کہ اس دوعملی کا نتیجہ کیا ہوتا؟ممکن تھا کہ مسند خلافت مستقل طورپر صرف انصار ہی کے سپرد کردی جاتی ؛لیکن دقت یہ تھی کہ قبائل عرب خصوصا ًقریش ان کے سامنے گردن اطاعت خم نہیں کرسکتے تھے،پھر انصار میں بھی دوگروہ تھے اوس اور خزرج اور ان میں باہم اتفاق نہ تھا، غرض ان دقتوں کو پیش نظر رکھ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا”امراء ہماری جماعت سے ہوں اور وزراءتمہاری جماعت سے” اس پر حضرت خباب بن المنذرانصاری رضی اللہ عنہ بول اٹھے، نہیں !خداکی قسم نہیں، ایک امیرہمارا ہو اور ایک تمہارا،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جوش وخروش دیکھا تو نرمی وآشتی کے ساتھ انصار کے فضائل ومحاسن کا اعتراف کرکے فرمایا:
"صاحبو: مجھے آپ کے محاسن سے انکار نہیں ؛لیکن درحقیقت تمام عرب قریش کے سواکسی کی حکومت تسلیم ہی نہیں کرسکتا پھر مہاجرین اپنے تقدم اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاندانی تعلقات کے باعث نسبتاً آپ سے زیادہ استحقاق رکھتے ہیں، یہ دیکھو ابوعبیدہ بن الجراج اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم موجود ہیں ان میں سے جس کے ہاتھ چاہو بیعت کرلو”
لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےپیش دستی کرکے خود حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہاتھ دیدیا اور کہا:
نہیں ؛بلکہ ہم آپ کےہاتھ پربیعت کرتے ہیں؛ کیونکہ آپ ہمارےسرداراورہم لوگوں میں سب سےبہترہیں اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کوسب سےزیادہ عزیزرکھتےتھے۔
(بخاری ج۱:۵۱۸)

چنانچہ اس مجمع میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی بااثر بزرگ اور معمر نہ تھا اس لئے اس انتخاب کو سب نے استحسان کی نگاہ سے دیکھا اور تمام خلقت بیعت کے لئے ٹوٹ پڑی، اس طرح یہ اٹھتاہوا طوفان دفعۃً رک گیا اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین میں مشغول ہوئے۔

اس فرض سے فارغ ہونے کے بعد دوسرے روز مسجد میں بیعت عامہ ہوئی اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے منبر پر بیٹھ کر ان الفاظ میں اپنے آئندہ طرز عمل کی توضیح فرمائی:
” صاحبو میں تم پر حاکم مقرر کیا گیا ہوں؛ حالانکہ میں تم لوگوں میں سب سے بہتر نہیں ہوں، اگر میں اچھا کام کروں تو تم میری اعانت کرو اگر برائی کی طرف جاؤں تو مجھے سیدھا کردو، صدق امانت ہے اور کذب خیانت ہے، انشاء اللہ تمہارا ضعیف فرد بھی میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کہ میں اس کا حق واپس دلادوں ، انشاء اللہ اور تمہارا قوی مرد بھی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق دلادوں، جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑدیتی ہے اسکو خداذلیل وخوار کردیتا ہےاور جس قوم میں بدکاری عام ہوجاتی ہے خدا اسکی مصیبت کو بھی عام کردیتا ہے،میں خدااور اسکے رسول کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرو ؛لیکن جب خدا اور اسکے رسول کی نافرمانی کروں تو تم پر اطاعت نہیں اچھا اب نماز کے لئے کھڑے ہو جاؤ،خداتم پر رحم کرے”

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت
گو تمام مسلمانوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور وہ باقاعدہ مسند خلافت پر متمکن ہوگئے ، تاہم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بعض دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہ نے کچھ دنوں تک بیعت میں تاخیر کی، اس توقف نے تاریخ اسلام میں عجیب وغریب مباحث پیدا کردئے ہیں جن کی تفصیل کے لئے اس اجمال میں گنجائش نہیں