حیدرآباد بم دھماکہ معاملہ :نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف جمعیۃ علماء ہائی کورٹ سے رجوع ہوگی ،گلزار اعظمی

خصوصی عدالت نے دو ملزمین کو پھانسی، ایک ملزم کو عمر قید اور دو دیگرملزمین کو باعزت بری کیا
ممبئی۱۱؍ ستمبر.سال ۲۰۰۷ء میں حیدرآباد کے لمبنی پارک، دلسکھ نگر اور گوکل چاٹ مقامات پر ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے میں خصوصی عدالت کی جانب سے دو ملزمین کو پھانسی اور ایک ملزم کو عمر قید کی سزاء سنائے جانے کے بعد ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ جمعیۃ علماء نچلی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریگی نیز اس تعلق سے دفاعی وکلاء سمیت دیگر سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کیاجار ہا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ کل چراپلی سینٹرل جیل میں قائم خصوصی عدالت کے جج شرینواس نے ملزمین عنیق سید اور اکبراسماعیل چودھری کو پھانسی کی سزا جبکہ ملزم طارق انجم کو عمر قید کی سزاء سنائی تھی ۔اس سے قبل اس معاملہ کاسامنا کرہے دیگر ملزمین فاروق شرف الدین ترکش اور محمد صادق اسرار شیخ کو عدالت نا کافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر باعزت بری کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے۔
واضح رہے کہ ۱۱؍سال پہلے حیدرآباد کے گوکل چاٹ بھنڈار اور لمبنی پارک میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے جس کے بعد تلنگانہ پولس کے کاؤنٹر انٹلی جینس شعبہ نے اس معاملے کی تحقیقات کی تھی نیز دوران سماعت ۱۷۰؍ سرکاری گواہوں نے ملزمین کے خلاف عدالت میں گواہی دی تھی جبکہ سیکڑوں دستاویزات کو استغاثہ نے عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا تھا جبکہ دفاعی وکلاء نے گواہوں سے جرح کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت میں ملزمین کے دفاع میں حتمی تحریری بحث بھی داخل کی تھی۔
اس معاملے میں تحقیقاتی دستوں نے ملزمین کو انڈین مجاہد ین نامی تنظیم کا رکن بتایا تھا اور تین علیحدہ علیحدہ چارج شیٹ داخل کی تھی جبکہ ایک دیگر ملزم طارق انجم کو متذکرہ ملزمین کو دہلی میں رہائش مہیا کرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے خلاف علیحدہ مقدمہ چلا یا گیا جسے عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی۔ان دونوں جگہوں پر رونما ہونے والے بم دھماکوں میں کل ۴۲؍ افراد ہلاک اور ۵۰؍ دیگر زخمی ہو ئے تھے۔
اس معاملے کی مانیٹرنگ اور مقدمہ کی سماعت میں حصہ لینے والے جمعیۃ علماء کے وکیل انصار تنبولی نے بتایا کہ فیصلہ کی کاپی موصول ہونیکے بعد اس کا مطالعہ کیا جائے گا اور پھر اگلا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی وکلاء نے ملزمین کے دفاع میں عدالت میں متعدد ثبوت وشواہد پیش کیئے لیکن عدالت نے اسے جزوی طور پر قبول کرتے ہوئے دو ملزمین کو باعزت بری کردیا اور تین کو قصور ٹہرایا ہے جس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیاجائیگا ۔