فلسفہ شہادت امام عالی مقام حضرت حسینؓ، اسکی حقیقت اور پیغام

0 148
از: ڈاکٹر سید مشائخ حسینی قادری
 اللہ رب العزت اپنے کلام پاک قرآن مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے۔
من المومنین رجال’‘ صدقو ما عھٰد واللہ علیہ فمنھُم مّن قضٰی نحبہ‘ ومنھم من یّنتظرُوما بدَّ لوُتبدیلاً(سورۃ الاحزاب ،آیت ۲۳)
ترجمہ : ــــ’’مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا تو ان میں سے کوئی اپنی منت پوری کرچکا ہے اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرہ برابر بھی نہیں بدلے۔‘‘
بعض مفسرین قرآن کی رائے میں یہ آیت کریمہ حضرت حمزہؓ ، حضرت عثمان غنی ؓ ، حضرت طلحہ ؓ  جیسے عظیم صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ لیکن چونکہ قرآن مجید کے احکام عام ہیں اور تا قیامت ہمارے لئے نافذالعمل ہیں اسلئے امام حسین ؓ اور انکے افراد خاندان کی شہادت بھی اسی آیت مبارکہ کی مصداق ہے۔ اور اس عظیم مقام پر فائز کرنیکا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے خود اس وقت فرمادیا تھا جس وقت آپ ؓ اپنے  عالم  طفلیت میں تھے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے۔
حضرت انس بن حارث ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہـ’’ بے شک میرا بیٹا حسینؓ قتل کردیا جائیگا۔ اس زمین کا نام کربلا ہے۔ سو جو شخص تم لوگوں میں وہاں موجود ہو تو اسکو چاہئے کے اسکی مدد کرے ‘‘۔ تو انس بن حارثؓ کربلا گئے اور حضرت امام حسینؓ کے ساتھ شہید ہوگئے ۔(البدایہ والنہایہ جلد ۸ صفحہ ۱۹۹)
اس مشیت الہی کے تحت ۱۰؍ محرم الحرام  ۱ ۶   ؁ھ میں کربلا کی سرزمین پر واقعہ شہادت پیش آیا جسکے بارے میں ہم بخوبی واقف ہیں اور جس کے نتیجہ میں رسول اللہ ﷺ کے نواسے عالی مقام حضرت حسینؓ بن علیؓ اپنے  ۷۲  افراد خاندان کے ساتھ یزیدی لشکر کے ہاتھوں انتہائی ظلم، تشدد ، بربریت اور نہایت بے رحمی سے شہید کئے گئے۔ اس عظیم شہادت کے پیچھے جو حقیقت و فلسفہ پنہاں ہے اسکے سمجھنے کے لئے ہمکو پہلے حضرت امام حسینؓ کا مقام اور کردار یزید پلید کو سمجھنا ضروری ہے۔
مقام حضرت امام حسینؓ : آپکے مقام کہ بارے میں کون نہیں جانتا کے آپ چمن اہل بیت کے ایک پھول ہیں جس اہل بیت کی عظمت خود اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں بیان فرماتا ہے۔انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرّجس اھل البیت و یطھّرکم تطھیرا  (سورۃ الاحزاب، آیت ۳۳)
ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والوں تم سے ہر ناپاکی دور فرمادے اور تمھیں خوب پاک و ستھرا کردے۔
دوسری جگہ ارشاد ربّانی ہوتا ہے
قل لا اسئلکم علیہ اجراً الّاالمودّۃ فی القربیٰ  (سورۃالشوریٰ آیت ۲۳)
ترجمہ : تم فرمائوکے میں اس پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا بجز قرابت داروں کی محبت کے
ان دونوں آیتوں سے پتہ چلتا ہیکہ اہل بیت بہت ہی اعلیٰ عظمت کے حامل ہیں اور انکی محبت و ادب مسلمانوں کے لیے واجب ہے۔ اب کوئی بھی ذی عقل امام حسینؓ کا مقام اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیا ہے اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔
آئیے اسکے بعد ملاحظہ فرمائیے کہ آقائے نامدار ﷺ کے نزدیک آپؓ کا کیا مقام ہے۔ اس تعلق سے احادیث میں آپکے کئی فضائل آئے ہیں۔ جو حسبِ ذیل ہیں
حضور ﷺ نے فرمایا’’  حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں‘‘۔(سنن ترمذی جلد نمبر۵ صفحہ ۴۲۹، حدیث نمبر ۳۹۰۰)
اس سے یہ معلوم ہوتا ہیکہ حضور ﷺ کے جمال و کمال ، علم و فضل ، اخلاق و کردار حضرت حسینؓ کے اندر ظاہر ہیں گویا کہ آپ ؓ اصل میں مظہر رسول ہیں۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک حسن اور حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ (مشکوٰۃ)
ظاہر ہیکہ پھل اور پھول میں جمال و کمال حقیقت میں اصل کا ہی ہوتا ہے یعنی آپکی شخصیت میں جو تاثیر تھی وہ دراصل حضورﷺ کی ہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ امام عالی مقام نے اپنی تمام زندگی اسی شان ، عظمت اور مرتبت مصطفیٰ کے مطابق اپنی زندگی گزاری یہاں تک کے میدان جنگ میں بھی اپنے ایمان ، شجاعت ، بے پناہ صبرو حلم اور ثابت قدمی کا وہ مظاہرہ کیا کہ رہتی دنیا تک ایک سچائی کا نشان بن گئے۔
کردار یزید پلید:یزید امیرالمومنین حضرت معاویہؓ کا بیٹا تھا جسکو اپنے والد کے وصال کے بعد وراثت میں سلطنت اسلامیہ کی حکومت ملی ۔ اس نے اپنے اقتدار کو ملوکیت میں تبدیل کیا اور بہت ہی قلیل عرصہ میں اپنی بداعمالیوں کی وجہہ سے مسلمانوں کا اعتماد کھوبیٹھا علامہ ابن کثیر اپنی تصنیف البدایہ والنہایہ میں ایک باب ذکر یزید بن معاویہؓ  کے تحط رقمطراز ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یزید بہت ہی دنیا پرور ، شرابی ، موسیقی پسند کرنیوالا ، ناچنے گانے کا دلدادہ شخص تھا۔ وہ ھمہ اقسام کے جانور جیسے مینڈک ، بھالو ، بندر وغیرہ کو پالتا تھا انکو لڑاتا تھا۔ دن کا آغاز شراب سے کرتا اور گھوڑے کی پیٹھ پر بندر کو  بٹھاکر دوڑایا کرتا۔ اسکے علاوہ وہ اپنے ساتھ نو خیز لڑکوںکو بھی رکھتا تھا۔(البدایہ ولنہایہ، جلد۸ ، صفحہ ۱۱۶۹)
یزید پلید کا کردار کا دوسرا رخ دشمنی اہلبیت سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس نے امام عالی مقام کی شہادت کے بعد آپ کے سر انور کو اپنے دربار دمشق میں منگواکر اسکی بے حرمتی کی اسکے علاوہ اس نے اپنے منہ سے ایسے اشعار ادا کیے جن سے اسکی اہلبیت سے عداوت صاف ظاہر ہوتی ہے۔ ان اشعار کا ترجمہ پیش ہے۔’’اے کاش بدر میں قتل ہونیوالے میرے اشیاخ بنوخزرج کا نیزوں کی ضربوں سے چیخنا چلانا دیکھتے ہم نے تمھارے دوگنا اشراف کو قتل کردیا اور یوم بدر کے میزان کے جھکائو کو برابر کردیا۔‘‘(البدایہ والنہایہ، جلد۸، صفحہ۱۹۲)
یزید کی بد کرداری کا ایک اور نمونہ تاریخ میں یہ بھی ملتا ہے کہ اس نے واقعہ شہادت کے بعد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے حرمت والے مقامات پر بھی حملہ کیا۔مسجد نبوی اور خانہ کعبہ کے تقدس کو بھی پامال کیا اور وہاںکے باشندوں پر ظلم و تشدد کے علاوہ بدامنی بھی پھیلائی۔
حقیقتِ شہادت: مندرجہ بالا پیش کردہ تفصیلات سے یہ اظہر من الشمس ھوجاتاہیکہ امام عالی مقام کی ذات اقدس ہر لحاظ سے اعلیٰ و عرفہ تھی جسکے بر عکس یزیدکی شخصیت عداوت رسول و اہل بیت سے بھری ہوئی اور مخالفت شریعت کی حامل تھی۔ ان حالات کہ مد نظر معرکہ کربلا کی اصل حقیقت اُجاگر ہوتی ہے اور وہ یہ کہ یہ جنگ کسی بھی قسم کے اقتدار، مال و دولت ، جاہ وحشم کی خاطر بالکل نہیں لڑی گئی تھی۔ بلکہ یہ ایک عظیم انقلاب کی جنگ تھی جس میں دو مخالف نظریوں اور دو مخالف نظام کا تصادم تھا۔ ایک طرف سراسر  ہدایت تھی تو دوسری طرف انانیت اور گمراہی ، ایک طرف اعلائے کلمۃ الحق اور اسکی حفاظت  و شریعت محمد ی ﷺ کی پاسداری تھی اور اسکے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے اس فریق کا ہر ایک رکن راضی بہ رضا تھا۔ دوسری طرف دشمنان اسلام و دشمنان رسول ﷺ و اہلبیت اپنی طاقت کے نشہ میں چورشریعت محمدی ﷺ کو مسخ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھے۔
بعد ازآں آئیے اب شہادت حُسین ؓکے سب سے اہم ترین پہلو کی طرف ایک نظر ڈالتے ہے جو اسکی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ وہ یہ کہ معرکہ کربلا ہر گز کوئی اتفاق نہیں تھا۔ بلکہ یہ شہادت خالص مشیت الٰہی کے تحت وقوع پذیر ہوئی تھی جس کی پیش گوئی حضور اکرم ﷺ نے امام عالی مقام کی شہادت واقع ہونیکے تقریباً ۵۶ سال پہلے ہی فرمادی تھی جیسا کہ حسب ذیل کی ایک طویل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔حضرت اُم الفضل بنت حارث ؓ  بیان فرماتی ہیں کہ وہ سرکار دو عالم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوکرعرض کیں کہ یا رسول اللہ ﷺ  میں نے ایک خوف ناک خواب دیکھا ہے سرکار نے ارشاد فرمایا آپنے کیا خواب دیکھا؟ عرض کرنے لگیں کہ بہت ہی فکر کا باعث ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا وہ کیا ہے؟ عرض کرنے لگیں آپ کے جسد اطہر سے ایک ٹکڑا کاٹ دیا گیا اور میری گود میں رکھ دیا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا آپ نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے۔ انشاء اللہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو صاحبزادے تولد ہونگے اور وہ آپکی گود میں آئنگے۔ وہ فرماتی ہیںکہ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘تولد ہوئے اور وہ میری گود میں آئے جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے بشارت دی تھی۔ پھر ایک روز میں حضورپاک ﷺ کی خدمت با برکت میں حاضر ہوئی۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ‘ کو آپکی خدمت بابرکت میں پیش کیا پھر کیا دیکھتی ہوںکے سرکار دو عالم ﷺ کے چشمان اقدس اشکبار ہیں۔ یہ دیکھ کر میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قرباں اشکباری کا سبب کیا ہے؟ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جبرئیل ؑ نے میری خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا۔ عنقریب میری امت کے کچھ لوگ میرے اس شہزادے کو شہید کرینگے ۔ میں نے عرض کیا : سرکار کیا وہ اس شہزادے کو شہید کرینگے؟ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا :  ہاں!  اور جبرئیل امین ؑ نے اس مقام کی سرخ مٹی میری خدمت میں پیش کی۔(دلائیل النبوہ للبھیقی حدیث نمبر۲۸۰۵، مشکواۃ المصابیح، کتاب المناقب حدیث نمبر ۶۱۷۱)
اس سلسلہ میں ایک اور حقیقت سے آشنا ہونا ضروری ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی پیش گوئی صرف یکطرفہ یعنی حضرت حسینؓ کی شہادت کے بارے میں نہیں تھی بلکہ آپ نے اپنے نور نظر حسین ؓ کے مد مقابل آنیوالے بد نصیب کے بارے میں بھی واضح طور پر پیش گوئی فرمادی تھی جیسا کہ حسب ذیل حدیث میںوارد ہوا ہے۔حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ‘ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کا نظام عدل کے ساتھ چل رہا ہوگا حتیٰ کے ایک شخص آئیگا پہلا اقتدار پر جو میرے دین کی قدروں کو برباد کردیگا اور وہ شخص بنو اُمیّہ میں سے ھوگا اسکا نام یزید ہوگا۔](مسند بزّار جلد ۴ صفحہ۱۰۹ حدیث نمبر۱۲۸۴(، ) مُسندابو یٰعلیٰ جلد نمبر۲ صفحہ۱۷۶ حدیث نمبر ۸۷۱(، ) مصنّف ابن ابی شیبہ جلدہ نمبر ۸ صفحہ ۳۴۱ حدیث نمبر۱۴۵(،) امام بیہقی دلائیل النبوۃ  حدیث نمبر ۲۸۰۲)[
اسطرح یہ عظیم اور فیصلہ کن معرکہ،  حق و خلاف حق کے درمیان مشیت الٰہی کے مطابق سر انجام پایا جسکی پیش گوئی حضور اکرم ﷺ فرماچکے تھے۔آئیے اب فلسفہ شہادت امام عالی مقام ؓ کی آخری کڑی کے اظہارکے ساتھ مضمون کو اختتام کی طرف لے چلتے ہے۔ یہ ایک بہت ہی اہم نکتہ ہے جو شہادت کی حقیقت سے جڑا ہوا ہے۔ اور وہ یہ ہیکہ سردار دوجہاں ﷺ ،حضرت علی کرم اللہ وجہہ ؓ، حضر ت خاتون جنت بی بی فاطمہؓ یا خود حسینؓ نے اس شہادت سے بچنے کی دعا نہیں فرمائی۔اسکے علاوہ تمام واقعہ کربلا کے دوران ابتدا سے لیکر انتہا تک کوئی ایسا معجزہ یا کرامت بھی ظاہر نہیں ہوئی کے جسکی وجہہ سے ظالموں کا ظلم کا رخ بدل جاتا اور فیصلہ ہوجاتا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسطرح کا کوئی بھی واقعہ کا ذکر نہیں ملتا۔ اسکی وجہہ یہ ہے کہ یہی اللہ رب العزت کی منشا تھی اور اس عظیم ترین مقام ِ شہادت و مقام صبر و رضا کو پانے کے لئے تمام احباب امام حسینؓ راضی تھے۔حاصل کلام یہ کہ حضرت امام حسین ؓ نے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی قربانی پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ اہل حق اپنا سر تو کٹا سکتے ہیں لیکن باطل کا ساتھ نہیں دے سکتے گو کہ شہادت  ظاہراً  فنا کا ایک نظارہ تھا لیکن آپ کو مشیت الٰہی نے ایسی لازوال بقاء بخشی کے دنیا اسکی نظر لانے سے قاصر ہے۔ بقول شاعر
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہےاسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
پیغام شہادت:َ٭جب بھی اللہ کے دین پر آنچ آئے تو ہمکو اسکا کامل یقین اور ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہئے ٭ظلم کو برداشت کرنے کے بجائے ہمکو ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہئے٭ہمکو ہر حال میں حق کا ساتھ دینا چاہئے اور شریعت محمدی ﷺ کے تحفظ کیلئے اپنا سب کچھ قر بان کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔٭مشکل ترین حالات میں اللہ کی مشیت پر صبر کر نیکی عادت بنانی چاہئے٭مختصر یہ کہ ہر دور میں حُسینیت اور یزیدت کی طاقتیں کار گر ہوتی رہیگی لیکن ہم کو حسینیت کا ساتھ دینا چاہئے۔