سابق وزیر تعلیم پروفیسر جاوید خان کا انتقال

3

کانگریس کمیٹی اقلیتی محکمہ نے غم و رنج کا اظہار کیا

بھیونڈی ( ایس اے ):- بھیونڈی کانگریس کمیٹی اقلیتی محکمے نے مہاراشٹر حکومت کے سابق وزیر تعلیم پروفیسر جاوید خان کے اچانک انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ اس تناظر میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی اقلیتی محکمہ کے ترجمان اقبال صدیقی نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے بتایا کہ پروفیسر جاوید خان کچھ دنوں سے علیل تھے اور انہوں نے آج صبح اسپتال میں آخری سانس لی ۔

اقبال صدیقی نے بتایا کہ پروفیسر جاوید خان کے اچانک انتقال سے کانگریس نے ایک سینئر رہنما کھو دیا جس کی تلافی کرنا ناممکن ہے ۔ پروفیسر جاوید خان صاحب کو ہمیشہ ایک ماہر تعلیم اور ایک شاندار ماس لیڈر کے طور پر یاد رکھا جائیں گا ۔ جب جاوید خان صاحب وزیر تعلیم تھے ، تعلیم کے میدان میں اردو اسکولوں کے لئے جو کام کیا گیا وہ تاریخی رہا ہے ۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں دیانت و ایمانداری کے ساتھ ترقیاتی کاموں کے لئے ایک مثالی رہنما ثابت ہوئے ہے ۔

پروفیسر جاوید خان 1985 سے 1995 تک ایم ایل اے رہ چکے ہیں اور وزیر تعلیم کے ساتھ وزارت محنت و رہائش میں وزیر بھی رہ چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ بھوپال ریلوے بورڈ کے چیئرمین اور سیڈکو کے چیئرمین بھی رہے ہے ۔ تعلیم کے میدان میں اورینٹل ایجوکیشن سوسائٹی کے توسط سے 5 کالج چلائے گئے جہاں فارمیسی ، بی ایڈ ، ڈی ایڈ ، ایم بی اے کے طلباء کو تعلیم دی جارہی ہے ۔ پروفیسر جاوید خان کے بڑے بیٹے ندیم جاوید اترپردیش کی جونپور صدر اسمبلی سے سنہ 2012 سے 17 تک ایم ایل اے رہے ۔

فی الحال کانگریس اقلیتی محکمہ کے قومی چیئرمین ہیں ۔ سابق وزیر جاوید خان کو ممبئی کے شانٹاکروز قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔ جاوید خان کے بڑے بیٹے ندیم جاوید کانگریس اقلیتی محکمہ کے چیئرمین ، ممبئی اقلیتی محکمہ کے چیئرمین کارپوریٹر حاجی ببو خان ، اقلیتی محکمہ کے قومی سکریٹری فرحان اعظمی ، ناصر جمال ، نظام الدین رائن ، مدثر پٹیل صابر شیخ ، ڈاکٹر مرزا عبیداللہ فاضل انصاری ، انیس قریشی ، وکاس تانبے اور کنبہ کے افراد موجود تھے ۔