ڈالر کے مقابلے روپیہ میں ریکارڈ گراوٹ، پہلی بار 71روپے کی نچلی سطح پر

0 16

روپیہ کی قیمت میں لگاتار گراوٹ سے ایکسپورٹر گلوبل مارکیٹ میں اپنے مال کا صحیح مول بھاؤ نہیں کر پارہے ہیں جس سے ان کو غیر یقینی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

علامتی فوٹو: رائٹرس

نئی دہلی : کچے تیل کی بڑھتی قیمت کے بیچ ڈالر کی مانگ بڑھنے سے روپیہ جمعہ کو شروعاتی کاروبار میں 26پیسے کی گراوٹ کے ساتھ 71روپے کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔انٹر بینک غیر ملکی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے روپیہ مقامی کرنسی 70.95 روپے پر کھلا اور بعد میں 71روپے کی سطح پر چلا گیا۔غور طلب ہے کہ روپیہ جمعرات کو 70.74پر بند ہوا تھا۔

کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کے مطابق مہینے کے آخر میں تیل درآمد کرنے والوں کی طرف سے امریکی کرنسی کی مضبوط مانگ ،چین-امریکہ کے بیچ تجارتی تناؤ کے ساتھ سود کی شرح بڑھنے کی امید میں دنیا کی دوسری اہم کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کے مضبوط ہونے سے گھریلو کرنسی پر اثر پڑا۔کچے تیل کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے افراط زر میں اضافے کی امید اور گھریلو شیئر بازار غیرملکی شعبہ جاتی سرمایہ کاروں کی پونجی کی نکاسی سے بھی روپے پر اثر پڑا ہے۔

ایشیائی کاروبار کی شروعات میں اسٹینڈرڈ برینٹ کروڈ کا بھاؤ 78ڈالر بیرل پر پہنچ گیا۔وہیں روپے کا بھاؤ میں لگاتار گراوٹ سے ایکسپورٹر گلوبل بازاروں میں اپنے مال کا صحیح مول بھاؤ نہیں کر پارہے ہیں جس سے ان کو غیر یقینی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔فیڈریشن آف انڈین ایئر پورٹ آرگنائزیشن (ایف آئی آئی او)نے یہ باتیں کہی ہیں۔

تنظیم کے صدر گنیش کمار گپتا نے کہا کہ روپے میں گراوٹ کی وجہ گلوبل خریدار سودوں کا تجزیہ کرنے کو کہہ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ایکسپورٹر غیر یقینی کا سامنا کر رہے ہیں ۔ وہ خود کا بچاؤ کرنے کے اہل نہیں ہیں کیوں کہ ان کو یہ نہیں معلوم کہ روپیہ اگلے دن کتنا گرنے یا چڑھنے والا ہے۔

گپتا نے کہا کہ روپے میں گراوٹ سے محض 20فیصد ایکسپورٹر کو فائد ہ ہوتا ہے جو ہیجنگ یا مستقبل کے زر مبادلہ کی شرح کے بانڈ میں شامل نہیں ہوتے ہیں جبکہ 80فیصد ایکسپورٹروں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔انہوں نے آنے والے دنوں میں گھریلو کرنسی کے 67سے 68روپے فی ڈالر کے آس پاس مستحکم ہونے کی امید کی جارہی ہے۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)