حکومت مہاراشٹرا کا متنازعہ قانون تحفظ گائے اورکمیشن کی تشکیل

ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین ، ناندیڑ مہاراشٹر.۔(9890245367)Adv Bahauddin
بی جے پی کی سربراہی میں بننے والی حکومت مہاراشٹرا جو تین برس پہلے بیف پر پابندی عائد کرچکی تھی اب حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ مہاراشٹرا میں گﺅسیوا آیوگ (Cow Commition) جو گائے اور اس کی نسل کے تحفظ کے لئے کام کرے گا اور ان سے متعلق قانون کی عمل آوری میں مدد کرتے ہوئے گائیوں کے قتل کے لئے مزید قانون کے مطابق تحفظ کرے گا۔ کمیشن کا الحاق محکمہ انیمل ہسبنڈریز سے ہوگا۔ جس کے ذمہ یہ کام ہوگا کہ وہ تمام جانوروں جو پولیس نے ضبط کیا ہے جو قانونی کارروائیوں کے دوران جو ملزمین کے خلاف کی جاتی ہے اس دوران ملنے والے تمام جانوروں کے سلسلے میں ایک اسکیم بنائے گا کہ ان کے ذریعہ سے ملنے والے گوبر اور پیشاب سے بائیوگیس پروجیکٹ بناسکیں گے اس قسم کی اپنی رپورٹ حکومت کو دی جائے گی کہ کس طرح گﺅشالہ کے رضاکاروں کو گائے کے تحفظ کے سلسلے میں تربیت دی جائے گی۔ اسی طرح اس کمیشن سے یہ بھی متوقع ہے کہ وہ اس سلسلے میں یونیورسٹی میں ہونے والے پروجیکٹ اور پروگرام سے بھی وہ واقفیت حاصل کرے اور چارے کی افزائش کے سلسلے میں ربط میں رہے۔
کمیشن کے کام کا آغاز پونا سے ہوگا۔ گوکہ اب یہ طے ہونا باقی ہے کہ انیمل ہسبنڈری کو اس سلسلے میں کتنا بجٹ دیا جائے گا۔ انیمل ہسبنڈری کے وزیر مادھو جانکر نے ٹائمز آف انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ” ہندوستانی دیسی نسل کی گائیوں کا تحفظ اور ان سے دودھ کے حصول میں اضافہ کمیشن کا منشاءاور مقصد ہے۔اس قسم کی تحریک اسٹیٹ کیبنیٹ کے روبرو اگلے ہفتے پیش کی جائے گی۔“ اس قسم میں ایک بل بھی مہاراشٹر اسمبلی اور کونسل میں آنے والے سرمائی میقاتی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
کانگریس نے خصوصی طور پر گﺅرکشکوں کی وجہ سے ہونے والے گرفتاریاں ویبھو راﺅت نالاسوپارا میں اس کے گھر سے جو تحقیقات ایجنسی نے دھماکوں اشیاءاور مواد حاصل کیا ہے اور گﺅرکشکوں کو اس پر گرفتار کیا جارہا ہے ان کے گھروں میں بم دستیاب ہوئے لیکن بی جے پی حکومت کی سیاست اس وقت گائے کے نام پر چل رہی ہے تاکہ وہ اسمبلی یا پارلیمنٹ کے الیکشن میں اس کا فائدہ اٹھاسکے۔ حکومت اس قابل نہیں ہے کہ یہ چھٹے ہوئے گاﺅں میں پھرنے والے جانوروں کو چارہ فراہم کرسکے۔ کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے کہا۔ اور اس طرح مزید اضافہ کرتے ہوئے ترجمان کا یہ کہنا ہے کہ بی جے پی پڑوسی ریاستوں میں مثلاً گوا میں بیف پر پابندی نہیں لاسکتی۔
دفتری ذرائع اطلاع کے مطابق یہ معلومات ملی ہے اس قسم کا آغاز 1998ءمیں بھی اس وقت کے وزیر انیمل ہسبنڈری نارائن رانے نے بھی کیا تھا لیکن اس وقت اس قسم کا کوئی کمیشن تشکیل نہیں دیا گیا۔ دیویندر فڈنویس کی حکومت Animal Preservation Act 1995 میں ترمیم کرتے ہوئے گائے کے قتل پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔