چین نے کہاہے کہ وہ صوبہ سنکیانگ میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ براسلوک نہیں کررہاہے بلکہ انتہاپسندی کوروکنے کے لئے کچھ لوگوں کو تربیت دے رہاہے ۔ چین کے اطلاعاتی دفترمیں حقوق انسانی بیور کے پبلسٹی ڈائریکٹر لی شیاؤجن نے جمعرات کو کہا،’’یہ براسلوک نہیں ہے ۔چین مسلمانوں کے لئے پیشہ ورتربیتی مرکز اور تعلیمی مراکز قائم کررہاہے‘‘ ۔

انھوں نے کہاکہ ،’’ہوسکتاہے کہ آپ اسے بہترین راستہ نہ کہیں لیکن یہ اسلامی یا مذہبی انتہاپسندی سے نمٹنے کا لازمی راستہ ہے ۔‘‘انھوں نے یوروپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مغربی ممالک اسلامی انتہاپسندی سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں ۔بلجیم ،فرانس اور ایسے دیگر یوروپی ممالک کو دیکھنے سے پتہ چلتاہے کہ وہ پوری طرح ناکام رہے ہیں


اپنی رائے یہاں لکھیں