Center mulazim ki galti ka khamyaza musafer ko

2

کنفرم ٹکٹ منسوخ کرنے کا معاملہ

ٹکٹ سینٹر کی من مانی کا خمیازہ بھگتنا پڑا مسافر کو

بھیونڈی ( ایس اے ):- ویٹنگ ٹکٹ نکالنے کے بجائے کنفرم ٹکٹ کینسل کرنے والے سرکار سے منظور شدہ ٹکٹ سینٹر کی من مانی کا خمیازہ آخر کا خاتون مسافر کو بھگتنا پڑا ۔ جس کے بعد خاتون کو خود ویٹنگ نکال کر دوسرے کے ٹکٹ پر دھکے کھاتے گاوں شادی میں شامل ہونے جانا پڑا ۔
واضح ہو کہ بھیونڈی کے کملا ہوٹل کے پاس نوکار بلڈنگ میں رہنے والے ممتا کیسروانی کا 28 نومبر کو کلیان اسٹیشن سے پریاگ راج چھیوکی تک گاڑی نمبر 05645 کی خصوصی ٹرین سے کنفرم ٹکٹ تھا ۔ کنفرم ٹکٹ پر ماں کے ساتھ بیٹا بھی گاوں جانا چاہتا تھا اس لئے ممتا کے شوہر راکیش کیسروانی نے 23نومبر کو اسی گاڑی سے لڑکے کا ویٹنگ ٹکٹ نکالنے شہر کے کلیان ناکہ پر واقع گورنمنٹ کے تسلیم شدہ کے ایم جین کسٹمر کئیر سینٹر پر گئے جہاں پر انھوں نے ویٹنگ ٹکٹ نکالنے کے لئے سینٹر کے کلرک سچن چودھری کو باقائدہ فارم بھر کر دیا ۔ لیکن سینٹر کے غیر تربیت یافتہ ملازم نے راکیش سے کنفرم ٹکٹ دیکھنے کے لئے لیا اور اسے کینسل کر دیا ۔ جس کی شکایت انھوں نے بھیونڈی ریلوے اسٹیشن کی ڈائری میں درج کرائی تھی ۔ ادھر راکیش کیسروانی نے کنفرم ٹکٹ منسوخ ہونے کے بعد اپنی بیوی اور بیٹے کا اسی دن کا اسی ٹرین کا دوسرا ویٹنگ ٹکٹ نکالا اور ایم پی کپل پاٹل کا وزیر ریلوے کے نام کا سفارش لیٹر لگا کر اسے کنفرم کرنے کے لئے اسے سینٹرل ریلوے کے چھترپتی ٹرمنل پر دیا لیکن ریلوے انتظامیہ نے رکن پارلیمنٹ کی سفارش پر کوئی توجہ نہیں دی اور دونوں میں سے کسی ایک بھی ٹکٹ کو کنفرم نہیں کیا ۔ اس کی جانکاری دیتے ہوئے راکیش کیسروانی نے بتایا کہ اس کی بیوی اور بیٹے نے دوسرے کے کنفرم ٹکٹ پر دھکا کھاتے ہوئے گاؤں شادی میں شرکت کے لئے گئے ۔ راکیش کا کہنا ہے کہ اگر ریلوے انتظامیہ سے شکایت کے باوجود انصاف نہ ملا تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوجائیں گے تاکہ کسی اور مسافر کو کسٹمر سہولت سینٹر کی من مانی کا خمیازہ کسی دوسرے کو نہ بھگتنا پڑے ۔