ہمرا نام پرپینڈی کلر ہے۔ فیضل خان ہمرے بڑے بھائی ہیں۔ ہم آپ کی دکان لوٹنے آئے ہیں

0 0

سینما کےشائقین کو یاد رہ جانے والا یہ ڈائیلاگ گینگس آف واسع پور کے آدتیہ کمار کی پہچان کچھ اس طرح بنا کہ لوگ آج بھی اس نوجوان اداکار کو بابو خان عرف ببوا عرف پرپینڈیکلر کے نام سے بلاتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ منجھے ہوئے اداکاروں کی موجودگی میں آدتیہ نے اس وقت اپنی توتلی زبان اور اداکاری کی بدولت خوب واہ واہی بٹوری تھی۔آدتیہ آج کل اپنی نئی فلم دھڑک‌کے رسپانس سے خوش ہیں۔ فلم میں دیوی سنگھ کے کردار کے لئے اپنے ڈائریکٹر ششانک کھیتان کے یقین کو کریڈٹ دیتے ہوئے اپنے تجربے کے بارے میں کہتے ہیں کہ مجھے ان کے ساتھ کام کرکے ایک ایکٹر کے طور پر کافی کچھ سیکھنے کو ملا۔



 

دھڑک کے لئے آدتیہ کو ملے جلے رسپانس مل رہے ہیں۔ دی وائر سے ایک بات چیت میں فلم ہدایت کاراویناش داس کہتے ہیں ؛ آدتیہ خدا داد صلاحیت کے ایکٹر ہیں۔ گینگس آف واسع پور میں پرپینڈیکلر کا کردار ان کی طرح کوئی کر ہی نہیں سکتا تھا۔ اویناش یہ بھی کہتے ہیں کہ آدتیہ نے صحیح معنوں میں رسمی تربیت نہیں لی اور مجھے فطری صلاحیت پر اتنا بھروسہ بھی نہیں ہے، لیکن آدتیہ جیسے فنکار میرے بھروسے میں سیندھ لگاتے ہیں۔ وہ اداکاری کے ایکلویہ ہیں۔ دنیا بھر‌کے اچھے اداکاروں کے کام کو دیکھ‌کرسیکھنا… بس کمال ہے۔ایک بار پھر دھڑک میں آدتیہ نے بہت بہتر پرفارمینس دیا ہے۔ امید ہے، وہ بالی وڈ کے آسمان میں ایک دن گھنے بادلوں کی طرح چھا جائے‌گا۔

آدتیہ اس طرح کے رسپانس سے بےحد خوش ہوتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ مجھے سب سے زیادہ خوشی تب ہوتی ہے جب میرے بچپن کے دوست میری تعریف کرتے ہیں۔ گینگس آف واسع پور دیکھ‌کر دوستوں کی باتوں سے ہی مجھے لگا تھا کہ میں برا ایکٹر نہیں ہوں اور میں ایکٹنگ کر سکتا ہوں۔بتاتے چلیں کہ بہار میں پسماندگی کی مار جھیلنے والے ایک چھوٹے سے گاؤں کے آدتیہ کو دسویں، فرسٹ ڈویزن سے پاس کرنے کے بعد بھی کبھی لگا تھا کہ پڑھائی لکھائی ان کے بس کی بات نہیں ہے۔

غور طلب ہے کہ میتھ،فزکس اور کیمسٹری سے پلہ جھاڑ لینے والے آدتیہ نے اپنی دوسری اور پہلی ریلیز ہونے والی فلم میں پرپینڈیکلر کے معنی کو ایک خاص سین میں جس طرح سے پردے پر اتارا تھا وہ شایدمیتھ کا کوئی استاد سوچ بھی نہیں سکتا۔دی وائر سے خاص بات چیت کے دوران آدتیہ، پرپینڈیکلر کے چیلنج بھرے کردار کو یاد کرتے ہوئے اپنے گاؤں کی یادوں میں کھو جاتے ہیں اور کہتے ہیں ؛ مجھے ریلوے اور بینک والی نوکری کے چکر میں پھنس‌کرنہیں رہنا تھا اور یو پی ایس سی مجھ سے ہوتا نہیں تو بس میں دسویں کے بعد ہی اپنے آپ سے ایماندار ہو گیا تھا۔

گینگس آف واسع پور میں ہاف پینٹ اور ہوائی چپل میں نظر آنے والے آدتیہ کے چھوٹے سے فلمی سفر کی کہانی میں چھوٹی بڑی کامیابی بھلے آج ان کو پرجوش کر رہی ہو، لیکن یہ سب قصبے کے ایک لڑکے کی اڑان بھر نہیں ہے۔ دراصل آدتیہ اس گاؤں سے آتے ہیں جہاں بجلی ابھی 5 سال پہلے ہی آئی ہے۔آدتیہ اپنے گاؤں اور بچپن کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں ؛ گاؤں میں کچی سڑک تھی، ہمیں مین روڈ تک جانے کے لئے گھٹنے بھر کیچڑ سے جوجھنا پڑتا تھا اور شہر جانے کے لئے ندی پار کرنی پڑتی تھی۔ ان سب سے مجھے نکلنا تھا، کچھ بڑا کرنا تھا، مجھے اس سماج میں پھنس‌کر نہیں رہنا تھا جہاں روز چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے جھگڑے ہوتےہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ آدتیہ کو اپنے گاؤں اور اس کے کیچڑ سے گھن آتی ہو۔ لیکن وہ اپنے سماج کی مفلسی سے غم زدہ ضرور ہیں۔ آدتیہ کہتے ہیں ؛ میرےپتاکھیتی کسانی والے معمولی آدمی ہیں، ساتھ میں چھوٹی موٹی گاڑیوں کا ورکشاپ ہے۔ میں یہی سب دیکھتا چلا آ رہا تھا…26 سالہ آدتیہ اپنے سماج کی پسماندگی کے ساتھ گاؤں کی اسکولی تعلیم پر بھی سوال اٹھاتے ہیں اور بتاتے ہیں ؛ ایک سنہرے مستقبل کے لئے بہار سےنقل مکانی ہر نوجوان کی مجبوری ہے۔ میں بھی دوسرے نوجوانوں کی طرح وہاں سے نکلنا چاہتا تھا تو ایک دن میں نے پتاجی سے کہا کہ یہاں کچھ نہیں ہوگا، انہوں نے حامی بھری اور بولے پہلے دسویں کر لو پھر آئی ایس کی تیاری کے لئے چلے جانا۔

اس وقت مجھے بھی سوچ‌کر اچھا لگا کہ چلو یو پی ایس سی کی تیاری کریں‌گے۔ لیکن دسویں کے بعد پتہ نہیں کیا ہوا کہ اچانک میں نے فیصلہ کر لیا کہ نہیں مجھے ایکٹر بننا ہے۔ شاید یہ میرے بدھو من کی خام خیالی تھی یا شاید دور اندیشی…آدتیہ اپنے سپنے کی جڑوں کو ٹٹولنے کی کوشش میں گاؤں کو ہی یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ؛ ہر طرح کے بحران سے پر زندگی کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھی، چھوٹی چھوٹی چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے جدو جہد، نمک سے لےکر صابن تک کے لئے جنگ…مطلب انسان اپنی پوری زندگی بنیادی ضرورتوں کے جنجال سے ہی نہیں نکل پاتا۔ پھر آس پڑوس کی ٹوکاٹوکی بھی کہ فلاں کے پاس کتنا بینک بیلنس ہے…

اپنے آس پاس سینما کے سوال پر کہتے ہیں ؛ میرے گاؤں میں چوری چوری وی سی آر کرایے پر چلتا تھا۔ پولیس آتی تھی تو لوگ بھاگ جاتے تھے، 2-2 روپے چندہ کرکے متھن کی فلم دیکھی جاتی تھی۔ وی سی آر تو میرے اباجان کا ہی تھا۔ لیکن اس وقت فلم دیکھتے ہوئے بھی کبھی دل میں نہیں آیا کہ مجھے فلموں میں جانا ہے۔صرف 3 مہینے میں اچانک یہ طے ہوا تھا…آدتیہ اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ شاید وی سی آر والی فلموں نے ان کو سینما سے قریب کیا۔

آدتیہ کچھ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں ؛ گاؤں میں کبھی کچھ بھی ایسا نہیں کیا جس کو آپ ایکٹنگ کہیں، اسکول میں بھی کوئی کلچرل پروگرام نہیں ہوتا تھا۔ ہاں 15 اگست اور 26 جنوری کو حب الوطنی والی فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔بہار کے پٹنہ ضلع کے پبھیرا گاؤں میں پیدا ہوئے آدتیہ کو آج یہ سوچ‌کر حیرت ہوتی ہے کہ اتنی پسماندگی میں تو راہ دکھانے والا بھی کوئی نہیں تھا تو شاید قدرت نے ہی میری رہنمائی کی ہوگی۔

ہر طرح کے بحران میں بھی یو پی ایس سی کے خواب دیکھنے والے اس سماج میں آدتیہ آج بھی اس بات کو سمجھ پانے میں خود کو بہت زیادہ اہل نہیں پاتے ہیں کہ ان کے ذہن میں یہ بات کیسے آئی کہ مجھے فلموں میں جانا ہے، لیکن وہ اس پل کو یاد کرتے ہیں ؛ کہ جب میں نے گھر میں کہا کہ مجھے ہیرو بننا ہے توپتاجی سناٹے میں آ گئے تھے، اور کوئی رد عمل نہیں دیتے ہوئے بھی انہوں نے کہا تھا ؛ پاگل تو نہیں ہو گیا… پھر وہ خودہی بولے ٹھیک ہے، مجھے تھوڑا وقت دو۔ شاید انہوں نے کچھ اور بھی سوچا ہوگا۔ لیکن میں لکی تھا کہ کچھ دنوں کے لئے ہی سہی مجھے بیری جان ایکٹنگ اسٹوڈیو میں سیکھنے کا موقع ملا۔

بیری کے ایکٹنگ اسٹوڈیو سے ہی آدتیہ کےسپنے کی شروعات ہوئی۔ وہ سال 2006 میں پہلی بار دہلی آئے، جہاں ان کے سامنے ایک نئی دنیا تھی۔ دہلی میں اپنے 2 سال کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ؛ ایک سال تک تھیٹرکرتا رہا، لیکن انگلش…، انگلش میرے لئے ایک بڑا مسئلہ بن گئی تھی تو میں نے اس کے لئے بھی محنت کی۔

گاؤں سے دسویں کے بعد ہی دہلی آنے والے آدتیہ نے یہاں اس حیرت کو بھی جیا کہ بڑی بڑی گاڑیوں میں شیشہ کی طرح چمچاتے جوتے اور مہنگے کپڑوں سے لدے پھندے لوگوں کی دنیا بڑی مختلف تھی اور ان کی انگلش…ایک طرح کے کلچرل شاک کو یاد کرتے ہوئے آدتیہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سب میرے وہم وگمان میں نہیں تھا، لیکن میں نے اس نئے ماحول کو اپنانا شروع کر دیا تھا۔ اور چونکہ میں بہت چھوٹا تھا تو لوگ مجھ سے پیار بھی کرنے لگے تھے۔

Perpendicular (1)

شاہ رخ خان اور منوج واجپئی جیسےبڑےاداکاروں کو ایکٹنگ سکھانے والے بیری جان کی شفقت کو یاد کرتے ہوئے آدتیہ بتاتے ہیں کہ پہلے ان کا اسٹوڈیو دہلی میں ہی تھا جو اب ممبئی آ گیا ہے۔آدتیہ بیری جان کے ساتھ گزارے دنوں کے بارے میں کہتے ہیں ؛ ان کی نگرانی میں خود کو جاننےاور سمجھنے کا موقع ملا۔ حالانکہ ان دنوں دہلی میں مجھے کوئی سنجیدگی سے نہیں لے رہا تھا۔ مجھے اپنے ہی بیچ میں جہاں اس بات کو لےکر بھی کمنٹ سننے پڑتے تھے کہ میں بہاری ہوں وہی بیری مجھے بہت سپورٹ کرتے تھے، میری حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

بیری کا تذکرہ کرتے ہوئے آدتیہ جوش سے بھر جاتے ہیں اور کہتے ہیں ؛ میں نے ان کے ساتھ دہلی میں تین پلے کئے جو ہنی ٹرائی لاجی کے تحت ہوا تھا ؛ It ‘ s All About Money، Honey ؛ It ‘ s All About God، Honey ؛ اور It ‘ s All About Sex، Honey۔ یہ سب ہندی اور انگلش میں تھا، بیری کے ساتھ پلے کرتے ہوئے میں نے کسی حد تک ایکٹنگ کی باریکیوں کو سمجھا۔ اپنی اس بات کو اور واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں ؛ بیری کے ٹیچنگ کا اندازکمال کا تھا۔ وہ کبھی یہ نہیں بتاتے تھے کہ ایسے کرنا ہے، وہ کہتے تھے تمہارے اندر سارے امکانات ہیں، بس اس کو ایکسپلور کرو۔ ان کی کہی یہ بات میرے لئے آج بھی منتر کی طرح ہے۔ میں اپنے آپ کو نصیبوں والا سمجھتا ہوں کہ مجھے ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔

تھیٹرکے اپنے چھوٹے سے تجربے کو شیئر کرتے ہوئے آدتیہ سینما اور فلمساز انوراگ کشیپ کا تذکرہ ایک ساتھ کرتے ہیں ؛ چونکہ یہ ایک الگ طرح کا میڈیم ہے تو سینس آف سینما پہلی بار انوراگ کی صحبت میں پیدا ہوا۔ ان کے ساتھ رہ‌کر میں ورلڈ سینما کی حیرتوں سے دوچار ہوا۔ پھر مجھے سمجھ میں آیا کہ ہماری انڈسٹری میں کیا ایکٹنگ ہوتی ہے؟ ہم تو بہت پیچھے ہیں۔

یہاں آدتیہ اپنی عدم واقفیت پر پردہ ڈالنے کی بھی کوشش نہیں کرتے اور یہ بتاتے ہیں کہ مجھے آسکرکے بارے میں بھی پتہ نہیں تھا، مجھے لگتا تھا کہ فلم فیئر ہی سب کچھ ہے۔

انوراگ کشیپ کو گاڈفادر کا درجہ دینے والے آدتیہ بتاتے ہیں کہ میری پہلی فلم ممبئی کٹنگ تھی جو ریلیز نہیں ہو پائی، انوراگ سے اسی فلم کے دوران ملاقات ہوئی، انہوں نے حوصلہ بڑھایا اور پھر ان کا دفتر میرے لئے گھر جیسا ہو گیا۔ یہیں مجھے Cinematic Experience ہوا۔ یہاں ال پچینو اور لیونارڈو ڈکیپریو جیسوں کے کام کو جاننے کا موقع ملا، اور پھر میں نے آہستہ آہستہ سینما کو لٹریچر کی طرح لینا شروع کیا۔ پہلے سینما میرے لئے محض تفریح کا ایک ذریعہ تھا۔

فلموں میں آنے سے پہلے اپنی جدو جہد کو لےکر آدتیہ بتاتے ہیں کہ میری جدو جہد وہ نہیں تھی جو عام طور سے فلموں کو حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ میری جدو جہد نالج کو لےکر تھی، اپنی عدم واقفیت کو دور کرنے کو لےکر رہی اور اپنی سمجھ کو وسعت دینے کو لےکر میری جدو جہد بہت زیادہ رہی۔ جہاں تک پیسے کی کمی، اور محدود وسائل اور اس طرح کی جدو جہد کی بات ہے تو میں اس کو جدو جہد مانتا ہی نہیں ہوں۔ کیونکہ جب آپ ایک خاص ماحول سے آتے ہیں تو وہ رہتا ہی ہے۔

آدتیہ اپنے آپ کو لکی بتاتے ہوئے کہتے ہیں ؛ مجھے شروع سےہی اچھے لوگ ملتے چلے گئے اور انوراگ نے جو اعتماد مجھ پر دکھایا شاید کوئی اور نہیں دکھاتا، انڈسٹری میں ایسے چنندہ لوگ ہی ہیں۔ پرپینڈیکلر جیسے مشکل کردار کے لئے باہر سے آئے کسی لڑکے پر یقین کرنا انوراگ جیسے ہدایت کار ہی کر سکتے ہیں ان ہی میں وہ جذبہ ہے۔

انوراگ اور پرپینڈیکلر کا بار بار ذکر کرنے والے آدتیہ کہتے ہیں کہ اسی کردار کو دیکھ‌کر لوگوں کو یقین ہوا کہ لڑکا اچھا ہے اچھا کام کرتا ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ مجھے پرپینڈیکلر سے زیادہ چیلنج بھرا کردار آفر ہو۔ میں ہر طرح کے کردار کے لئے تیار ہوں، ہدایت کار مجھ پر اعتماد کریں تو میں ہر بار خود کو ثابت کرنا چاہتا ہوں۔

اپنے کام پر یقین کرنے والے توانائی سے بھرپور آدتیہ بتاتے ہیں ؛ ابھی میں اس حالت میں نہیں ہوں کہ کردار کو لےکر انتخاب کروں، ہاں سامنے سے جو آئے‌گا وہ کرنا ہوگا، مگر اس میں اچھا کرنے کا عزم اپنے آپ سے ہے۔ کیونکہ ایکٹنگ میرے لئے صرف اسکرپٹ نہیں ہے اپنی زندگی کا تجربہ بھی ہے۔ ابھی میری شروعات ہے آہستہ آہستہ پختگی بھی آئے‌گی۔

گینگس آف واسع پورکے بعدکے فلمی سفر پر آدتیہ کہتے ہیں یہاں سب کچھ آسان نہیں ہوتا بینجو بھی مجھے اس لئے ملی کہ پہلے وہ آدتیہ نارائن کرنے والے تھے لیکن لاسٹ منٹ میں کچھ ہوا تو پھر مجھے مل گئی۔ ہاں کیری آن کتّوں مجھے گینگس آف واسع پور کی وجہ سے ملی تھی۔

اپنے اس تجربے پر ملےجلے احساس کے ساتھ آدتیہ کہتے ہیں ؛ انڈسٹری میں یہ سب چلتا ہے۔ آپ اچھا کام جانتے ہیں، آپ کے کرافٹ میں دم ہے تو تھوڑی تاخیر ضرور ہوتی ہے لیکن چیزیں آپ کے پاس ہوتی ہیں۔

سینما کے کلچر پر بات کرتے ہوئے آدتیہ کہتے ہیں ؛ اپنے یہاں ابھی وہ ٹرینڈ اس طرح سے شروع نہیں ہوا کہ ایکٹر کو اپنے کردار کے لئے الگ سے کام کرنے اور تیاری کا موقع ملے۔

آدتیہ اپنے چھوٹے سے ایکٹنگ کیریئر پر بات کرتے ہوئے لٹریچر کی بھی بات کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ میرے گھر میں ہندی ادب کی کتابیں بہت ہیں، لیکن بیچ میں ذرا دوری ہو گئی تھی، میں نے پھر سے پڑھنا شروع کیا ہے۔ ادب کیوں ؟اس سوال پر آدتیہ کہتے ہیں کہ ادب اس لئے ضروری ہے کہ اس سے آپ کو اپنے سماج کی سمجھ کے ساتھ اپنے تصورات کو وسعت دینے میں ہر طرح سے مدد ملتی ہے۔

آدتیہ دی وائر کے ساتھ اپنی بات اس طرح مکمل کرتے ہیں کہ مجھے ادب کی سمجھ کا دعویٰ نہیں ہے لیکن میں پڑھتا رہتا ہوں، ان دنوں Haruki Murakami کی کتابوں کے ساتھ میرا وقت گزر رہا ہے اور کچھ فلمیں بھی ہیں جن کو لےکر بات چل رہی ہے۔

بشکریہ دی وائر اردو ڈاٹ کام