شولاپورکے 4 مسلم نوجوانوں کے مقدمہ کی تمام گواہیاں مکمل

0 5

بھو پال۔۹ ستمبر. دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث اور سیمی سے تعلق کے الزام میں شولاپور سے گرفتار ۴ مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی گواہیاں اسپیشل سیشن کورٹ بھوپال میں جاری ہیں آج تمام سر کاری گواہوں کی گواہیاں مکمل ہو چکی ہیں ،دفعہ ۳۱۳ کے تحت ملز مین کے بیا نات درج ہونے کے بعد آخری بحث عمل میں آئے گی جس سے اسی مہینہ میں فیصلہ بھی آنے کی امید کی جا رہی ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں جمعیة علماءمہاراشٹر کے لےگل سکریٹری ایڈوکےٹ پٹھان تہورخان نے د ی ہے۔اس مقدمہ کی پےروی کرنے والے جمعیة علماءمہا راشٹر کے وکےل ایڈوکےٹ تہور خان پٹھان بتایا کہ اس مقدمے میںکل ۷۱مسلم نوجوان ماخوذ تھے ،جن میں سے پانچ کا تعلق شولاپور سے تھا اور بقیہ کا تعلق ملک کے دیگر مقامات سے یہ تمام ملز مین بھوپال کی سینٹرل جیل میں قید تھے ان میں سے۸کا دو سال قبل۶۱۰۲ ءمیں ۱۳اکتوبر کو بھوپال سے قریب ایک گاو¿ں میں انکاو¿نٹر کردیا گیا تھا۔ جن میں شولاپور کا خالد مچھالے نامی ملزم بھی تھا۔ اس انکاو¿نٹر کی اعلیٰ سطحی تفتیش کے لئے جمعیة علماءسپریم کورٹ رجوع ہو چکی ہے۔خالدمچھالے کا انکاو¿نٹر میں قتل کے بعد بقیہ چار ملزمین کے مقدمات کی پیروی جمعیة علماءمہاراشٹر کررہی تھی اور تیزی سے سماعت آگے بڑھ رہی تھی آج تمام سرکاری گواہوں کی گواہیاں مکمل ہو چکی ہیں ،اور ان سے منصفانہ طریقہ پر جرح بھی کی جا چکی ہے ۔اسی مہےنہ میں عدالت کا فیصلہ بھی آنے کی امید کی جا رہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اسی بھوپال سینٹرل جیل میںلکڑی کی چابھی وچادر کی سیڑھی کی مدد سے فرار ہونے کے الزام میں جن ۸مسلم نوجوانوں کا انکاو¿نٹر کیا گیا تھا ، اس معاملے میں مدھیہ پردیش حکومت کا رویہ نہایت معاندانہ رہا ہے ۔ حکومت نے اس کی تفتیش کے لئے ایک ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں ایک نفری کمیشن مقر ر کیا تھا جس نے اپنی رپورٹ میں حکومت اور پولیس کو کلین چٹ دیدی ہے اور پولیس کے موقف کی تصدیق کی ہے۔ اس کی کسی آزاد اور غیرجانبدار ا نہ یجنسی کے ذریعے تفتیش کے لئے جمعیة علماءکو شاں ہے ۔ اس موقع پر جمعیة علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں پولیس اور اے ٹی ایس کی جانب سے اس قدر دھاندھلی کی گئی ہے کہ قانون کا معمولی شد بد رکھنے والا بھی اس معاملہ کو اچھی طرح سمجھ جائے گا۔ اس کے باوجود اس مقدمے کو الجھا کر رکھا گیا تھا، لیکن اب امید ہے کہ اس کی سماعت مکمل ہوتے ہی اس کا فیصلہ آجائے گا جس میں ہمیں قوی امید ہے کہ نہ صرف شولاپور کے ملزمین بلکہ دیگر تمام ملزمین کو بھی انصاف ملے گا اور انکی رہا ئی عمل میں آئے گی۔