بھیما کورے گاؤں تشدد :5 اور سماجی کارکن حراست میں

0 17
نئی دہلی: (دی وائر نیوز) ملک کے کئی شہروں میں پونے پولیس نے منگل صبح سے کئی سماجی کارکنوں کے گھر چھاپے مارے اور کچھ کارکنوں کو حراست میں لیا۔ حراست میں لیے گئے کارکنوں میں ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ اور وکیل سدھا بھاردواج ، سماجی کارکنوں ویرنان گونجالوس ، پی وراورا راؤ اور صحافی گوتم نولکھا شامل ہیں۔ان کے علاوہ الگ الگ شہروں میں کئی سماجی کارکنوں کے گھر پونے پولیس نے چھاپے مارے ہیں۔
دی وائر کو ملی جانکاری کےمطابق منگل صبح سے ممبئی ، دہلی، رانچی، گووا، حیدر آباد جیسے کئی شہروں میں مختلف پولیس ٹیم کے ذریعے چھاپے مارے گئے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق؛ پونے پولیس نے دہلی میں ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ اور صحافی گوتم نولکھا اور سدھا بھاردواج ، حیدر آباد میں قلم کار اور سماجی کارکن پی ورا ورا راؤ، ممبئی میں سماجی کارکن ویر نان گونجالوس ، سزین ابراہم ، صحافی کرانتی ٹیکلا اور ارون فریرا ، رانچی میں سماجی کارکن فادر اسٹین سوامی کے گھروں کی تلاشی لی گئی۔
گووا میں سماجی کارکن اور قلمکار آنند تیلتمبڑے کے گھر پر بھی پولیس تلاشی کے لیے پہنچی تھی ،حالاں کہ اس وقت وہ گھر پر نہیں تھے ۔اس اخبار کی خبر کے مطابق پولیس کے ان چھاپوں کا تعلق پونے میں 31 دسمبر 2017کو ہوئے الگار پریشد کے پروگرام کے مبینہ ماؤوادی کنیکشن کی جانچ سے جڑا ہے۔
ہیومن رائٹس اکٹیوسٹ اور وکیل سدھا بھاردواج کے دہلی واقع گھر پر چھاپہ مار کر ان کو حراست میں لیا گیا ہے۔پنچ نامے کے مطابق ان پر آئی پی سی کی دفعہ 153اے،505،117اور 120 کے ساتھ ہی غیرقانونی سرگرمی (روک تھام )قانون ]یوپی اے Unlawful Activities Prevention Act- [کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ بھیما کورے گاؤں تشدد سے ایک دن پہلے ہوئے الگار پریشد کے پروگرام میں ہوئے خطاب سے تشدد بھڑکی تھی ،جس میں کئی سماجی کارکنوں نے حصہ لیا تھا۔
پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان لوگوں کے نام جون میں اس معاملے میں گرفتار کیے گئے 5 کارکنوں سے پوچھ تاچھ میں سامنے آیا ہے۔واضح ہو کہ جون مہینے میں مہاراشٹر پولیس نے جنوری میں ہوئے تشدد کے معاملے میں تین الگ الگ شہروں سے 3 دلت کارکنوں ،ایک پرفیسر اور ایک سماجی کارکن کو گرفتا کیا گیا تھا۔یہ گرفتاریاں ممبئی ،ناگپور اور دہلی میں ہوئیں ۔
گرفتار کیے گئے لوگوں میں سینئر دلت کارکن اور سیاسی میگزین ودروہی کے مدیر سدھیر دھاولے ،سینئر ہیومن رائٹس وکیل سریندر گاڈلنگ ، سماجی کارکن مہیش راوت ، ناگپور یونیورسٹی کی شوما سین اور دہلی کے سماجی کارکن روما ولسن شامل ہیں ۔غور طلب ہے کہ اس سے پہلے کی جانچ میں ہندتواوای لیڈر منوہر عرف سنبھاجی بھیڑے اور ملند ایکبوٹے کو اس تشدد کا اہم ملزم بتایا جارہا تھا،لیکن جون میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ 1جنوری کو ہوئے اس تشدد کے پیچھے نکسل اور ان سے ہمدردی رکھنے والے شامل ہیں۔