شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کی جانب سے اجودھیا کی متنازع زمین کو وقف کی زمین بتاکر اس کو مندر کی تعمیر کیلئے دئے جانے کیلئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی تھی ، جس کے بعد کانپور کے ڈاکٹر مظہر نقوی نے سب سے بڑے شیعہ عالم دین آیت اللہ سید علی الحسینی السیستانی ، عراق سے ایک فتوی طلب کیا تھا کہ کیا وقف کی زمین کسی عمارت یا مذہبی عمارت کی تعمیر کیلئے دی جاسکتی ہے ، اب اس کا جواب آگیا ہے۔

جواب میں بتایا گیا ہے کہ مذہبی اعتبار سے وقف کی زمین کو نہیں دیا جاسکتا ہے ۔ اس بات کی جانکاری ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ ڈاکٹر مظہر نقوی نے دی ۔

شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی

In the fatwa, the Iraq cleric said that the Waqf property belonged to the Shi’ites as the Babri Mosque was built by a Shi’ite ruler. Rizvi has slammed the fatwa, calling it a conspiracy to internationalise the issue. “It hasn’t been told (to the Iraqi high-cleric) that there was a temple which was razed for the construction of the mosque,” the UP Shia Waqf Board chief argued.



اپنی رائے یہاں لکھیں