94 سالہ ضعیف المعر شخص کو کل سپریم کورٹ آف انڈیا نے عبوری راحت دیتے ہوئے ان کی پیرول میں جولائی تک توسیع کردی، سپریم کورٹ کی جانب سے ملی اس راحت سے عرض گذار ڈاکٹر حبیب احمد خان 27 سال بعد گھر پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید منا سکیں گے، پچھلے 27 سالوں میں یہ پہلا موقع ہے جب وہ رمضان المبارک کے مبارک ایام جیل کی بجائے اپنے گھر پر گذار رہے ہیں اور یہ سب جمعتہ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کی خصوصی دلچسپی کے سبب ہی ممکن ہو پایا ہے۔ مولانا رابع حسنی ندوی صدرمسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی مولانا ارشد مدنی سے ڈاکٹر حبیب کی مستقل پیرول پر رہائی کے لئے کوشش کرنے کی درخواست کی تھی۔سپریم کورٹ آف انڈیا نے عرض گذار ڈاکٹر حبیب کی پیرول میں جولائی تک توسیع کردی ہے جس کی وجہ سے اب انہیں جئے پور جیل نہیں جانا پڑیگاورنہ منگل تک انہیں جئے پور جیل میں خود سپردگی کرنا پڑتا۔اس ضمن میں جمعتہ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ ڈاکٹر حبیب کی مستقل پیرول پر رہائی کی عرضداشت پر سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل کی گئی تھی جس پر کل دو رکنی بینچ کے جسٹس اندرابنرجی اور جسٹس کرشنا مراری کے روبرو سماعت عمل میں آئی..


اپنی رائے یہاں لکھیں