75 سال کی عمر میں تیسری شادی اور باپ بننے والے شخص کی صحت کا راز کیا ہے؟

3,549

دائیں جانب دل، ایک گردہ اور وہ بھی ساخت میں چھوٹا، پھر بھی صحت مند اتنے کہ 74 سال کی عمر میں 18 سالہ لڑکی سے تیسری شادی کی اور اس کے اگلے سال ایک صحت مند بیٹا بھی پیدا کیا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے اس شخص کا نام ساجد خان ہے، جن کی عمر 75 سال ہے۔ ان کی تین بیویاں ہیں اور تینوں بیویوں سے ان کے 14 بچے ہیں۔

ساجد خان کے مطابق انہیں صحت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نظر درست طور پر کام کرتی ہے، سماعت ٹھیک اور یادداشت بہترین ہے۔ علاوہ ازیں، نہ بلڈ پریشر اور نہ شوگر وغیرہ جیسے امراض سے ابھی واسطہ پڑا ہے۔

ساجد خان اگرچہ رواں سال کرونا میں مبتلا ہوئے جس کے بعد انہوں نے چلنے میں سہارے کے لیے لاٹھی کا استعمال شروع کیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جب ان سے صحت کا راز پوچھا تو انہوں نے کہا کہ انہیں لڑکپن سے بڑھاپے تک کم کھانے کی عادت رہی ہے اور دن میں بمشکل وہ دو چپاتی کھاتے ہیں۔

’میں ہمیشہ کم کھانا کھاتا رہا ہوں، زیادہ تر سبزیاں کھانے کا شوقین ہوں۔ کبھی مضر صحت خوراک نہیں کھائی۔ روزانہ ہلکی پھلکی ورزش کرنے کا بھی عادی ہوں، سو وہ اب بھی کرتا ہوں۔‘

ساجد خان نے بتایا کہ ان کی اچھی صحت کا ایک راز یہ بھی ہے کہ انہوں نے کبھی خود کو غمگین نہیں رہنے دیا اور ایک پرامید و مطمئن زندگی گزارتے رہے ہیں۔

’میں نے کبھی دولت کی چاہ نہیں کی۔ کبھی اس پر غمگین نہیں ہوا کہ میرے رشتہ دار کے پاس مجھ سے زیادہ پیسہ کیوں ہے۔ یہ ایک ذہنی تربیت ہوتی ہے، جس کی مشق کرتے رہنے سے بلاآخر انسان مضبوط ہوجاتا ہے اور کسی حال میں گھبراتا نہیں ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ رواں سال ان پر کرونا وائرس کا شدید حملہ ہوا اور انہیں محسوس ہوا کہ اب وہ نہیں بچیں گے۔ انہیں ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کروایا گیا تھا اور معائنے کے دوران ان سے متعلق دلچسپ حقائق سامنے آئے تھے۔
یہی وہ وقت تھا، جب ڈاکٹروں سمیت مجھ پر بھی واضح ہوا کہ دراصل میرا دل دائیں جانب ہے اور گردہ بھی ایک ہے اور وہ بھی ساخت میں چھوٹا۔

’میرے دائیں اور بائیں بستر پر مریض دم توڑتے گئے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر میں بھی گھبرا گیا اور حوصلہ ہار بیٹھا۔‘

لیکن ساجد خان کرونا سے مکمل طور پر صحت یاب ہوکر تینوں بیویوں کے پاس لوٹ آئے، جو ان کے بقول ان کو بہت چاہتی ہیں اور برملا اس کا اظہار بھی کرتی رہتی ہیں۔

سینے میں دائیں جانب دل کتنا عام ہے؟

ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ساجد خان کو بتایا کہ یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ وہ جسمانی پیچیدگیوں کے باوجود کبھی بیمار نہیں ہوئے اور ایک نارمل زندگی گزارتے رہے ہیں۔

دل دائیں جانب واقع ہونے کو میڈیکل کی زبان میں ’ڈیکسٹروکارڈیا‘ (dextrocardia) کہتے ہیں۔ امیریکن جنرل آف کاڈیالوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ڈیکٹسروکارڈیا کے 81 مریضوں کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 57 کو دل کی کوئی نہ کوئی بیماری تھی۔ اسی تحقیق کے مطابق ڈیکٹسٹروکارڈیا 12 ہزار میں سے صرف ایک حاملہ خاتون کے بچے کو ہوتا ہے۔

پشاور کے انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹر مبشر زرین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ڈیکسٹروکارڈیا کی مختلف اقسام ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ متعلقہ مریض کو نارمل ڈیکسٹروکارڈیا ہے۔’اکثر اوقات ڈیکسٹروکارڈیا کے ساتھ ملحقہ پیچیدہ بیماریاں اور مسائل ہوتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مریض کو پوری زندگی باقاعدگی سے معائنہ اور علاج کرنا پڑتا ہے۔‘