نئی دہلی: ہریانہ کے حصار سے ہڑپہ دور کے 5 ہزار سال قبل زمین میں دفن ہو جانے والے شہر کے آثار برآمد کئے گئے ہیں۔ آثار قدیمی کی کھدائی میں برآمد ہونے والا یہ شہر ترقی یافتہ تھا اور یہاں سے ان کے گھر، صاف صفائی، سڑکوں، زیورات اور لاشوں کے تدفین کے وقت جو کچھ رکھا جاتا تھا اس کے بھی آثار برآمد ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہڑپہ دور کا یہ شہر حصار کے راکھی گڑھی گاؤں میں 11 ٹیلوں کے نیچے دفن ہو گیا تھا۔

یہ ہڑپہ شہر معدوم ہونے والی سرسوتی کی معاون ندی درشوادوتی کے کنارے پر واقع تھا۔ اس وقت صفائی سے سڑکوں کی بتدریج ترقی کی ایک جھلک ٹیلے نمبر 3 کی کھدائی سے سامنے آتی ہے۔ یہاں 5000 سال پہلے کی اینٹیں، نالوں اور نالوں پر رکھے مٹی کے ایسے گملے قدیم تاریخ کی کئی حل طلب تہیں کھولتے ہیں۔

راکھی گڑھی کے ٹیلے نمبر 7 کے نیچے سے ہڑپہ کے لوگوں کی لاشوں کو جلانے کے شواہد ملے ہیں۔ حالیہ کھدائی کے دوران وہاں سے دو خواتین کی لاشیں بمد ہوئی ہیں۔ لاشوں کے ارد گرد رکھی اشیا ہڑپہ دور کی ترقی کے بہت سے ثبوت دے رہی ہیں۔ یہاں سات پہاڑ ہیں جن کی کھدائی ابھی باقی ہے۔ جب کھدائی ہوگی تو نئے حقائق معلوم ہوں گے۔ تاہم کھدائی میں ان خواتین سے جو چیزیں ملی ہیں وہ تمام مٹی کے برتن اور ہڑپہ دور کے کھلونے ہیں۔ ان کے علاوہ کچی مہریں بھی ملی ہیں جو مٹی سے بنی ہیں۔ یہ بہت خاص ہیں، بغیر سینکے، مٹی کے ہاتھی بھی برآمد ہوئے ہیں۔

ان تمام حقائق کے سامنے آنے کے بعد مورخین کا خیال ہے کہ راکھی گڑھی ہڑپہ دور میں 500 ہیکٹر پر پھیلی ہوئی ایک شہری بستی رہی ہوگی جو دریائے سندھ اور سرسوتی کے کنارے آباد تھی۔ فی الحال ہڑپہ دور کی تمام معلومات ان پہاڑیوں کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔