حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کا انتقال امت مسلمہ اور خاص کر ہندوستان کے مسلمانوں کا بہت بڑا خسارہ ہے:مولانا عزیر احمد القاسمی

نئی دہلی//مولانا مرحوم ایک عظیم دانشور، جری اور بے باک لیڈر تھے، دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی ان کو قیادت اور سیادت حاصل تھی،ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا عزیر احمد قاسمی نے ایک تعزیتی میٹنگ میں کیا۔ مولانا نے مزید کہاکہ مدارس کے فضلاء میں ہندوستان کے قانون اوراس کی باریکیوں سے واقفیت میں ان کی کوئی نظیر نہیں تھی، مولانا بلا خوف وخطر حق بات ہمیشہ کہتے تھے، اور سر عام کہتے تھے، ظالموں کے منہ پر کہتے تھے، جس کو حدیث پاک میں کہاگیا ہے کہ’’ حق بات ظالم بادشاہوں کے سامنے کہنا ایمان کی علامت ہے‘‘، مولانا ایسے وقت میں ہمیں داغ مفارقت دے گئے جبکہ ان کی سر پرستی کی شدید ضرورت تھی، اورامت مسلمہ کی کشتی منجدھارمیں ہچکولے لے رہی ہے، اللہ تعالی مولانا کی بال بال مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے، ان کے اہل خانہ، معتقدین، نیز امت مسلمہ کو صبر کی توفیق نصب فرمائے اوران کا نعم البدل عطا فرمائے، آمین۔
مولانا عزیر احمد قاسمی نے مزید کہا کہ مولانا مرحوم سے میرے مرحوم بھائی مولانا فضیل احمد قاسمى کو گہرا لگائو اور تعلق تھا، اسی مناسبت سے اس کمترین کی بھی ملاقاتیں رہی ہیں، مولانا کی جرأت، ان کی بے باکی امت کے مسائل کو صحیح ڈھنگ سے پیش کرنے کا سلیقہ اوراس سے دفاع کرنے کا صحیح ڈھنگ مولانا ہی کو معلوم تھا۔
تعزیتی میٹنگ میں حافظ حذیفہ، حافظ معاذ، حافظ شمس الحق، چودھری لقمان، فضل الرحمن، قاری محمد عاقل کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مولانا مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی۔