میاں بیوی کی محبت اور رشتہ اس وقت تک پھلتا پھولتا ہے جب تک دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لئے محبت اور عزت برقرار رہے اور جس وقت ان کے درمیان کوئی تیسرا رفیق یا تیسرا شخص آ جائے تو غلط فہمیاں اور دوریاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال اس بادشاہ کا بھی ہے جس کی 4 شہزادیاں ہیں لیکن پھر بھی اس کو اپنائیت کا احساس نہیں ہوتا۔

بادشاہ کی کہانی:
ایک بادشاہ ساری سلطنت کا مالک ہوتا ہے وہ جب چاہے جس سے چاہے شادی کرسکتا ہے، اس کے لئے 4 یا 5 شادیاں کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی ہے۔ لیکن ان کو برقرار رکھنا یقیناً ایک مشکل کام ہے کہ بیک وقت سب کے فرائض اور حقوق ادا کیئے جائیں۔ ایسا ہی اس بادشاہ کے ساتھ ہوا جس نے 4 شادیاں تو کرلی مگر اپنی بیویوں کے ساتھ برابری کا سلوک نہ کر پایا۔

بیویاں:
٭ چوتھی بیوی:
چوتھی بیوی بادشاہ سے بہت چھوٹی، جوان اور حسین تھی، بادشاہ کے دل کی رانی تھی، وہ دن رات صرف اس سے محبت کرتا تھا اس کو ہی سراہتا تھا، تمام تر تحفے تحائف اس کے لئے منگواتا تھا۔

٭ تیسری بیوی:
تیسری بیوی بہت حسین تھی اس کو وہ ہمیشہ اس وقت ساتھ رکھتا تھا جب کہ بادشاہ کو خاص مہمانوں سے ملنا ہوتا تھا یا پھر کسی دوسرے ملک کے بادشاہ سے ملنے جاتا تو اپنی تیسری بیوی کو بھی دکھاتا تھا۔

٭ دوسری بیوی:
دوسری بیوی بہت سمجھدار تھی وہ عقل سے کام کرتی تھی اور اچھے فیصلے لیتی تھی، بادشاہ کی سلطنت کے سارے فیصلے دوسری بیوی کی مرضی سے ہوتے تھے کیونکہ وہ بہت تیز اور عقل مند تھی بادشاہ کو بھی اس کی ذہانت پر اعتماد تھا۔

٭ پہلی بیوی:
پہلی بیوی اپنے خاوند کی دن رات خدمت کرتی تھی، کبھی بادشاہ کے ہاتھ دھلاتی، کبھی کپڑے دھوتی، کبھی بادشاہ کی پسند کے مزیدار کھانے بناتی۔ بادشاہ جب بھی بیمار پڑتا یہ پہلی بیوی ہی بادشاہ کی ساری خدمت کرتی تھی۔ مگر بادشاہ کو یہ بیوی بلکل پسند نہیں تھی کیونکہ یہ خوبصورت نہیں تھی۔

پھر کیا ہوا؟
ایک دن بادشاہ بیمار پڑ گیا اور اس کی حالت اتنی خراب ہوگئی کہ اس کو کوئی بھی بیوی پوچھنے نہ آئی، بادشاہ کو تنہائی پسند نہیں تھی اور وہ بہت تنہا ہوگیا ۔ اس سے ایک ایک کرکے اپنی بیویوں کو بلایا اور کہا کہ مجھے تم سے محبت ہے کیا تم میرا ساتھ نہیں دو گی جبکہ میں مرنے والا ہوں، پہلے اس نے چوتھی بیوی سے سوال کیا پھر تیسری اور آخر میں دوسری بیوی سے، سب نے انکار کردیا۔ بادشاہ رونے لگا کہ دروازے کے باہر سے آواز آئی میں ہر حال میں آپ کا ساتھ دوں گی، آپ کی مدد کروں گی، آپ کی خدمت کروں گی، آپ کے لئے قبر میں بھی جانے کو تیار ہوں، لیکن آپ سے جُدا نہیں رہ پاؤں گی۔

بادشاہ کو احساس:
اس دن بادشاہ کو احساس ہوا کہ صرف خوبصورتی اور عقل مندی محبت کا آئینہ نہیں ہے بلکہ احساس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، بادشاہ اتنا شرمندہ ہوا کیونکہ اس نے کبھی اپنی پہلی بیوی کی قدر نہ کی، اس دن وہ پہلی بیوی سلطنت کی اصل ملکہ بن گئی اور اپنی دیدہ دلیری اور محبت سے پورے محل کو اکیلے ہی سنبھالا اور ساتھ ساتھ بادشاہ کی خدمت بھی کی۔

کہانی سے سبق:
٭ پہلی بیوی آپ کی شخصیت کی اصل آئینہ دار ہے۔

٭ دوسری بیوی آپ کی سوچ کا عکس ہے۔

٭ تیسری بیوی آپ کی جائیداد اور پیسے کو دیکھتی ہے۔

٭ چوتھی بیوی تحفے تحائف کے لئے بھاگتی ہے۔

آپس میں محبت کیسے رکھیں؟
٭ میاں بیوی کا رشتہ دراصل بہت زیادہ قابلِ بھروسہ اور نازک رشتہ ہے جس کی ڈوری کو جتنی محبت سے باندھیں گے، پھل اتنا ہی میٹھا ہوگا اور جتنی زیادہ ڈوری کھینچ کر رکھی جاتی ہے اتنی ہی اس رشتے میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔

٭ زندگی ہنس کھیل کر مل بانٹ کر گزاریں، ایک بیوی ہو یا 4 سب کے حقوق اور فرائض کو برابر سر انجام دینے کی کوشش کریں، یہی آپ کی خوش و خرم زندگی کا اصل راز ہے۔