حیدرآباد : 32 سالہ عظمیٰ کوفیس بک فرینڈ نے قتل کردیا

1,097

حیدرآباد: تلنگانہ کی ایک شادی شدہ خاتون جو گذشتہ ایک ہفتہ سے لاپتہ بتائی گئی ہے، کو اتر پردیش میں قتل کردیاگیا ہے یہ خاتون، اپنے فیس بک فرینڈ (دوست) سے ملاقات کے لئے گئی تھی۔ بانسواڑہ کی رہنے والی 32 سالہ عظمیٰ بیگم جو 6 نومبر سے لاپتہ تھی کی لاش، اتر پردیش کے ضلع امروہا میں ایک خانگی سیکوریٹی کمپنی کے احاطہ میں پائی گئی۔

پولیس نے اس سلسلہ میں ایک ملازم شہزاد کو گرفتار کرتے ہوئے اس سے پوچھا تاچھ کی۔ پوچھ تاچھ کے دوران چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ کس طرح فیس بک کی دوستی قتل کا سبب بنی ہے۔ شہزاد کی ہدایت پر عظمیٰ اپنے گھر سے روانہ ہوئی اور وہ اپنے فیس بک فرینڈ شہزاد سے ملاقات کیلئے ضلع امروہا کے گجراولہ پہنچی۔

خاتون، شادی کیلئے شہزادسے اصرار کررہی تھی جس پر ملزم نے مبینہ طور پر اسکارف سے خاتون کو باندھ دیا اور ایک اینٹ کو اس کے سرپر دے مارا جس کی وجہ سے خاتون کی موت واقع ہوگئی۔بعد ازاں اُس نے خاتون کی لاش کو سیکوریٹی کمپنی کے ایک گوشہ میں پھینک دی اور فرار ہوگیا۔ کمپنی کے چند ملازمین سے پوچھ تاچھ کے بعد گجراولہ پولیس اسٹیشن میں کیس درج کرلیا گیا آخر کارپولیس نے شہزاد کو گرفتار کرلیا جس نے قتل کے جرم کا اعتراف کرلیا۔

عظمی کی شادی 12 سال قبل بانسواڑہ میں مقیت نامی شخص سے ہوئی تھی اس کے دو بچے بھی ہیں۔ شوہر سے لڑائی جھگڑے کے بعد عظمی، دوماہ قبل اپنے والدین کے پاس نظام آباد چلی گئی تھی تاہم گھر کے بزرگوں کی مداخلت اور سمجھانے کے بعد وہ 4 نومبر کو اپنے شوہر کے گھر واپس ہوگئی تھی تاہم دودنوں بعد وہ لاپتہ ہوگئی۔بانسواڑہ پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ بانسواڑہ پولیس گمشدگی کیس کی تحقیقات کررہی تھی کہ اتر پردیش سے عظمیٰ کے قتل کی اطلاع وصول ہوئی۔