اورنگ آباد : 28 مارچ (ورق تازہ نیوز) مجلس اتحاد المسلمین کے اورنگ آباد رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس لیتے ہوئے مرکزی / ریاستی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریاست میں بڑھتے ہوئی کورونا اموات کیلئے حکومت کا محکمہ صحت ذمہ دار ہے۔

رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے نام پر چھوٹے بڑے تاجر اور مزدور پیشہ افراد معاشی بحران کا شکار ہورہے ہیں۔ اورنگ آباد کی ضلعی انتظامیہ بڑی بڑی کمپنیوں کے دباؤ میں آکر لاک ڈاؤن میں بھی انھیں شروع رکھنے کی اجازت دے رہی ہے جبکہ چھوٹی دوکانوں اور دیگر چھوٹے کاروباریوں کو کورونا لاک ڈاؤن کے نام پر مکمل طور پر بند رکھا جارہا ہے۔

حکومت گذشتہ سال سے کورونا کو قابو میں نہیں کر سکی ہے۔ اور اس میں لاک ڈاؤن کے ذریعہ عام آدمی کو یرغمال بنایا جارہا ہے۔ رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے الزام عائد کیا ہے کہ لوگ کورونا کی وجہ سے نہیں مر رہے ہیں بلکہ حکومت کی طرف سے دکھائے گئے اعداد و شمار سے خوفزدہ ہیں۔

اب وہ حکومت کی لاک ڈاؤن پالیسی کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے اور 31 مارچ کو اورنگ آباد میں پیٹھن گیٹ اور ڈسٹرکٹ کلکٹر آفس کے درمیان مورچہ نکالیں گے۔ جناب جلیل نے اتوار (28مارچ) کو ایک پریس کانفرنس میں یہ بات دی۔

اس موقع پر امتیاز جلیل نے اعلان کیا کہ وہ 31 مارچ کو دوپہر 3 بجے اورنگ آباد میں پیٹھن گیٹ سے لاک ڈاؤن کے خلاف اور میڈیکل شعبہ میں مخلوعہ جائیدادوں کو پر کرنے کیلئے مورچہ نکالیں گے اور انھوں نے تمام بیوپاریوں شہریان سے اس مورچہ میں شرکت کی اپیل کی ہے۔یہ مورچہ کلکٹر آفس پر جاکر ختم ہوگا

ویڈیو

مسٹر جلیل نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے کل لاک ڈاؤن سرکلر جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کچھ چیزیں جاری رہیں گی۔ تاہم ، صنعتوں کو چھوٹ دی گئی ہے۔ اگر آپ لاک ڈاؤن کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو انڈسٹری بند کرنی ہوگی۔ کیوں کہ یہ ان دو لاکھ کارکنوں کی زندگی اور موت کی بات ہے جو وہاں کام کرتے ہیں۔ 31 مارچ کو رکشہ والے ، صنعتی شعبے کے کارکن ، چھوٹے اور بڑے ہوٹل والے ، ہینڈکارٹ ڈرائیور ، پھل فروش ، تاجر اور تمام جماعتوں کے قائدین سڑکوں پر نکل آئیں۔ کیوں کہ یہ مورچہ آپ کے لئے ہے۔

مورچے میں شامل ہوں

اورنگ آباد کے ممبر پارلیمنٹ کی حیثیت سے انھوں نے اپیل کی کہ ، 31 مارچ کو تمام مذہب طبقہ اور سیاسی جماعتوں کے لوگ کو مارچ میں شامل ہوجانے ۔ ضلع میں محکمہ صحت کی دو ہزار 438 آسامیاں خالی ہیں۔ اگر گھاٹی اسپتال میں بستروں کی کمی ہے تو ، مریضوں کو نجی اسپتال میں لے جانا چاہئے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تحت حکومت کسی بھی نجی یا سرکاری اسٹیبلشمنٹ کو اپنے تابع میں لے سکتی ہے۔