• 425
    Shares

آسام میں ریاستی بربریت اور مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کے خلاف SIO جلگاؤں نے مختلف تنظیموں کے ہمراہ کیا احتجاج

جلگاؤں، 27 ستمبر۔ حال ہی میں غیر قانونی طور پر گرفتار ہوئے مشہور داعی مولانا کلیم صدیقی صاحب اور آسام میں ہوئے معاملے پر جلگاؤں میں مختلف تنظیموں ، جماعتوں اور سیاسی پارٹیوں کے ہمراہ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا جلگاؤں شہر نے ان دونوں معاملات کی مذمت کی اور مولانا کلیم صدیقی صاحب کی نہ صرف جلد رہائی بلکہ غیر مشکوک باعزت رہائی کی مانگ کی ۔ ساتھ ہی آسام پولیس کے ان اہلکاروں پر فوری کاروائی کی مانگ کی جنھوں نے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اس دھرنا آندولن میں SIO جلگاؤں شہر کے جوائنٹ سیکریٹری شیبان فائز نے کہا کہ آسام میں ہوئی میت کی بے حرمتی نہ صرف میت کی بے حرمتی ہے بلکہ یہ بھارت کے آئین و سیکولرزم کی بے حرمتی ہے ۔ مرکزی سطح پر SIO نے آسام میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے شخص معین الحق کے تینوں بچوں کا تعلیمی خرچ اٹھانے کی ذمہ داری لی ۔ ساتھ ہی تنظیم نے یہ مانگ بھی کی کہ جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ جلد سے جلد عوام کے سامنے لائی جائے نیز دونوں مہلوکین کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپئے اور شدید زخمیوں کو 50 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے ۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔