• 425
    Shares

صدر آل انڈیا ملی کونسل مشرقی اترپردیش

تبصرہ نگار : مفتی محمد انتخاب ندوی
ناظم تعلیمات دارالعلوم فیض محمدی مہراج گنج یوپی

زیرنظر تصنیف متاع ذکر و فکر نومبر 1986 تا مارچ1991 عالم اسلام کی دینی ، علمی ، سیاسی و ثقافتی سرگرمیوں کا تجزیاتی تذکرہ ہے اور ایک عظیم شاہکار ہے ، یہ ایک ایسے نامور معلم ، ادیب ، صحافی اور بلند پایہ انشاء پرداز کی تحریروں کا مجموعہ ہے جس کی اصول پسندی اور حقیقت پسندی کا ایک زمانہ قائل ہے.
ندوة العلماء لکھنؤ کے ناظم حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم رقمطراز ہیں
"عزیز سعید مولوی شفیق الرحمن ندویؒ ندوہ کے عالم باعمل اور جید الاستعداد فرزند تھے موصوف اردو عربی دونوں ہی زبانوں کے ادب شناس فاضل تھے اسکے باوجود حصول شہرت کے لئے کبھی کوشاں نہ رہے۔”
اس حسین گلدستہ کے تمام مضامین نہایت شگفتہ ، شستہ ، سلیس اور مقصدیت سے لبریز ہیں ، اسے *اردوئے مبین* سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کی اہمیت وافادیت کو بیان کرتے ہوۓ دارالعلوم ندوة العلماء لکھنؤ کے مایہ ناز استاذ تفسیر و ادب جناب مولانا علاء الدین صاحب ندوی یوں رقمطراز ہیں :
"ان مضامین کو دیکھنے کے بعد میرے اندر دو طرح کے تاثرات ابھرے ، ایک تو یہ کہ ان تحریروں کی ماہیت میں ادبی رنگ و روغن کی خوشبو رچی بسی ہے ، مجھے پہلے اندازہ نہ تھا کہ مولانا کا ادبی ذوق اتنا صاف ستھرا اور معیاری ہے ، مولانا کو ان قلم کاروں میں جگہ دینی چاہیے جو کم لکھتے تھے ، کم لکھنے والے چاہے شہرت کے بام عروج کو نہ چھو پاتے ہوں مگر جو کچھ وہ لکھتے ہیں وہ پختہ ، وقیع ، معیاری ، قابل قدر ، فکر انگیز اور متاع گراں مایہ ہوتا ہے جبکہ کثرت سے لکھنے والے شہرت کو چھو تو لیتے ہیں مگر ان کی تحریریں نقش ناتمام اور سوداۓ خام ہوتی ہیں . دوسری چیز ان تحریروں کا مثبت تعمیری فکری پہلو ہے ، اس بنیاد پر ان قلمی نگارشات کو رجائی ادب سے موسوم کیا جانا بہتر ہے۔”
یہ کتاب ان قلمی نگارشات پر مشتمل ہے جنھیں مولانا نے 1986 تا 1991 عالم اسلام اور دنیا کے دیگر اسلامی حصوں میں بسنے والے مسلمانوں کے دینی ، سماجی ، سیاسی ، معاشی حالات اور علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے اتار چڑھاؤ اور مد و جزر کے پیش نظر اور 1997 میں سویت یونین کی طرف سے افغانستان پر ہوۓ ظلم و ستم اور ظالمانہ و سفاکانہ یلغار کے نتیجہ میں مسلم قوم پر چھائی ہوئی مایوسی کے مد نظر ذکروفکر نامی اردو کے ایک وقیع ماہنامہ کے توسط سے امت مسلمہ کو بیدار کرنے کے لئے اور حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے لئے تحریر کیا تھا ، یہ مجموعہ ہند و بیرون ہند کے تعلق سے مختلف قیمتی معلومات کا گنجینہ ہے ، مثلا شاہ فہد نے کب جلالة الملک کے بجاۓ خادم الحرمین الشرفین کے لقب کو اپنے لئے پسند کیا ؟مسجد نبوی کی توسیع کب اور کتنی مرتبہ عمل میں آئی ؟ سر زمین کینیا میں ماسونیت اور قادیانیت کا تدارک کس طرح کیا گیا ؟ انڈونیشیا میں عیسائیت کا قلع قمع کیسے عمل میں آیا ؟ یورپ کی سب سے بڑی مسجد کس نے بنائی ؟ امریکہ میں قبول اسلام کا دائرہ کس تیزی کے ساتھ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے ؟ اس طرح کی بیسیوں سرخیاں ہیں جن کے ذیل میں مصنف نے آسان زبان میں قیمتی معلومات یکجا کر دیا تھا.
متاع ذکر و فکر کے مرتب میرے محسن اور کرم فرما مولانا طارق شفیق ندوی ہیں ( زادھم اللہ عزا و شرفا ) جو آل انڈیا ملی کونسل مشرقی اترپردیش کے صدر ، تنظیم ابنائے ندوہ بہار کے کنوینر اور اسلامیہ کالج گورکھپور کے صدر شعبہ اردو ہیں ان کی بڑی خوبی یہ ہے کہ ہمہ آن رواں دواں اور جواں رہتے ہیں ، جب لکھتے ہیں تو خوب لکھتے ہیں اور بولتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا کہ اردو تعبیرات ومحاورات کے حافظ ہیں اور بے شک وہ اپنے والد ماجد نور اللہ مرقدہ کے عکس جمیل اور جانشین ہیں۔
الغرض جہاں ایک طرف صاحب الفقہ المیسر حضرت مولانا شفیق الرحمان ندویؒ کی ذات و حیات اور نگارشات دعوت فکر و عمل دیتی ہے تو وہیں دوسری طرف مولانا مرحوم کے فرزند ، دل درد مند اور فکر ارجمند کے ترجمان مولانا طارق شفیق صاحب ندوی ہم سب کی جانب سے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ان قیمتی تحریروں کو افادہ عام کے لئے شائع کیا.

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔