• 425
    Shares

سائنس دانوں کو شمالی امریکہ میں 23 ہزار سال پرانے انسانی قدموں کے نشانوں کے نئے فاسل ملے ہیں، جن کی دریافت نے براعظم پر انسان کی سرگرمی کے حوالے سے نئی تاریخ مرتب کی ہے۔

’سائنس‘ جریدے میں جمعرات کو چھپنے والی تحقیق کے مطابق اس سے قبل انسان کی شمالی امریکہ میں سرگرمیوں کے شواہد 12 ہزار سال پرانے تھے۔

برطانیہ کی بورنمتھ یونیوسٹی میں ہومینن پئلیواکالوجی کی ماہر ڈاکٹر سیلی رینالڈس نے کہا کہ اس دریافت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان برف کی پرتیں پگھلنے کے بعد نہیں بلکہ آخری برفانی دور سے قبل یہاں موجود تھے۔

انسانی پاؤں کے نشانات کے فوسل امریکی ریاست نیو میکسیکو کے وائٹ سینڈز نیشنل پارک میں ایک قدیم جھیل کی نرم مٹی میں پائے گئے۔ یہ جھیل اب الکلی فلیٹ کا حصہ ہے۔

ڈاکٹر رینالڈس نے مزید کہا: ’براعظم امریکہ میں قدیم ترین پاؤں کے نشانات وائٹ سینڈز کے مقام سے ملے ہیں جو تقریباً 23 ہزار پرانے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یہاں برف کی پرتوں کی تعداد سب سے زیادہ تھیں۔‘

ان کے بقول: ’ماضی میں ہمارا خیال تھا کہ انسان صرف برف کی پرتیں ختم ہونے کے بعد ہی شمال سے یہاں پہنچا تھا لہذا ہمارا خیال تھا کہ ہم 12 ہزار سال قبل ہی یہاں موجود تھے اور اسی طرح ایک طویل عرصے تک بہت سے مقامات پر انسانی رسائی کے بارے میں سوچا گیا تھا کہ جب برف سے ڈھکی راہداریاں کھلیں تو ہی انسان جنوب کی طرف سفر کرنے کے قابل ہوا تھا۔‘

انسانی پیروں کے نشانات سب سے پہلے نیشنل پارک کے ریسورس منیجر ڈیوڈ بسٹوس نے اس وقت دریافت کیے جب انہوں نے ان ’گھوسٹ ٹریکس‘ کے بارے میں سنا جہاں پاؤں کے نشانات زمین گیلی ہونے پر ظاہر ہوتے اور خشک ہونے پر غائب ہو جاتے تھے۔

سب سے پہلے سائنسدانوں نے اس بات کی تصدیق 2016 میں کی کہ پاؤں کے نشانات کے فوسل حقیقی تھے اور اس ہفتے ’سائنس‘ جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیروں کے نشانات کے ارد گرد آبی نباتات کے بیجوں کی کاربن ڈیٹنگ سے ثابت ہوا ہے کہ یہ 21 ہزار سے 23 ہزار سال پرانے ہیں۔

زیادہ تر پیروں کے نشان نوعمر انسانوں، چھوٹے بچوں اور کچھ بالغوں کے بھی ہیں جن کے چاروں طرف میمتھز (قدیم برفانی ہاتھی) دیو ہیکل گراؤنڈ سلاتھس (دو پاؤں پر چلنے والا قدیم امریکی جانور) اور خوفناک بھیڑیوں کے قدموں کے نشانات بھی موجود ہیں۔

ڈاکٹر رینالڈس نے کہا کہ اس دریافت سے براعظم امریکہ میں میگافونا (قدیم دیو ہیکل جانوروں) پر انسانی اثرات کا بھی پتہ چلتا ہے۔ انسانوں کے ساتھ ان کا بقائے باہمی سے رہنے کا دور زیادہ دیر چلا لیکن بالآخر زیادہ شکار کی وجہ سے یہ جانور ناپید ہو گئے۔ڈاکٹر رینالڈس کے مطابق: ’شاید یہ ہو سکتا ہے شروع کے سالوں میں انسان ان میگافوناز کو اس لیے مار رہے ہوں تاکہ وہ خود کو مرنے اور اور ان کا شکار بننے سے محفوظ رکھ سکیں۔‘

’اور ممکنہ طور پر وقت کے ساتھ ساتھ آبادی بڑھنے سے طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا ہو اور انسانوں نے ان میگا فوناز کو زیادہ تعداد میں مارنا شروع کر دیا ہو اور شاید اسی وجہ سے یہ ختم ہو گئے۔‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔