عمر فراہی

مرنے والے میں کچھ تو خوبیاں ضرور تھیں ورنہ برصغیر کے علاوہ یوروپ وغیرہ میں ان کے لاکھوں مرید نہ ہوتے ۔اب یہ الگ بات ہے کہ بیسویں صدی کے جمہوری انقلاب کے بعد سیکولر ممالک میں جس طرح ملت اسلامیہ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوئی ہر فرقے نے اس آزاد لبرل ماحول میں اسلامی عقائد پر عمل کرتے ہوۓ زندگی نو کا جو آسان راستہ منتخب کیا ان میں آزاد خیال مسلمانون کو پرامن راہ دکھانے میں مولانا وحیدالدین خان صاحب پیش پیش تھے اور بہت ہی بے باکی سے مولیوں سے بدظن اس آزاد خیال طبقے کی رہنمائی کی اور وہ آخر تک اپنے اس نظریے پر قائم رہے ۔اب یہ الگ بات ہے کہ میں ذاتی طور پر مولانا کے نظریے سے کبھی متفق نہیں رہا بلکہ دعا کرتا رہا کہ ۔۔۔
اۓ طائر لا ہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

اتفاق سے اقبال اور حالی کے بعد میں نے جس کو سب سے پہلے پڑھا یا جب میری کتابوں کے مطالعے کی عمر ہوئی اس وقت سب سے پہلے مولانا وحیدالدین خان کی تحریروں سے ہی متعارف ہوا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے اخبارات اور رسالوں کو پڑھنے کا شوق پانچویں جماعت سے ہی رہا ہے اور بچوں کیلئے یہ عمر ایسی نہیں ہوتی کہ وہ کسی عالم دین جیسے کہ مولانا شبلی فراہی مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی اور علی میاں کی کتابوں کو سمجھ سکیں سوائے اس کے کہ انہیں کتابچوں اور رسالوں سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے ۔

جب میں اعظم گڑھ یوپی سے ہائی اسکول کے بعد ممبئی آیا تو یہاں مجھے پڑھنے کیلئے اخبارات میسر تھے ۔جس میں اخبار انقلاب بلٹز ہندوستان نشیمن اردو ٹائمز وغیرہ اور کچھ میگزین بھی تھیں جیسے کہ بیسویں صدی شمع اورخاتون مشرق وغیرہ ۔مذہبی گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے میری دلچسپی اور مطالعے میں جو رسالہ سب سے پہلے آیا وہ مولانا وحیدالدین خان صاحب کا الرسالہ ہی تھا جسے خرید کر میں مسلسل پڑھنے لگا ۔یہ بھی بتا دوں کہ اس عمر تک میری تربیت جس ماحول میں ہوئی تھی میرے اوپر کسی جماعت اسلامی اہل حدیث تبلیغی دیوبندی وغیرہ جیسے مسلک کی چھاپ نہیں پڑی تھی ۔میں صرف مسلمان تھا بس اور جو کچھ پانچویں تک مدرسے میں سیرت النبی کے تعلق سے بنیادی تعلیم دی گئی تھی ذہن ہمیشہ اسی اسلام کی تلاش میں بھٹکتا رہا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا وحیدالدین خان صاحب کی تحریریں جدید انگلش مصنفین کے حوالے سے مستفید ہوتی تھیں لیکن اسلامی نکتہ نظر سے ذہن کبھی بھی ان کا مرید نہیں بن سکا تو اس لئے کہ مولانا کی تحریریں pro government ہوتی تھیں اور وہ دیگر علماء دین کی رائے کے برعکس اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں پر فلسطینی مسلمانوں کا حق نہیں سمجھتے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ توریت اور قرآن کے مطابق اللہ نے اس زمین کو یہودیوں کے حوالے کیا تھا جس پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک حکومت کی وہ کافی تھا اب اس پر یہودی قابض ہیں تو یہ ان کا حق ہے فلسطینیوں کو جتنے علاقے میسر ہیں وہ اسی پر قناعت کرتے ہوۓ اپنی جدوجہد سے دستبردار ہو جاییں ۔ یہ وہ دور تھا جب فسادات اپنے عروج پر تھے ۔مولانا ہمیشہ اس کا ذمدار مسلمانوں کو ہی ٹہراتے تھے ۔ الرسالہ کے اپنے ہر شمارے میں صلح حدیبیہ کے حوالے سے اسلام اور جہاد کی جدید تشریح پیش کرنا ان کا معمول تھا ۔ہر معاملے میں آرایس ایس یا عالمی سطح پر صہیونی سازش کے برخلاف مسلمانوں کو متشدد قرار دینا بھی خان صاحب کی ضد تھی ۔مختصرا کہیں تو خان صاحب تمام مسلک کے علماء سے ہٹ کر اپنی ایک الگ سوچ رکھتے تھے ۔

وہ سوچ یہ تھی کہ دیگر مسلک کے علماء تو کبھی نہ کبھی مغرب اسرائیل یا ہندوستان میں فاشسٹ طاقتوں کے خلاف کھل کر ایک متحدہ پلیٹ فارم پر متحد ہو کر سامنے بھی آجاتے تھے اور سرکاری مظالم کے خلاف آواز بھی اٹھاتے تھے خان صاحب نے باطل کو ناراض کرنے کا جوکھم کبھی نہیں لیا ۔قلم کے دھنی ضرور تھے لیکن اس قلم سے حق کبھی نہیں لکھا یہی وجہ ہے کہ خان صاحب کے معتقدین میں یہود اور آرایس ایس نواز کے ساتھ ساتھ مغرب نواز لبرل اور آزاد خیال مسلمانوں کی تو ایک بھیڑ نظر آتی ہے مگر ماضی میں شبلی حمیدالدین فراہی ابوالکلام آزاد اقبال اور مودودی کو جس طرح عامر عثمانی امین احسن اصلاحی ابولیث اصلاحی مولانا علی میاں صاحبان جیسے اسلام پسند علماء کی پست پناہی حاصل رہی ہے خان صاحب نہ صرف ان روایتی علماء کی پست پناہی سے محروم رہے مسلسل اسلام پسندوں کی تنقیدوں کا لطف بھی اٹھاتے رہے ہیں ۔میں نے ذاتی طور پر جن دو شخصیتوں سے جن میں ایک مولانا مودودی کی شخصیت ہے اور دوسری خان صاحب کی جو چیز سیکھی ہے وہ یہ کہ لوگوں کی تنقیدوں سے بالا تر ہو کر اپنی بات بے لاگ پیش کر دینا چاہئیے ۔خان صاحب کی یہی ایک ادا ہمیشہ یاد رکھی جاۓ گی کہ مخالف کتنا بھی جارحانہ رخ اختیار کرے یا چیکھے چلاۓ مجھے اپنی بات کرنی ہے تو کرنی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس مشکل وقت میں خان صاحب کی اسلام کیلئے جو بھی خدمات رہی ہوں اسے قبول کرتے ہوئے ان کی مغفرت کرے لیکن میں اللہ سے یہ دعا بھی کروں گا کہ اگر مہدی کا ظہور اور دجال کا خروج یقینی ہے تو وہ برصغیر اور دنیا کے موجودہ سیکولر پرفتن ماحول میں ملت پر خان صاحب کا کوئی جانشین مسلط نہ کرے !

اس کی وجہ یہ ہے کہ مہدی اور دجال کے تعلق سے حدیثوں پر خان صاحب کا ایمان متزلزل تھا اور انہوں نے لکھا بھی ہے کہ اگر عیسی کا نزول ہوا بھی تو وہ شریعت محمدی پر عمل نہ کر کے مغرب کے موجودہ نظام کی بنیاد پر ہی حکومت قائم کریں گے ۔دوسرے لفظوں میں وہ مغرب سے اتنا مرعوب تھے کہ مغربی مصنفین فرانسس فوکو ہامہ وغیرہ کی طرح لبرل ڈیموکریسی کو ہی تاریخ کا خاتمہ تصور کرتے تھے ۔