19سالہ اور 6 ماہ کی حاملہ کو خودکشی پر مجبور کرنے کے الزام میں شوہرگرفتار،ساس، نند اور جیٹھ فرار

اورنگ آباد: 26 ڈسمبر ( یو این آئی)ایک 19 سالہ خوبصورت اور 6 ماہ کی حاملہ لڑکی کو سسرالیوں کے ذریعے ظلم و ستم کا شکار بنانے، اور مائیکہ سے 2 لاکھ روپیے نہیں لانے پر مسلسل ذہنی و جسمانی طور پر ہراساں کرنے اور تشدد کا نشانہ بنا کرخودکشی پر مجبور کرنے والے شوہر کو پولیس نے گرفتارکر لیاہے جبکہ دوسرے 3 ملزمیں ساس، نند اور ایک جیٹھ فرار ہوگئے ہیں جنھیں پولس تلاش کر رہی ہے۔

یہ افسوس ناک واقعہ اورنگ آباد کے سعادت نگر، ریلوے اسٹیشن علاقے میں کل 25 ڈسمبرکو پیش آیا۔ اورنگ آباد کے ساتارہ پولیس اسٹیشن میں رات 1 بجے درج ایف آئی آر ( نمبر 396/2020 )میں رشید پورہ کے ساکن لڑکی کے والد تفضل محمود حُسین خان نے اپنی لڑکی رُفیدہ کے شوہر مرزا اسلم بیگ صفدر بیگ، ساس نفیسہ بیگم صفدر بیگ ، نند سلمیٰ صفدر بیگ اور جیٹھ عبید بیگ صفدر بیگ کے خلاف شکایت درج کرائی ہے جس پر پولس نے ملزمین کے خلاف تعزرات ہند کی دفعات 304 بی، 498 اے،504 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر کے شوہرکو گرفتار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تفضل محمود حُسین خان نے اپنی شکایت میں کہا ہےکہ، انکی اکلوتی لڑکی روفیدہ کی شادی 19 نومبر 2019 کو مرزا اسلم بیگ کے ساتھ ہوئی تھی۔ شادی کے بعد ایک ماہ ٹھیک سے گزرا، لیکن اس کے بعد رفیدہ کے سسرال والوں نے اسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا کرنا شروع کر دیا اور ستانے لگے۔ ” تیرے باپ نے شادی اچھی طرح سے نہیں کی۔ ہنڈہ نہیں دیا ” کہہ کر اسے ذہنی اور جسمانی طورپر پریشان کرنےگلے۔ لڑکی نے اس کی اطلاع فون پر اپنی ماں کو دی،تو انھوں نے اسے سمجھایا کہ چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں، اسے کچھ دن صبرکرنا چاہیے۔ لیکن اس کے سسرال والوں کا ظلم بڑھتا ہی گیا۔ جس کے بعد مارچ 2020 میں ایک نشست میں اس کے شوہر اسلم بیگ اور اس کے بھائی عبید بیگ نے موبائل شاپ کھولنے کے لیے دو لاکھ روپیے دینے کا مطالبہ کہا۔ جس پر میں نے کہا کہ میرےپاس اتنی رقم نہیں ہے اور میں صرف 50 ہزار روپئے دےسکتا ہوں۔ اور میں نے اس وقت انھیں 50 ہزار روپیے اس شرط پر دیےکہ اب میری بیٹی کے ساتھ ظلم و ستم اور اسے ذہنی طور پر پریشان کرنا بند کیا جائے۔

جس کے بعد روفیدہ حاملہ ہوئی ، جس کے بعد تین ماہ کوئی بات نہیں ہوئی۔ مگر اس کے بعد ایک بار پھر سے اسے ستانے اور تکلیف دینا شروع کر دیا گیا اور 2 لاکھ لانے کے لیے دباو ڈلنا شروع کیا گیا۔ جس کے بعد 20 ڈسمبر 2020 کوایک اورنشست ہوئی جس میں میرے داماد نے ایک بار پھر سے موبائل شاپ کھولنے کے لیے دو لاکھ دینے کا مطالبہ کیا۔ میں نے ان سے کہا کی دو تین ماہ میں کسی طرح بھی انتظام کرکے 2 لاکھ دیتا ہوں۔ اس وقت تک میری بیٹی کو تکلیف مت دو۔ جس پرانھوں نے واضح دھمکی دی کی اگر رقم نہیں دی گئی کو تمھاری لڑکی کا برا حال کریں گے۔ جس کے بعد 25 ڈسمبر کو 12 بجے میرے بھائی و دوسرے رشتہ دار میرے گھر آیے اور مجھے رُفیدہ کی سسرال لے گیے۔ جہاں مجھے بتایا گیا کہ میری لڑکی نے گلے میں پھندہ ڈال کر خودکشی کر لی ہے۔

تفضل محمود حُسین خان نے یو این آئی کو بتایا کہ یہ دوہرہ قتل ہے، "میری لڑکی نہایت معصوم، خوبصورت اور کم عمر تھی۔ اور وہ سات ماہ کی حاملہ تھی۔ اسے ظلم و ستم کا نشانہ بنانے اور خودکشی پر مجبور کرنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ ” انھوں نے مطالبہ کیا کہ فرار تینوں ملزموں کو بھی پولیس فوری گرفتار کرے اور ان کے خلاف سخت سے سخت کاروئی کی جائے۔اس معاملے کی تفتیش سب انسپکٹر انیتا این فساٹے کر رہی ہیں۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے ۔

یو این آئی اےاےاے/ این اے


3 thoughts on “19 سالہ رُفیدہ سسرالیوں کے لالچ کی بھینٹ چڑھی”
  1. ذلیل لوگ ہیں انہیں کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے ۔معصوم کا قتل کیا مادہ پرست بےغیرت لوگوں نے اللہ انہیں سخت سزا دے دنیا، اور آخرت میں ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں