دارالعلوم الاسلامیہ بستی کے بالغ نظر استاذ کی رحلت سے پوری ملت کا خسارہ: مولا ناقاری محمد طیب قاسمی

پریس ریلیز( لکشمی پور مہراج گنج) جیسے ہیں چہار شنبہ کی شب میں حضرت مولانا نثار احمد قاسمی ، صدر مدر س دارالعلوم الاسلامیہ بستی کے انتقال کی خبر پہنچی ، ہتھیا گڈھ میں ایک سراسیمگی پھیل گئی، دارالعلوم فیض محمدی کے اساتذہ میں کئی ایک مولانا مرحوم کے خصوصی شاگرد بھی ہیں، لہٰذا فجر کی نماز کے بعد ہی موجود طلبہ واساتدہ کی سواریاں تیار ہونے لگیں، ایک بڑا قافلہ مکمل بس میں بھر کر شرکت جنازہ کے لئے مولانا ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی، استاذحدیث فیض محمدی، مولانا محمد انتحاب ندوی، ناظم تعلیمات ، مفتی احسان الحق قاسمی، استاذ فقہ وحدیث ، مولانا محمد سعید قاسمی، استاد فقہ ، مفتی مولانا شکر ا للہ قاسمی، کی قیادت میں دارالعلوم کی پوری بس لیکر طلبہ کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ گلہریا پہونچ گئے، واپسی کے بعد ایک تعزیتی نشست ادارہ کے سربراہ اعلیٰ حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی کے صدارت میں منعقد ہوئی۔
نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم فیض محمدی کے سر براہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے کہا: دارالعلوم اسلامیہ بستی کے صدر المدرسین مولانا نثار احمد قاسمی کا انتقال پوری ملت اسلامیہ کیلئے عموماً وتعلیمی حلقوں کے لئے خصوصاً ایک دل دوز سانحہ ہے، آپ زہد وتقویٰ کے پیکر و اسلاف کی حسین یادگار تھے یقینا اس وقت پوری ملت اسلامیہ غم میں مبتلا ہے ، بے چینی اور تکلیف کا شکارہے ،عام علمی حلقوں میں سوگ وماتم چھایا ہوا ہے، اب تو صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں، کہ یہی دستور زندگی ہے ۔ ہم خدا سے دعاءگو ہیں کہ ان کا نعم البدل امت مسلمہ کو میسر فرمائے، چوں کہ ایسی جامع صفات کی حامل شخصیات کسی خطہ کو بڑی مشکل سے نصیب ہوتی ہیں ، بلاشبہ مرحوم کی شخصیت بے پناہ علم وفضل کے ساتھ خاندانی نجابت وشرافت کا پیکر تھی ،ایک لمبے عرصے تک آپ نے درس وتدریس کے شعبہ میں کارہائے نمایاں انجام دیا، جنہیں علمی حلقے کبھی فراموش نہیں کرسکتے ، اسی کے ساتھ ساتھ آپ نے پوری زندگی اپنی اصلاحی تقریروں کے ذریعہ اصلاح معاشرہ اور سماج میں پیدا برائیوں کے خاتمہ کیلئے کوشاں رہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں جب جب موقع ملا انہوں نے اپنی فکر کو عملی جامہ پہنانے اور ملت کو بیدار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
مولانا قاسمی نے مزید کہا کہ ضلع بستی وسنت کبیر نگر کا پورا خطہ واقف ہے کہ آپ نے اپنے رفقاءکار کے شانہ بہ شانہ ہو کر علوم نافعہ کی ترویج واصلاحی پروگرام کی ایسی تحریک چلائی کہ جس سے سماج و معاشرہ کو بڑا فائدہ ہوا ، جس کی شہادت کے لئے انکے تیار کردہ علماءو علاقے میں قائم مدارس ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے اخلاص وتقوی، تواضع وخاکساری، مجاہدانہ زندگی ، احتساب کی دولت بے بہا نے آپ کو خلق خدا کا محبوب بنادیا تھا۔ یقینا اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرحوم کے انتقال سے علم کا ایک روشن چراغ بجھ گیا، جو کئی دہائیوں سے اپنی علمی ودعوتی روشنی بکھیر کر جہالت کی تاریکی کو ختم کرنے کیلئے کوشاں تھا۔اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے ۔آمین۔ ہم مولانا مرحوم کے اہل خانہ اور دارالعلوم بستی کے ذمہ داروں سے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں۔
تعزیتی نشست میں دارالعلوم کے مہتمم وجمعیة علماءمہراج گنج کے جنرل سکریٹری مولانا محی الدین قاسمی ندوی، مفتی احسان الحق قاسمی نائب مدیر ماہ نامہ احیاءاسلام ، ڈاکٹرمولانا محمد اشفاق قاسمی، مولانا محمد انتحاب ندوی، مولانا وجہ القمر قاسمی،، مولانا شکراللہ قاسمی، مولانا محمد یحیٰ ندوی، مولانا محمد صابر نعمانی،حافظ ذبیح ا للہ ، ماسٹر محمد عمر ، ماسٹر جاوید احمد، ماسٹر جمیل احمد ، ماسٹر شمیم احمد ، ماسٹر صادق علی کے علاوہ تمام طلبہ عزیز موجودرہے