وسیم رضوی کے بھونکنے پر مسلمان مشتعل نہ ہوں
مرکزی جمعیت علماء ہند کے سکریٹری مولانا عزیر احمد قاسمی کی اپیل

نئی دہلی(پریس ریلیز) قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ رب العزت نے بذات خود لی ہے، اوراس کے خلاف ہر زہ سرائیاں اس کے نزول کے وقت بھی ہوتی رہی ہیں، لیکن سارے معاندین کو اپنے منہ کی کھانی پڑی، اور قرآن پندرہ صدیوں سے جیسے تھا ویسے ہی ہے اور ویسے ہی رہے گا۔ معاندین اوردشمنان اپنے منہ کی کھائیں گے، وسیم رضوی کے بیان سے پورے ملک کے مسلمانوں میں بے چینی پائی جارہی ہے اوریہ لازمی بھی ہے اورہونی بھی چاہئے، لیکن ہماری طرف سے کوئی ایسا اقدام نہیں ہونا چاہئے جو ہمارے دین کی تعلیمات کے خلاف ہو، اوراس سے اسلام اورمسلمانوں پر آنچ ا ٓئے۔ہم اللہ تعالی کابے حد شکر ادا کرتے ہیں کہ اس موقع پر مسلمانوں کے تمام مذاہب جن میں وقت اور حالات غلط فہمیوں نے دوری پیدا کردی تھی، سب نے متحد ہو کر بیان دیا ہے، اور دے رہے ہیں،بلکہ شیعہ حضرات نےاپنی مکمل برأت کااعلان بھی کیا ہے اوراس کی خود ساختہ قبرکوبھی منہدم کردیا ہے۔ الحمد للہ یہ اتحاد اور یکجہتی کا نیا پلیٹ فارم تیار ہورہا ہے،جیسا کہ مغربی یوپی میں مسلمانوں اور جاٹوں کے درمیان ۲۰۱۰ ء؁سے باطل طاقتیں تفریق ڈالنے کی مذموم کوشش کررہی تھیں، اوروہ اپنے سازش میں کامیاب بھی ہوئیں، چنانچہ مظفرنگرکاخطرناک فساد ہوا ، لیکن بحمدللہ کسان آندولن کے طوفان نے ا ختلاف کی دیوار کو سبوتاز کردیا ، اور بحمداللہ پہلے کی طرح مسلمان اور غیر مسلم متحد ہوگئے، اللہ تعالی اسے مستحکم اور مضبوط بنانے کی توفیق نصیب فرمائے، مسلمانوں سے ہماری درخواست ہے کہ جذبات سے کام نہ لیتے ہوئے جو حضرات سرفہرست عدالت کا رخ کررہے ہیں ان کی مکمل تائید اورہمدردی وتعاون کیا جائے، واضح رہے کہ ایسوں کابھوکنا قرآن پاک کوکوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا، بلکہ اس شخص پر افسوس ہے کہ اس نے دین اور دنیا دونوں میں رسوائی کا سودا کرلیا، دنیاوی اعتبار سے جن اپنے جرائم کو چھپانے کی سعی پیہم میں اس نے یہ اقدام کیا تھا تاکہ اس کی خیانتوں پرا سے کلین چٹ مل جائے، وہ نہ ہوا، حد تو یہ ہے کہ اس کے اپنے اعزاواقارب نے بھی اس سے اپنی برأت کااعلان کردیا، اورآخرت کوبھی اس نے قرآن پاک پر ا لزام تراشی کرکے برباد کرلیا، اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: جس کا ترجمہ یہ ہے ’’انہوں نے(یعنی جو شخص دین کے بارے میں شک و تذبذب کاشکار رہتا ہے اس کا حال بھی یہی ہے، اسے دین پر استقامت نصیب نہیں ہوتی کیوںکہ اس کی نیت صرف دنیاوی مفادات پر ہوتی ہے، ملتے رہے تو ٹھیک ہے، بصورت دیگر وہ پھر دین آبائی یعنی کفر وشرک کی طرف لوٹ جاتا ہے،ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد ہے ’’دونوں جہان کانقصان اٹھالیا ، واقعی یہ کھلا نقصان ہے‘‘،( سورۃ الحج:۱۱) ایسے ملحد و زندیق آدمی کی بکواس کا جواب دینا، یا اس کو منہ لگانا، مومنوں کی شایا ن شان نہیں ہے، اخبارات میں یکے بعد دیگرے بیانات دینا، اس کی مذمت کرنا، اسکو مزید شہرت دینے کے مترادف ہے، اس لئے مسلمانوں کو صبر وضبط اور تحمل کا ثبو ت دیتے ہوئے اس کی تشہیر سے پرہیز کرنا ہے۔