بھارت: ہندوؤں میں ’گوشت خوری کا رجحان‘ اور ’گجرات میں پابندی‘

3

واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ گجرات کی سڑکوں پر نان ویجیٹیرین غذا بیچنے والے ریڑھی بانوں کی اکثریت مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندو سمجھے جانے والے دلتوں پر مشتمل ہے۔سخت گیر ہندو تنظیمیوں کو ان کے اس تیزی سے پھیلنے والے کاروبار اور غیر مسلموں بالخصوص ہندوؤں میں نان ویج غذا کھانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت اعتراض ہے۔

حکومتی جواز

گجرات کے وزیر محصولات راجندر تریویدی کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر گوشت اور انڈوں سے بنی مصنوعات کے کھلے عام کاروبار سے نہ صرف کچھ لوگوں کے ’مذہبی جذبات‘ مجروح ہو رہے ہیں بلکہ ان سے نکلنے والی مصالحہ دار خوشبو آنکھوں میں تکلیف کا سبب بھی بنتی ہے۔’لوگوں کی شکایت ہے کہ مذہبی مقامات کے نزدیک بھی اب نان ویجیٹیرین غذا بیچنے والی ریڑھیاں لگتی ہیں۔ یہ زمین پر قابض ہونے کا کاروبار ہے۔ یہ ایک دیرینہ مسئلہ تھا۔

’میں اس کاروبار پر پابندی لگانے والے میئرز کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ایسی تمام تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس کاروبار پر پابندی لگانے کے احکامات دوسرے شہروں میں بھی جاری کر دیے جائیں گے۔‘

گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل کہتے ہیں کہ ایسے اقدامات اٹھانے کا مقصد ’غیر صحت بخش‘ غذا بیچنے والے ریڑھی بانوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔

’ہماری تشویش صرف یہ ہے کہ سڑکوں پر بیچی جانے والی غذا غیر صحت بخش نہ ہو۔ اس کے علاوہ جب یہ ریڑھیاں ٹریفک کی آمد و رفت میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں تو بلدیہ اداروں کے لوگ ان کو ہٹاتے ہیں۔‘

تاہم گجرات میں بی جے پی کے ریاستی صدر سی آر پاٹل کا ماننا ہے کہ بھارت میں لوگوں کو اپنی مرضی سے کوئی بھی غذا کھانے کا حق ہے۔

’پورے ملک میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو ویج کھاتے ہیں اور دوسرے وہ جو نان ویج کھاتے ہیں۔ کچھ بھی کھانا ان کا حق ہے۔ ان کو کوئی روک نہیں سکتا۔ ریڑھی بان گندگی پھیلائیں گے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔ ان کو ہٹانا یا جیلوں میں بند کرنا، ایسا بی جے پی کبھی نہیں چاہے گی۔‘

ریڑھی بانوں کا عدالت سے رجوع

احمد آباد میں گوشت اور انڈوں سے بنی مصنوعات بیچنے والے ریڑھی بانوں نے بلدیہ کی جانب سے ان کی ریڑھیوں کی ضبطی کے بعد گجرات ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے۔

عرضی میں کہا گیا ہے: ’ریاست بھر میں بغیر کسی وجہ کے ہزاروں کی تعداد میں ریڑھیوں کو ضبط کیا گیا ہے اور اس کارروائی کے دوران کسی بھی جائز ضابطے پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔‘

عرضی میں گجرات ہائی کورٹ سے گذارش کی گئی ہے کہ وہ احمد آباد میونسپل کارپوریشن اور گجرات حکومت کو ہدایت دے کہ وہ انہیں نان ویجیٹیرین غذا بیچنے کی اجازت دیں۔

ریڑھی بانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سڑکوں پر نان ویجیٹیرین غذا کے بیچنے سے کسی کے جذبات اور حقوق کی خلاف نہیں ہو رہی ہے جیسا کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

عرضی میں کہا گیا ہے: ’ایک ویجیٹیرین، نان ویجیٹیرین کے غذا کھانے کو ناگوار تصور کرے گا اور اسی طرح ایک نان ویجیٹیرین، ایک ویجیٹیرین کے غذا جیسے دودھ، پنیر، شہد کے کھانے کو ناگوار سمجھے گا۔ جب تک ایک شہری کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرے گا تب تک اس کو بھارتی آئین کی دفعہ 21 کے تحت کوئی بھی چیز بیچنے کی آزادی حاصل ہے۔‘

ریڑھی بانوں نے اپنی عرضی میں میونسپل کارپوریشن کی اس کارروائی کو من مانی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا (کورونا) وبا کی وجہ سے وہ پہلے ہی از حد متاثر ہو چکے ہیں۔

غیر مسلموں میں نان ویج کھانے کا بڑھتا ہوا رجحان

گجرات سے تعلق رکھنے والے سماجی جہد کار آصف شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ اس ریاست میں نان ویجیٹیرین غذا پر پابندی کی کئی وجوہات ہیں، جس میں ایک غیر مسلموں بالخصوص ہندوؤں میں اس کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔

’سڑکوں پر نان ویج غذا بیچنے والے مسلمان اور کھانے والوں کی اکثریت غیر مسلموں کی ہوتی ہے۔ مسلمان آبادی والے علاقوں میں غیر مسلم نہ صرف نان ویج کھانے آتے ہیں بلکہ وہ پارسل کروا کے اپنے ساتھ بھی لے جاتے ہیں۔ اب اس کاروبار میں غیر مسلم بھی آنے لگے ہیں۔

’چند دن پہلے یہاں سے شائع ہونے والے ایک اخبار نے لکھا کہ ہندوؤں میں نان ویج غذا کھانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے لہٰذا اس پر پابندی لگانا ضروری بن گیا تھا۔ اخبار نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ویجیٹیرین ریاست کہلائی جانے والی اس ریاست میں اب 90 فیصد لوگ نان ویج کھاتے ہیں۔

’2014 میں سرکاری سطح پر کیے گئے ایک سروے میں کہا گیا تھا کہ گجرات میں صرف 40 فیصد لوگ انڈے اور گوشت کھاتے ہیں۔‘

آصف شیخ کہتے ہیں کہ گجرات میں ’ویج نان ویج‘ کا مسئلہ بہت پرانا ہے اور یہاں کی سیاست سے جڑا ہے۔

’چوں کہ انتخابات قریب آ رہے ہیں لہٰذا ان کی جانب سے ایسے اقدامات اٹھانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ گجرات کے ہی شہر سورت میں یہ پابندی نہیں لگائی گئی ہے کیوں کہ وہاں کے اکثر غیر مسلم نان ویجیٹیرین ہیں۔‘

گجرات ہائی کورٹ کے وکیل ایڈووکیٹ خالد شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ویج اور نان ویج‘ بی جے پی کا ایک سیاسی ایجنڈا ہے جس کو وہ چلاتے رہیں گے۔

’کرونا کی وجہ سے نان ویج بیچنے والے ریڑھی بانوں کی حالت پہلے ہی خراب ہو چکی ہے۔ یہ کاروبار کوئی شوق سے نہیں بلکہ مجبوری میں کرتا ہے۔

’یہاں کا کلچر ہے کہ انڈوں کو چند مصالحوں کا پیسٹ لگا کر تیل میں تلا جاتا ہے۔ اس کے دھویں سے کچھ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو گی۔ ان میں سے کسی نے شکایت کی ہو گی اور حکام کو پابندی لگانے کا جواز مل گیا۔‘

گجرات میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم مائنارٹی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے کنوینر مجاہد نفیس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نان ویج غذا بیچنے پر پابندی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد بی جے پی کے ریاستی صدر سی آر پاٹل نے کہا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام کے حق میں نہیں ہیں۔

’پابندی لگانے کے لیے سرکاری سطح پر کوئی تحریری حکم نامہ جاری نہیں ہوا۔ ایسی پابندی کا کوئی آئینی جواز نہیں بنتا ہے۔ ریڑھی بانوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ وہ اب سٹریٹ وینڈرز ایکٹ لاگو کرانے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں تاکہ انہیں کوئی ستائے نہ۔‘سٹریٹ وینڈرز ایسوسی ایشن کے صدر اروند سندھیا نے بتایا کہ میں نے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے ریاستی صدر سے درخواست کی ہے کہ جب تک سٹریٹ وینڈرز ایکٹ کو نافذ نہیں کیا جاتا ہے تب تک ریڑھی بانوں کو نہ ہٹایا جائے۔

’میں نے ان سے کہا کہ ان غریب ریڑھی بانوں کی روزی روٹی چلنی چاہیے۔ انہوں نے میری درخواست پر جزوی طور پر عمل کیا ہے۔‘

گجرات میں کانگریس کے سینیئر رہنما ارجن مودھ وادیا کہتے ہیں کہ بی جے پی والوں کو صرف انڈے اور دیگر نان ویج مصنوعات بیچنے والے غریب ریڑھی بان ہی نظر آتے ہیں۔’گجرات میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط ہو رہی ہیں۔ لیکن بی جے پی حکومت کو اس لعنت کا قلع قمع کرنا ضروری نظر نہیں آتا۔ یہ ریڑھی بان غریب ہوتے ہیں۔ ان کو بلا وجہ حیران و پریشان کیا جا رہا ہے۔‘واضح رہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کا تعلق گجرات سے ہی ہے اور سنہ 2002 میں اس ریاست میں بھڑک اٹھنے والے فرقہ وارانہ فسادات کے وقت مودی یہاں کے وزیر اعلیٰ تھے۔(بہ شکریہ http://www.independenturdu.com)