گنگا ویشن کی پیدائش پر ان کی ماں فوت ہوئیں تو والد نے، جو اس زمانے میں حکیم تھے، بکریاں خریدیں تاکہ نومولود بچے کو دودھ پلانے کا انتظام کیا جا سکے۔

سب کا یہی خیال تھا کہ ماں کے دودھ کے بغیر یہ بچہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ پائے گا لیکن حکیم گنگا ویشن کہتے ہیں کہ نہ صرف خدا نے انہیں زندگی دی بلکہ آج 103 سال کی عمر میں بھی وہ صحت مند ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ اگرچہ انہیں ماں کا دودھ نہیں ملا لیکن انہیں دوسرے ذریعے سے ملنے والی خوراک قدرتی تھی۔
’مجھے کوئی بیماری نہیں، گھٹنے اور گردے جوان ہیں۔ صرف عمر زیادہ ہو گئی ہے اور نظر تھوڑی کمزور ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ وہ آج بھی پہاڑوں پر جاتے ہیں، ہمیشہ قدرتی خوراک کھائی اور گھر والوں کو بھی یہی کھلاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مریضوں کی بھی یہی تلقین کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کی اچھی صحت کا راز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے بچے بھی بازار کی سبزیاں اور غیر دیسی خوراک قطعاً نہیں کھاتے، وہ خود اپنی زمینوں پر دیسی کھاد سے فصلیں تیار کرتے ہیں اور اسی کی روٹی اور سبزیاں گھر میں پکاتے ہیں۔
’ہم نے کبھی بازار کا گھی استعمال نہیں کیا۔ گھر میں خود اپنی گائے پالتے ہیں اور اس سے دودھ، دہی، لسی اور دیسی گھی حاصل کرتے ہیں۔

’ہماری خواتین اس محنت سے ذرا نہیں کتراتیں، یہی وجہ ہے کہ جب کھانے کی میز لگتی ہے تو اس پر قدرتی خوراک کی تمام نعمتیں رکھی ہوتی ہیں۔‘
حکیم گنگا ویشن نے بتایا کہ وہ بچپن سے دہی کھاتے آئے ہیں اور روزانہ تین سے چار گلاس لسی پیتے ہیں۔ ‘میں رات کو جلدی سوتا ہوں اور صبح تین بجے اٹھتا ہوں۔ اس کے بعد میں دوبارہ نہیں سوتا بلکہ خود کو دوائیاں بنانے میں مصروف رکھتا ہوں۔‘

انہوں نے پانچ شادیاں کی ہیں اور آخری شادی سے ان کی آخری اولاد ایک 20 سالہ بیٹی ہے، یعنیٰ جس وقت ان کی آخری اولاد پیدا ہوئی اس وقت ان کی عمر 80 سال تھی۔

گنگا ویشن کے مطابق اچھی صحت کا راز جڑی بوٹیوں میں پوشیدہ نہیں، صحت مند رہنے کے لیے اپنے روزمرہ کے معمولات کو بھی صحت مند طریقے سے گزارنا چاہیے۔