100 کروڑ روپے وصولی کے الزام میں ایک سال قبل گرفتار مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ جیل سے آزاد

90

ممبئی:این سی پی لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ انل دیشمکھ کو بالآخر ممبئی واقع آرتھر روڈ جیل سے رِہائی مل ہی گئی۔ انھیں بدھ کے روز جیل سے آزاد کیا گیا اور پھر این سی پی کارکنان کے ذریعہ زبردست استقبال بھی ہوا۔

انل دیشمکھ پر برخواست پولیس افسر سچن وازے کے ذریعہ 100 کروڑ روپے وصولی کروانے کا الزام عائد کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی گزشتہ سال گرفتاری ہوئی تھی۔

بدعنوانی کے ایک معاملے میں پہلے ہی عدالت انل دیشمکھ کو ضمانت پر رِہا کرنے کا حکم سنا چکی تھی، لیکن سی بی آئی نے اس کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی ڈالی تھی۔ حالانکہ بامبے ہائی کورٹ نے ضمانت کے حکم پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں انل دیشمکھ کی جیل سے رِہائی کا راستہ ہموار ہو گیا تھا، اور آج سبھی کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے بعد وہ جیل سے باہر آ گئے۔

واضح رہے کہ انل دیشمکھ کی مشکلات میں اس وقت اضافہ ہو گیا تھا جب اُس وقت کے ممبئی پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے ان کے خلاف 100 کروڑ روپے کی وصولی کا سنگین الزام عائد کیا تھا۔ الزام عائد کیے جانے کے بعد انل دیشمکھ کو اپنے وزارتی عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑا تھا جس کے کچھ دنوں بعد ہی انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے لگاتار ایک سال تک انل دیشمکھ جیل کی سلاخوں کے اندر ہی رہے۔ پرمبیر سنگھ نے انل دیشمکھ پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے برخواست پولیس افسر سچن وازے کی مدد سے 100 کروڑ روپے کی وصولی کروائی تھی۔