10 سالہ ہندو لڑکی نے تلاوت قرآن کا پہلا انعام جیت لیا

1,965

 تیروننت پورم۔23؍ نومبر۔ ایم این این۔کیرالہ کے کوزی کوڈ میں تلاوت قرآن کے مقابلے میں ہندو طالب علم نے پہلا انعام جیتا ہے ۔ پاروتی نامی طالبہ نے اے گریڈ حاصل کرکے اپنی زبان میں روانی سے سب کو حیران کردیا۔پاروتی کی ایک جڑواں بہن ہے جسے پروانہ کہتے ہیں۔ یہ دونوں کیمراتھر ایل پی اسکول میں پڑھتی ہیں۔

ان کی ٹیچر رقیہ کے مطابق دونوں بچے زبان سیکھنے میں اچھے ہیں۔پاروتی کے والد نلیش بوبی آئی ٹی پروفیشنل ہیں جبکہ ان کی والدہ دینا پربھا انگلش ٹیچر ہیں۔ یہ والدین ہی تھے جو چاہتے تھے کہ ان کے بچے نئی زبان سیکھیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ مستقبل میں ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

پاروتی، جو روانی سے عربی بولتی ہیں، نے حال ہی میں کوزی کوڈ میں تھوڈنور ذیلی ضلعی آرٹس فیسٹیول میں قرآن کی تلاوت کا مقابلہ جیتا۔ چوتھی جماعتکی طالبہکو چھوٹی عمر میں زبان سیکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ جو چیز اس کی کامیابی کو زیادہ قابل ذکر بناتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئی ہے۔