۱۲/اپریل ۲۰۲۱ کو سپریم کورٹ نے ملعون وسیم رضوی کی قرآن مجید سے ۲۶ آیات کی تخفیف کی عرضی پر پھٹکار لگاتے ہوئے عرضی خارج کردی تھی اور ساتھ ہی ۵۰/ہزار کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا جس کے بعد یہ ظالم و جاہل شخص بعض و حسد کی آگ میں جلتا رہا اور پھر ایک بار اپنی ساری منافقت و زہر افشانی کے لیے اپنی بل سے نکل آیا ہے

اس مرتبہ ایک نیا فتنہ برپا کرتے ہوئے اس نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر قرآن پاک کی ۲۶ آیتیں ترمیم کرکے مدارس میں پڑھانے کی درخواست کو قانونی شکل دینےکی اپیل کی ہے

جس کے ذیل میں قرآنی آیات کو دہشت کردی اور نعوذباللہ ان آیات کو آسمانی نا سمجھتے ہوئے بعد میں شامل کردہ قرار دیا ہے جس کے بعد یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وسیم رضوی شیطانی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور قرآنِ مجید میں چھیڑ چھاڑ کرکے اسلام دشمن طاقتوں کی خوشنودی کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کے بیچ فتنے کے بیچ بونا چاہتا ہے

حکومت کو چاہیے کہ اس فتنہ پرور انسان کو لگام کسے وگرنہ ایسا نا ہوکے مجبوراً غیور مسلم نوجوانوں میں سے اس کا علاج کوئی اپنے طریقے سے کر بیٹھے