پرینکا گاندھی کا الزام‘ سہارن پور میں مہاپنچایت سے خطاب۔خانقاہ میں حاضری

لکھنو:مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا، ’’16 ہزار کروڑ کے دو ہوائی جہاز لے لیے اور 20 ہزار کروڑ پارلیمنٹ کی تجدید میں خرچ کر دیے لیکن کسانوں کا بقایہ 15 ہزار کروڑ آج تک نہیں دیا گیا۔ کسانوں سے خطاوب کرتے ہوئے کانگریس قائد نے کہا کہ جن سے آپ امید رکھ رہے ہیں وہ آپ کے لیے کچھ نہیں کریں گے۔ یہ بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں لیکن ان کے الفاظ کھوکھلے ہیں۔‘‘سہارنپور کے چلکانا میں منعقدہ کسان مہاپنچایت سے خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ 56 انچ کے سینے میں چھوٹا سا دل ہے اور وہ بھی چند صنعت کاروں کے لیے دھڑکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قوانین کے ذریعے کسانون کو مارنا چاہتی ہے، جبکہ کسان اپنے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ اس موقع پرسہارنپور کسان مہاپنچایت میں شرکت سے قبل پرینکا گاندھی کی مندر اور خانقاہ میں حاضری دی۔چلکانا کی کسان مہاپنچایت میں شرکت سے قبل پرینکا گاندھی نے جہاں سب سے پہلے شاکمبری دیوی کے مندر میں درشن کیے وہیں خانقاہ رائے پور شریف میں بھی حاضری لگائی۔کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اتر پردیش کے ضلع سہارنپور میں اس موقع پر کثیر اجتماع سے خطاب کیا۔ پرینکا گاندھی نے ہزاروں لوگوں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت کو کسان مخالف، مزدور مخالف اور عوام مخالف قرار دیا۔ متنازعہ زرعی قوانین کے تعلق سے کسانوں کی جاری تحریک کا تذکرہ کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’یہ آپ کی زمین کی تحریک ہے، آپ پیچھے مت ہٹیے۔ ہم کھڑے ہیں، جب تک یہ بل واپس نہیں ہوتے تب تک ڈٹے رہیے۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’جب کانگریس کی حکومت آئے گی تو یہ سبھی بل واپس ہوں گے اور ا آپ کو ایم ایس پی کی پوری قیمت ملے گی۔‘


اپنی رائے یہاں لکھیں