“میں ایک مرتبہ پھر کتابیں اکھٹی کررہی ہوں تاکہ طالبان کے آنے کے بعد اسکول دوبارہ بند کرنا پڑا تو میرے پاس کم سے کم یہ کتابیں تو موجود ہوں“ یہ الفاظ ہیں شہلا کے جو افغان شہری ہیں۔ شہلا آج کل کابل کی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔ اس وقت شہلا کی عمر تقریباً 60 سال کے قریب ہے لیکن ماضی کے بارے میں شہلا بتاتی ہیں کہ طالبان کی حکومت کے وقت انھوں نے لڑکیوں کو پڑھانے کے لئے ایک خفیہ اسکول قائم کیا ہوا تھا جس میں 20 لڑکیاں پڑھتی تھیں لیکن کچھ ہی عرصے میں ان کی تعداد کم ہو کر 4 رہ گئی جن میں سے دو ان کی اپنی بیٹیاں تھیں۔ اب امریکی فوج کے افغانستان سے جانے اور طالبان کی افغانستان میں پیش قدمی کے بعد شہلا اور دیگر خواتین دوبارہ طالبان حکومت سے خوفزدہ ہیں۔

 

افغانستان میں خواتین کی آبادی کا تناسب 50 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ ایسے میں وہاں کی خواتین گھریلو دستکاری سے لیکر دیگر شعبوں میں حصہ لے کر افغانستان کی تباہ شدہ معیشت کو چلانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔ جبکہ امریکی فوج کی آمد سے پہلے 90 کی دہائی میں طالبان حکومت کی جانب سے افغان خواتین پر سخت پابندیاں عائد تھیں البتہ اب طالبان کا کہنا ہے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’خواتین ہوں یا مرد دونوں کے لیے تعلیم انتہائی اہم ہے۔ تاہم خواتین کے لیے ایک خصوصی اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور انھیں پڑھانے کے لیے خواتین اساتذہ کو ہی تعینات کرنا چاہیے۔‘

 

امریکی افواج کی رخصتی اور طالبان کی افغانستان میں آمد
افغانستان میں تقریباً 20 سال کے قبضے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلان کے مطابق اس سال ١١ ستمبر کو امریکی افواج ، افغانستان چھوڑ دیں گی۔ حالیہ خبروں کے مطابق طالبان اب تک شمال مشرقی صوبوں بدخشان اور تاخر کے کئی اضلاع سمیت 12 اضلاع پر قبضہ کرچکے ہیں۔ جبکہ افغانستان کے پڑوسی ملک تاجکستان کے سرکاری میڈیا کے مطاق 300 افغان فوجی نے بخشاں میں جاری لڑائی کے بعد تاجکستان میں پناہ لی ہے جسے انسانی ہمدردی کے ناطے پناہ دے دی گئی ہے۔ صوبہ ہلمند اور قندھار میں بھی جنگی صورتحال ہے جبہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ان دو صوبوں کے بہت سے اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔

افغان وزیرِ داخلہ عبدالستار مرزا خوال اس سارے معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ “یہ صورتحال انتظامی معاملات کی وجہ سے پیش آئی۔ طالبان بڑے شہروں پر کبھی قبضہ نہیں کرسکیں۔ صوبے ہماری ڈیڈ لانز ہیں۔ طالبان اہم سپلائی روٹس پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن افغان فورسز انھیں پسپا کردیں گی“

امریکہ، افغانستان میں کیوں ناکام ہوا؟
صرف افغانستان میں ہی نہیں بلکہ عراق بھی امریکی پالیسی سازوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن اس موقع پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ دنیا کا ایک طاقتور ملک جو بیس سال تک کسی ملک میں اپنی فوج رکھ سکتا ہے اسے کس وجہ سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا؟ اس سوال کا جواب قیام امن اور تنازعات پر تحقیق کرنے والے جرمن محقق کونراڈ اشٹیٹر نے اپنے مطالعے ‘افغانستان کی تاریخ‘ میں دیتے ہوئے لکھتے ہیں

اشٹیٹر نے دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ افغانستان میں دور دراز کے دشوار گزار علاقے، شہر اور دیہات کے درمیان تنازعات، فرقہ پرستی، متنوع ثقافتوں اور طبقاتی نظام پر مبنی معاشرے کی طرف اشارہ کیا ہے۔شٹیٹر لکھتے ہیں، ”ایک طرف شہری معاشروں میں انسانی حقوق، جمہوریت کے نفاذ اور خواتین کے لیے مساوی حقوق جیسے اصولوں پر تیزی سے عملدرآمد نہیں کرایا جاسکا اسی وجہ سے طالبان خاص طور پر جنوبی افغانستان کے دیہی علاقوں میں وسیع حمایت کے لیے پرامید دکھائی دیتے ہیں۔‘‘

اسلامک اسکالر اشٹیفان وائڈنر بھی اس مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ وائڈنر کے مطابق مغربی ممالک نے نہ صرف افغانستان بلکہ لیبیا اور عراق میں بھی بہت بلند اور خیالی اہداف مرتب کیے تھے۔
افغان وزیرِ داخلہ عبدالستار مرزا خوال اس سارے معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ “یہ صورتحال انتظامی معاملات کی وجہ سے پیش آئی۔ طالبان بڑے شہروں پر کبھی قبضہ نہیں کرسکیں۔ صوبے ہماری ڈیڈ لانز ہیں۔ طالبان اہم سپلائی روٹس پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن افغان فورسز انھیں پسپا کردیں گی“

امریکہ، افغانستان میں کیوں ناکام ہوا؟
صرف افغانستان میں ہی نہیں بلکہ عراق بھی امریکی پالیسی سازوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن اس موقع پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ دنیا کا ایک طاقتور ملک جو بیس سال تک کسی ملک میں اپنی فوج رکھ سکتا ہے اسے کس وجہ سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا؟ اس سوال کا جواب قیام امن اور تنازعات پر تحقیق کرنے والے جرمن محقق کونراڈ اشٹیٹر نے اپنے مطالعے ‘افغانستان کی تاریخ‘ میں دیتے ہوئے لکھتے ہیں

اشٹیٹر نے دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ افغانستان میں دور دراز کے دشوار گزار علاقے، شہر اور دیہات کے درمیان تنازعات، فرقہ پرستی، متنوع ثقافتوں اور طبقاتی نظام پر مبنی معاشرے کی طرف اشارہ کیا ہے۔شٹیٹر لکھتے ہیں، ”ایک طرف شہری معاشروں میں انسانی حقوق، جمہوریت کے نفاذ اور خواتین کے لیے مساوی حقوق جیسے اصولوں پر تیزی سے عملدرآمد نہیں کرایا جاسکا اسی وجہ سے طالبان خاص طور پر جنوبی افغانستان کے دیہی علاقوں میں وسیع حمایت کے لیے پرامید دکھائی دیتے ہیں۔‘‘

اسلامک اسکالر اشٹیفان وائڈنر بھی اس مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ وائڈنر کے مطابق مغربی ممالک نے نہ صرف افغانستان بلکہ لیبیا اور عراق میں بھی بہت بلند اور خیالی اہداف مرتب کیے تھے۔