• 425
    Shares
سبکدوش افغان صدراشرف غنی اور نائب صدرامراللہ صالح کابل سے تاجکستان پہنچ گئے

العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ افغانستان کے سبکدوش صدر اشرف غنی اتوار کو دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخلے کے بعد بہ ذریعہ طیارہ پڑوسی ملک تاجکستان چلے گئے ہیں۔

کابل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اشرف غنی کے ساتھ ان کے نائب صدر امراللہ صالح بھی کابل ائرپورٹ سے طیارے پر سوار ہوئے تھے اور وہ پڑوسی ملک تاجکستان پہنچ چکے ہیں۔ان کی کابل سے روانگی کی ایک ویڈیو بھی منظرعام پرآئی ہے۔

اشرف غنی نے فارسی زبان میں ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔وہ اپنے اعمال کے اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔لوگوں کو اس صورت حال میں ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ان حالات میں ہماری مدد فرمائیں اورافغانستان کے ایک پُرامن مستقبل کی جانب ہماری رہ نمائی فرمائیں۔‘‘

قبل ازیں ذرائع نے العربیہ کو بتایا تھا کہ طالبان کے کابل میں داخلے کے بعد اشرف غنی عہدۂ صدارت سے دستبردار ہوسکتے ہیں۔افغان وزارتِ داخلہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ انتقال اقتدارکا عمل پُرامن طریقے سے اور کسی لڑائی کے بغیر مکمل ہوگا۔اس مقصد کے لیے طالبان اوراشرف غنی کی حکومت کے نمایندوں کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔

خلاصہ

افغان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو دارالحکومت کابل میں داخل ہوچکے ہیں

عینی شاہدین کے مطابق مسلح جنگجوؤں کو کابل داخلے کے دوران بہت کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے

طالبان نے جنگجوؤں کو حکم دیا ہے کہ کابل میں تشدد سے گریز کریں اور ایسے لوگوں کو حفاظتی مقامات پر منتقل ہونے دیں جو دارالحکومت سے نکلنا چاہتے ہیں

امریکہ نے کابل سے اپنے سفارتی عملے کی واپسی کا آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ برطانوی شہریوں اور عملے کی واپسی کے لیے قریب 600 فوجی تعینات کیے گئے ہیں

کابل سے قبل جلال آباد اور مزار شریف پر طالبان نے مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا

امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ افغان فوج کو خود ذمہ داری لینا تھی۔

امریکی اور غیر ملکی افواج طالبان کے ساتھ معاہدہ کے تحت بیس سال بعد افغانستان سے واپس جا رہی ہیں اور غیر ملکی افواج کا انخلا 11 ستمبر تک مکمل ہو جائے گا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔