محمدتقی.(9325610858)

سال گزشتہ 2020 ءمیں کورونا لہر کی نذر ہونیوالوں کے سوگ میں جاری اشک ابھی خشک بھی نہ ہوپائے تھے کہ کورونا کی دوسری بے رحم لہر سونامی بن کر انسانوں پر ٹوٹ پڑی! روزانہ سینکڑوں جانوں کواپنی آغوش میں لے کر انھیں موت کی ابدی نیند سُلارہی ہے ۔ کورونا (کوویڈ۔19 )کی یہ دوسری لہر پہلی لہر سے کہیں زیادہ ظالم اور خطرناک ہے ۔مریض دیکھتے ہی دیکھتے ملکِ عدم کوچ کرجاتا ہے ۔یہ دردک منظر دیکھ کر عقل محو ے تماشہ ہے۔ دل ِبرباد غم سے نڈھال ہے ۔آنکھوں سے آنسوﺅں کی نہ تھمنے والی برسات جاری ہے ۔یہ کیفیت اُن ورثاءکی ہے جن کے رشتہ دار کورونا سونامی کی نذر ہوچکے ہیں۔ اور مرنے و الے اپنے پیچھے یادوں کی جِھلملاتی کہکشاں چھوڑ جاتے ہیں۔
جانے والے کبھی نہیں آتے

جانے والوں کی یاد آتی ہے

حالات اتنے خراب ہیں کہ کوئی دوا ‘کوئی تدبیر ‘کوئی علاج ‘کوئی نسخہ کارگر نہیں ہے ۔ سب ناکام ہوچکے ہیں۔انسان مجبور ہے۔معالج پریشان ہیں ۔ مریضوں کے ساتھ ہی انھیں اپنی خود کی زندگیوں کوبچانے کی فکر رات دن کھائی جارہی ہے ۔ حکومت اور کورونا وباءکو کنٹرول کرنیوالی سرکاری ایجنسیاں ناکام دیکھائی دے رہی ہیں۔ اب حکومت کے نزدیک اس وبا کو وروکنے کاواحد علاج لاک ڈاون ہی رہے گیا ہے ۔یہ علاج وباءکو روکنے سے قاصر تو ہے ہی لیکن کئی نئے مسائل کوجنم بھی دے رہا ہے ۔اورر تعجب ہے! حکومت ہے کہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ۔ اب تو یہ خوف بھی کھاے جارہا ہے کہ اگر مریضوں کی تعداد میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہاتو عجب نہیں کہ دواخانوں کے باہر مریضوں کو لٹاکر ڈاکٹر علاج کرنے لگیں گے ۔

اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا
خانگی دواخانوں میںزیرعلاج مریضوں کے رشتہ داروں پردو طرح کی اُفتاد آن پڑی ہے ۔ایک تو اُن کی جیبیں اوربنک اکاونٹ خالی ہورہے ہیں ۔ دوسرے انھیں اپنوں کی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑرہا ہے ۔ مرض تو جانے سے رہا ‘مگر مریض اس دنیا سے چلا جارہا ہے ۔باپ کواپنے لخت ِ جگر ‘بیٹے کو اپنے شفیق باپ ‘بیٹی کو اپنی چہیتی ماں ‘ شوہر کو اپنی بیوی ‘ بیوی کواپنے ہمدم دیرینہ شوہر سے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے بچھڑنا پڑرہا ہے ۔ مرحومین کے ورثاءپیکرِ غم بنے ہوئے ہیں ۔ڈبڈبائی آنکھیں آسمان کی طرف حسرت ویاس سے دیکھ رہی ہیں۔ دعاﺅں کاسلسلہ دراز ہے ۔ایسا لگتا ہے ‘آسمان والا اپنے بندوں سے ناراض ہے۔

کورونا وباءکے حوالے سے جائزہ لیںتو اس وقت مہاراشٹر ملک کی سب سے زیادہ ہاٹ اسپاٹ ریاست بن چکی ہے اورا س شہر ممبئی ‘ پونا ‘اورنگ آباد ‘ناندیڑ میں مریضوں اور اموات کی تعداد دیگر شہروں کے تناسب سے بہت زیادہ ہے۔صوفیوں ‘سنتوں ‘اولیاءاللہ ‘رُشیوں ‘منیوں کے مقدس شہر نگاراں ناندیڑ میں کورونا کی دوسری لہر اب تک کئی لوگوںکو نگل چکی ہے ۔تعجب ہے پھر بھی بھوکی ہے ۔کورونا کا یہ موت کا رقص کب ختم ہوگا؟ اس سوال کا جواب حکومت کے پاس نہیں ہے اسلئے یہ سوال ہرکوئی اپنے معبود حقیقی سے پوچھ رہا ہے۔ کورونا کے بے رحم ہاتھوں ‘موت کی آغوش میں دم توڑنے و الوں میں کیا ہندو ‘کیا مسلمان ‘ کیاسکھ ‘کیا عیسائی اور کیا نو بودھ سبھی شامل ہیں۔کوئی پہلے تو کوئی بعد میںبچھڑا ہے ۔ مگر بچھڑ رہے ہیں سبھی باری باری!یہ کیا ماجرا ہے ‘مرنیوالوں میں زیادہ تر مالدار اورمتمول افراد ہیں۔غُرباء‘فقراءاورمساکین محفوظ ہیں ۔ یہ اللہ کی مصلحت ہے‘وہ ہی بہتر جانتا ہے ۔موت کے اس بے ہنگم رقص کے ابھی ختم ہونے کے آثار دیکھائی نہیں دیتے ۔ پتہ نہیں کورونا سونامی اورکتنے گھروں اورخاندانوں کواُجاڑدے گی ۔

آے ہے بے کسئی عشق پہ رونا غالب
کس کے گھر جائے گا سیلابِ بلا میرے بعد؟
شہرکے شمشان گھاٹ اور قبرستان بڑابھیانک منظر پیش کررہے ہیں۔ارتھیان اتنی آرہی ہیں کہ شمشان گھاٹوں میںارتھیوں کوقطاروں میں لگایاجارہا ہے ۔ارتھی کواگنی دینے کےلئے گھنٹوں انتظار کرناپڑرہا ہے ۔ مسلم قبرستانوں کامنظربھی عبرت انگیزاورتڑپا دینے والا ہے ۔قبرستانوں میں ایک ہی دن میں کئی قبریں کھودی جارہی ہیں۔ شہر میں کرفیو اورلاک ڈاون ہے ۔ سارا شہر سائیں سائیں کررہا ہے ۔ سائیں ‘سائیں کی آوازیں دہشت اور وحشت پیدا کررہی ہیں ہر شخص ڈراہوا ‘سہما ہوا اورپریشان حال ہے ۔ دلوںپراُداسی اور چہروںپربدحواسی چھائی ہوئی ہے ۔ ناصر کاظمی نے بہت خوب کہا ہے ۔
دل تو میرا اُداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
ایسے پریشان و حیران کُن لمحے انسانی تاریخ میں بارہا آتے رہے ہیں ۔اورپھر ختم بھی ہوئے ہیں ۔ تاریخ نے ہمیں درس دیا ہے کہ جب جب بھی انسانوں پراُفتاد پڑی وہ چاہے آسمانی ہو یا سلطانی ‘اللہ کے بندوں نے اپنے رب کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔ ا س کے حضور میں کان پکڑ کر گناہوں سے توبہ کی ہے ۔گڑگڑا کر دعائیں کی ہیں ۔تب کہیں عذاب کے سیاہ بادل چھٹے ہیں ۔
جمعرات یکم اپریل 2021ئ