سوئٹزرلینڈ میں پہلی مرتبہ فوج میں خواتین اہلکاروں کو خواتین کے انڈر ویئر پہننے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس کا مقصد فوج میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔

موجودہ نظام کے تحت فوج میں سب کو ایک ہی طرح کا یونیفارم دیا جاتا ہے، جس کے باعث خواتین کو بھی مردوں والا ہی انڈرویئر پہننے پڑتا تھا۔ اگلے ماہ سے اس پر عمل شروع ہو جائے گا جس کے تحت خواتین کو موسم سرما اور گرما کے لیے علیحدہ علیحدہ دو اقسام کے انڈر ویئر مہیا کیے جائیں گے۔

سوئٹزر لینڈ کی فوج میں خواتین کی تعداد ایک فیصد بنتی ہے۔ تاہم سنہ 2030 تک فوج میں خواتین کی یہ تعداد 10 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ماریانے بِنڈر جو سوئس نیشنل کونسل کی ممبر ہیں بتاتی ہیں کہ خواتین کو موزوں انڈر ویئر دیے جائیں گے جس سے مزید خواتین کو حوصلہ ملے گا کہ وہ فوج کا حصہ بنیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ابھی جو یونیفارم ڈیزائن کیا جاتا ہے وہ صرف مردوں کو نظر میں رکھ کر کیا جاتا ہے۔ تاہم اگر فوج صحیح معنوں میں سب کی نمائندہ بننا چاہتی ہے تو پھر مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہو گی۔
ابھی تک خواتین کو کھلی فٹنگ میں مردوں والے انڈروئیر ہی دیے جاتے تھے جو اکثر سائز میں بڑے ہوتے تھے اور پہننے میں بھی آرام دہ نہیں تھے۔ فوج کے ترجمان کاج گنر سیورت کا کہنا ہے کہ فوج کی طرف سے کپڑے اور جو دیگر اشیا فراہم کی جاتی تھیں اب وہ پرانی ہوتی جا رہی ہیں۔
فوج کے ترجمان نے سوئٹزر لینڈ کی ایک نیوز ویب سائٹ واٹسن کو بتایا کہ گرمیوں کے لیے خواتین کے شارٹ انڈروئیر جبکہ سردیوں کے لیے لانگ انڈر ویئر دیے جائیں گے۔

کاج گنر سیورت نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ دیگر اشیا کی سپلائی میں بھی تبدیلیاں متعارف کروانے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے، جس میں جنگی لباس کے علاوہ حفاظتی واسکٹ اور بیک پیک بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق توجہ اس بات پر ہی ہو گی کہ یہ سب انڈر ویئر خواتین کے ناپ کے ہوں اور قابل عمل ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل تو ناپ کی ایک حد مقرر تھی مگر اب سے ایسا نہیں ہو گا۔

ملک کے وزیر دفاع ویولا امارڈ نے بھی اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

سوئٹزر لینڈ کی فوج کا موجودہ یونیفارم پہلی مرتبہ سنہ 1980 کی دہائی میں متعارف کرایا گیا تھا۔ (بی بی سی اردو ڈاٹ کام)