Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

یہ ظلم کے خلاف حق کی لڑائی ہے!

ایک ایسے وقت میں جب ملک شہریت ترمیم قانون کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا ہے ملک کی امن پسند، جمہوریت پسند اور انسانیت نواز عوام اس قانون کی کھل کر مخالفت کر رہی ہیں بچوں سے لے کر بزرگ تک اس انقلابی ماحول میں اپنے قربانی پیش کر رہے ہیں

وہی انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی نظم ” ہم دیکھیں گے” پر تنازعہ ہوا ہے کالجس اور یونیورسٹیز کے طلباء اپنے احتجاج میں جوش بڑھانے کیلئے فیض احمد کی نظم گنگنا رہے ہیں لیکن یہ نظم الیکٹرانک میڈیا کو ہضم نہیں ہوئی جس طرح جے این یو جامعہ ملیہ ، علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا کو دہشت گرد یا ملک کا غدار کا لقب دیا گیا اسی طرح فیض احمد فیض کی نظم کو ہندو مخالف قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے آئی آئی ٹی کانپور نے اس نظم پر کمیٹی بنائی ہے جو طے کریں گے کہ نظم ہندو مخالف ہے یا نہیں؟

ہم دیکھیں گے پر نیوز چینل گھنٹوں مباحثہ کر رہے ہیں اصل میں فیض احمد فیض نے یہ نظم جنرل ضیاءالحق کی پابندی کے خلاف تھی ضیاء الحق نے پاکستان میں کالے کپڑوں پر پابندی لگائی تھی وجہ صاف تھی کالے کپڑے احتجاج کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور جنرل ضیاءالحق کو کسی قسم کا احتجاج قابل قبول نہیں تھا لیکن آج یہ نظم شہریت ترمیم قانون کی مخالفت کرنے والے ملک کی اکثریت عوام کا ہتھیار بنی ہوئی ہے وہی مودی حکومت کے لیے یہ درد سر بنی ہوئی ہے حکومت نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ فیض احمد فیض، علامہ اقبال، حبیب جالیب کی تحریروں کو بھی مخالفت کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے شہریت ترمیمی قانون کو نافذ کرنے کے بعد ملک بھر میں جو انقلابی ماحول امڈا ہے اس میں ہم دیکھیں گے نظم ملک کے نوجوانوں کی آواز بن گئی ہے کوئی نہیں جانتا تھا کہ ضیاء الحق کے خلاف لکھی گئی نظم ایک دن دنیا بھر کی جمہوریت پسند عوام کا ترانہ بن جائیگی

حکومت کی بزدلی دیکھیے پہلے جامعہ کے گرلز ہاسٹل میں طلبہ کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کیا گیا اترپردیش میں پر امن احتجاج کر رہے لوگوں پر فائرنگ کی گئی جس میں 22 لوگ شہید ہوئے اور چار ایسے لوگوں پر کیس درج کیا گیا جو کئی سال پہلے مر چکے ہیں اور اب اس پر امن ترانے سے خوفزدہ ہے وہی حکومت کی ٹٹو بنی میڈیا بوکھلائی ہوئی ہے اور اس حد تک خوفزدہ ھیکہ اب نظموں پر پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور پابندی کے لیے دھرم کا سہارا لیا جا رہا ہے

ہم دیکھیں گے نظم کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے اسی کو ڈکٹیٹرشپ کہا گیا ہے جب حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اپنی مخالفت نہیں دیکھنا چاہتے تو اس طرح کی پابندی عائد کرتے ہے پہلے غیر آئینی قانون نافذ کرتے ہیں جب مخالفت ہو تو پولیس کو آگے کرتے جو ان سے بھی بات نہ بنے تو پابندی لگا دیتے پچھلے بھیم آرمی چیف چندر شیکھر آزاد پچھلے اٹھارہ دن سے تہاڑ جیل میں قید ہیں کیونکہ حکومت اورپولیس چندر شیکھر آزاد سے خوفزدہ ہیں دہلی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر چندر شیکھر کی کہے گئے الفاظ ان ظالم حکمرانوں کی نیند اڑانے کے لیے کافی ہے چندر شیکھر آزاد جیل میں بند ہے لیکن دہلی کی جمہوریت پسند عوام سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے یہ ملک کی تاریخ کا نیا باب ہے جو ملک کی عوام اپنی قربانیوں سے رقم کر رہے ہیں

فیض احمد فیض کی نظم میں ذکر ہے کہ

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے

شاید اس مصرے نے حکومت کو خوفزدہ کر رکھا ہے کہ کہیں سچ میں تخت نہ گرا دیا جائے کیونکہ اس شہریت ترمیم قانون کے بعد طلبہ میں جو انقلابی جوش دیکھاگیا اس کا مشاہدہ کرے تو یہ بات عیاں ہے کہ ملک کی عوام اور طلباء کسی بھی طرح کسی بھی قیمت پر احتجاج واپس لینے تیار نہیں ہیں جو حوصلہ کشمیری اور فلسطین میں ہوتا ہے یا کی لڑائی جیتیں گے یا جام شہادت نوش کریں گے حال ہی میں جودھپور میں ریلی کو مخاطب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ شہریت ترمیم قانون کو لے کر حکومت اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ طلبہ کا جنون اورعوامی مخالفت اس بات کی دلیل ہےکہ حکومت پیچھے ہٹے نہ ہٹے طلبہ کسی بھی قیمت پر ایک انچ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہے حکومت نے لاٹھی گولی گیس سب کا استعمال کیا لیکن طلباء اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور اس تحریک کو ملک گیر عوامی تحریک بنانے کا سہرا بھی طلبہ اور اس نظریے کے عوام کے سر ہے یہ ظلم کے خلاف حق کی لڑائی ہے جو ہندوستان میں ہی ممکن ہے اس تحریک کی وجہ سے آج حکومت پریشان ہیں جسے وہ ظاہر نہیں کر رہے ہیں لیکن وزیروں کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تحریک نے حکومت کو سوچنے پر مجبور کیا حکومت نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اس قانون کی مخالفت میں پورا ملک ایک ہو جائیگا لیکن اس ملک کی خوبصورتی رہی ہے کہ سیاسی پارٹیاں کتنا بھی بانٹے جہاں جمہوریت اور حقوق کی بات آتی ہے وہاں پورے مذاہب متحد ہوکر اس کی مخالفت کرتی ہے کثرت میں وحدت ہماری شان ہیں اور اس پر کبھی کوئی حرف نہیں آسکتا یہ نئی نسل اپنے حوصلے اور عزم سے ثابت کر رہی ہیں

بہرکیف ہم بات کر رہے تھے ” ہم دیکھیں گے ” نظم کی جس میں فیض احمد فیض نے تاناشاہ کو بت کہا ہے جسے غرور و گھمنڈ ہوتا ہے کہ میں سب سے طاقتور ہوں اور میں جو چاہتا ہوں وہ کر سکتا ہوں

لکھنے والا بھی مسلمان اور جس کے خلاف لکھی گئی وہ بھی مسلمان اس کے علاوہ پاکستان بھی مسلمان توپھر یہ نظم ہندو مخالف کیسے ہوگی ؟ حکومت اس نظم کو ہندو مسلم میں بانٹ کر فرقہ واریت کرنا چاہتی ہے کانپور یونیورسٹی جہاں سے اس نظم پر تنازعہ شروع ہوا جس طالبعلم نے یہ نظم پڑھی وہ بھی ہندو ہے تو پھر کب تک حکومت اپنی ناکامی کوچھپانے ہندو مسلم کا سہارا لیتی رہیں گی اصل میں یہ نظم حکومت کی ناکامی اور ہٹلر شاہی کو بیان کرتی اور جب تک دنیا میں تاناشاہ باقی رہیں گے تب تک یہ نظم پڑھی جاتی رہیں گی اور جب تک ناانصافی اور ظلم ہوگا تب تک احتجاج جاری رہے گا.

شہاب مرزا، 9595024421