ابھی اس معاشرے میں بسنے والی بے شمار لڑکیاں رفیدہ بننے کے نہج پر پہنچادی گئی ہیں ۔ اس سے پہلے کہ یہ سبھی سولی پر لٹکنے پر مجبور کی جائیں معاشرہ متوجہ ہو ۔

یہ رفیدہ ہے 19 سال کی عمر میں شادی ہوئے اور 8 ماہ بعد اپنے پیٹ میں سانس لے رہے سات ماہ کے بچے کے ساتھ چھت سے لٹک گئی ۔
شادی شدہ بچی جس نے زندگی کے خوشی کے صرف دوماہ دیکھے اور سلک ملز کالونی سعادت نگر اورنگ آباد میں اپنے کوکھ میں چھ ماہ کے بچے کے ساتھ کریہہ دنیا سے پردہ کرلیا ۔
جب سے اس معصوم حاملہ کے پھانسی لے کر خود کشی کی خبر سنی ہے تبھی سے ایک کسک ہے دل میں ہے
اس کی خودکشی کو خودکشی کہا جائے یا اسے قتل کہا جائے ۔
اورنگ آباد کے سبھی مقامی اخبارات نے یہ خبر شائع کی ہے کہ

” اس بچی پر ظلم کیا گیا، دولاکھ کا مطالبہ کیا گیا
والد نے پہلے پچاس ہزار روپے تو دے دئیے اور وعدہ کیا کہ دولاکھ کا انتظام کردیں گے ۔اور پھر اس انتظام کا باب ختم ہوا اس معصوم کے پھانسی سے ”
اس بچی کی والدہ سے بھی ملاقات کیا اور ان چاچی سے بھی
” ہائے دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں ”
ناقابل بیان کرب ، دیکھ کر ہر ماں کا جگر چیر دینے والا ملال تھا اس چہرے پر، ایک ہی جملہ کہا
” ہاتھ سے بچی پھسل گئی، کچھ دن پہلے ہی جھگڑا سلجھا کر بھجوایا تھا سمجھا بجھا کر ”
بے آواز آنسو جاری ہوگئے ۔

اخبارات سے پتہ چلا کہ پیسے کا مطالبہ تھا
ظاہر ہے بیٹی کا دل باپ کے دل کے ساتھ دھڑکتا ہے، باپ کو پیسوں کا انتظام کرنا ہے یا باپ پر شادی کا قرض ہوگیا اس خیال سے ہی بیٹی کے حلق میں پھانس آجاتی ہے دنیا کی رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں ۔
ظالم اور سفاک سماج بیٹی اور باپ کے اس روحانی تعلق کو کم ہی سمجھ سکتا ہے اس کریہہ دنیا میں مادہ پرست سسرالیوں کو کیا پتہ کہ جب وہ کسی بچی کے سامنے وہ اس کے والد کو گالی دیتے ہیں یا اس کے والد سے کوئی مطالبہ کرتے ہیں یابیٹیوں کو چھوٹی سی غلطی پر بغیر طلاق کے باپ کی دہلیز پر دس دس پندرہ پندرہ ماہ چھوڑ کر بغیر طلاق کے لٹکائے رکھتے ہیں تو ان مجبور بیٹیوں پر کیا گزرتی ہے۔

اللہ کے پاس جوابدہی کا احساس مادہ پرست معاشرے کے پاس ہوتا ہی کب ہے ۔؟

اس واقعہ کو بہت سنجیدہ لینا چاہیے ۔خواتین کی مسلم تنظمیں اور دیگر این جی اوز کے ذریعہ روفیدہ کے قتل اور سسسرالی رویہ پر خواتین نے احتجاجی مارچ کرنا چاہیے ۔
الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام نے سخت سزا کا مطالبہ کرنا چاہیے ۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ
طلاق کے نئے قانون کے بعد معاشرہ میں ظلم میں اضافہ ہوا ہے، اور انتہائی بدبودار کردار سے معاشرہ مزید تعفن کا شکار ہوا ہے ۔
نئے طلاق کے قانون نے ظلم کے لیے سہولت فراہم کی ہے مردوں کے لیے ۔
لڑکوں کے غیر ذمہ دارانہ رویہ میں اضافہ ہوا ہے ۔ تیزی کے ساتھ کم عمری میں شادیاں اور بہت تیزی کے ساتھ بغیر طلاق کے بچیوں پر ظلم، کئی ایسے کیسیز ہی
جو اپنی بیویوں کو باوجود نبھا نہ کرنے کے طلاق نہیں دے رہے ۔

ظلم کی انتہا. کی جائے کہ وہ بغیر طلاق کے ان کا گھر ہی چھوڑ دیں ۔
بعض خواتین بغیر طلاق کے تین تین چار چار سال سے اپنے والدین کے گھر چھوڑ دی گئی ہیں ۔
اچھا آپ عام مشاہدہ کریں کہ جتنے ایسے کیس ہیں جہاں بیویوں کو والدین کے گھر چھوڑ دیا گیا ہے اور خلع لینے پر مجبور کیا جارہا ان سبھی خواتین کے گود میں ایک بیٹی یا دو بیٹیاں ہوں گی ۔ تبھی بیک نظر سمجھ جائیے کہ جھگڑے کی اصل وجہ بیٹی کی پیدائش ہے

بیشتر تو ہم نے یہی دیکھا کہ ساری شکایتیں بیٹی پیدا ہوتے ہی ہوتی ہے اور پڑھی لکھی اگر خاتون ہو اور جاب کرتی ہو تو غیر ذمہ دار مرد کی کوشش یہ ہوگی کہ یہ خاتون اپنی بیٹی کا بوجھ خود ڈھوئے اور مرد آسانی کے ساتھ فرار اختیار کرلے ۔

آپ چاہیں جتنا آنکھ بند کریں اس معاشرے میں جہاں رات دن ہم خواتین کو نرم خوئی ، برداشت کی تلقین کرتے ہیں وہیں مردوں کے رویہ کا ذکر نہ کرنا بے اعتدالی میں شمار ہوگا ۔
یہ رویہ بھی ہے کہ اکثر گھروں میں زیور سامان، بینک بیلنس لڑکی سے سب لے لیا گیا اور پرانی باتوں کو ایشو بناکر والدین کے گھر چھوڑ دیا جائے ، اب لڑکی کے والدین اپنے ساتھ لائے بچہ یا بچی کے ساتھ بوجھ ڈھوتے رہیں ۔
یا لڑکی کے والدین سے لڑکے والوں کے رقم کے مطالبے شروع رہتے ہیں ۔
رشتہ ہونے تک لڑکا کسی کمپنی میں جاب پر رہے گا اور جوں ہی شادی ہو اسے اپنے ذاتی بزنس کے لیے لڑکی کے والد سے رقم کا خیال آتا ہے ۔
یہ ایک رفیدہ کی کہانی نہیں ہے یہ تقریبا ہر گھر کی کہانی ہے ۔

کاونسلنگ سینٹر، تصفیہ کمیٹیاں، یا دارالاقضاء کا اپنا رول اسی وقت ہے جب شوہر بیوی کا تنازعہ ہو، یا واقعی چپقلش پیدا ہوئی ہو ۔
کتنی شکایتیں ہیں مجبور والدین کاونسلنگ کے لیے آتے ہیں ، کہ ہماری بچی کو فلاں بات پر چھوڑ دیا پورا لاک ڈاون بہت ہی کم سرمائے میں وہ اپنی بیٹی اور اسکے بچوں کو پالتے رہے ہیں طرہ یہ کہ ملازمت نہ ہونے کی سزا لڑکی والدین کے حصے میں آئی ہے ۔
بغیرتی کا سیلاب اپنے حدود سے تجاوز کرے اس کے خلاف سخت اقدام کے بطور اپنی لڑکیوں کو مسائل کے بڑھتے ہی قانونی فہم پیدا کرنا لازم ہے ۔

مادہ پرست، اور مال کی ہوس زدہ معاشرے کا سفاکانہ علاج یہی ہے کہ سروے کیا جائے کہ بلاوجہ شوہروں نے دس دس ماہ سے اپنی بیویوں کو بہانے بنا کر والدین پاس رکھا ہے ۔ یا خطیر رقم کا مطالبہ کرتے ہیں جو دسترس سے زیادہ ہے
اس صورت میں بچیوں کو قانوں کی ان دفعات کو سمجھانا لازم ہے
کہ وہ خود کشی کے بجائے قانون کا سہارا لیں اور مادہ پرست غیر ذمہ دار افراد کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کروائیں تاکہ مادہ پرستی اور ہوس کی جو لہر انسانی جان کے تکریم پر غالب آ چکی ہے اسکا سدباب ہوسکے ۔
میکے میں بیویوں کو طویل عرصے بٹھاکر ذہنی مریض بنادینے والے افراد پر سخت ترین قانون بننا چاہیے ۔ کیونکہ اس نئے قانون کے بعد لوگ بیٹی کو بچا تو لیں گےپڑھا بھی لیں گے شادی بھی کروادیں گے لیکن معاشرے کے زہریلے سانپ انہیں کہاں بخشیں گے ۔ سماج کے ایسے ناسور پر نقب لگانا وقت کی ضرورت ہے ۔
طلاق کے بعد دوسری شادی کے آپشن کو حوصلے کے لیے لڑکیوں کے سامنے واضح ہونا چاہیے ۔
ہمیں طلاق کے خلاف بلاشبہ ماحول سازی کرنی ہے تاہم اس کا مطلب ظالم کے ظلم کا فروغ اور عورت ظلم سہنے کی طاقت میں اضافہ ہرگز نہیں ہے ۔
جہاں ضرورت ہے کہ غیر ضروری طلاق روکیں ۔
وہیں لازم ہے کہ ظالم کو شیلٹر نہ دیں اسے سماج کے سامنے بے نقاب کریں ۔
جھوٹی عزت کا ہیولا بناکر مظلوم کو خودکشی کی راہ پر نہ لگائیں ۔
وہیں ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ غیر ذمہ دار نوجوان نسل بھی انہی خواتین ہی غیر تربیت یافتہ نسل ہے للہ اپنے بیٹوں کی تربیت کریں ۔
ان میں خدا کا خوف پیدا کریں۔
خدا کی پکڑ سخت ترین ہے جب اس کی زد میں آؤ گے تو نہ دنیا میں جائے پناہ ہوگی نہ آخرت کی سیاہی پیچھا چھوڑے گی ۔
رفیدہ کے والدین کی خاموش آسمان چیرتی آہیں یہی کہتی ہیں کہ قیامت سر سے گزر گئی ۔
خدا کے لیے اپنی بچیوں کو پری میرج کاونسلنگ میں جہاں دنیا جہاں کی تمیز سکھائیے وہاں ظلم سے نجات کے تمام راستے اور زندگی کے اتھل پتھل سے عزت کے نام پر خائف کرنے کے بجائے جینے اور حالات سے نکلنے کا راستے بھی سجھائیے ۔
پری میرج کاونسلنگ میں نہیں تو کم از کم مصالحت اور تصفیہ کروانے والی میٹنگز میں مسئلے کی نوعیت سمجھتے ہوئے بچیوں کو سخت اقدام سے باز رکھنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی آگاہی بھی دیجیے کہ ظالم کے سامنے جھکنے کے بجائے اسکو جھکانا ایمان کا اعلی ترین مرتبہ ہے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں