مقبوضہ بیت المقدس: فلسطین کے حصے غرب اردن کے شمالی شہر طولکرم میں مسلح یہودی دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2سگے فلسطینی بھائی شہید ہوگئے۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ یہودی شرپسندوں کی طرف سے فلسطینی شہریوں کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود 2 فلسطینی جوآپس میں حقیقی بھائی بھی تھے، شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔ شہید ہونے والے فلسطینیوں کی شناخت شافع اور صلاح ابو حسین کے ناموں سے کی گئی ہے، جو 1948ء کے مقبوضہ علاقے باقہ کے رہایشی تھے۔ انہیں طولکرم کی مشرقی کالونی میں آمد کے موقع پر گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ فلسطینی پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ یہودی ا?بادکاروں کی طرف سے کیا گیا۔ حملہ آوروں کے پاس اسرائیلی نمبر پلیٹ والی کار تھی جو فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے تھے۔ دوسری جانب اسرائیلی پولیس کے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے قدیم علاقے کے گرد و نوا ح میں فلسطینی نوجوانوں کے خلاف مداخلت میں ایک یہودی سمیت 7 افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیل پولیس نے مشرقی بیت المقدس میں ایک بار پھر نوجوانو ں کو زود و کوب کیا۔ فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس نے 6 فلسطینی نوجوانوں کو زخمی کیا، جن میں سے 4 کو معمولی چوٹیں آئیں اور 2 کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی فلسطینی نوجوانوں کے خلاف کارروائی میں قریب سے گزرنے والا ایک یہودی باشندہ بھی زخمی ہو گیا۔


اپنی رائے یہاں لکھیں